کار سیلز: ‘آن منی’ کا کلچر مارکیٹ پر غالب

0 1 105

‏COVID-19 لاک ڈاؤن کے خاتمے کے بعد اب پاکستان میں گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہو رہا ہے، لیکن ساتھ ہی مارکیٹ پر ‘آن منی’ کا کلچر  بھی غالب ہے۔ جن خریداروں کو صبر نہیں ہوتا وہ گاڑیوں کی فوری ڈلیوری کے لیے اضافی رقم دینے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔

اس کلچر کی وجوہات:

‘آن منی’ کے ٹرینڈ کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حکومت نے استعمال شدہ کاروں کی امپورٹس پر رکاوٹیں لگا رکھی ہیں۔ اس کے علاوہ امپورٹ گاڑیوں کے ڈیلرز نے قیمتیں بھی بڑھا دی ہیں، جس کی وجہ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں ہونے والی کمی ہے۔ اسی لیے خریداروں کے پاس کوئی لوکل بننے والی گاڑیاں خریدنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، اس کے باوجود کہ پچھلے دو سالوں میں ان کی قیمتیں بہت بڑھی ہیں۔

مختلف گاڑیوں پر ‘آن منی’:

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہونڈا سوِک 1.8 i-VTEC اوریل پر ‘آن منی’ یا ‘پریمیئم’ 80,000 سے 1,00,000 روپے ہے۔ جبکہ ٹویوٹا یارِس پر ‘آن منی’50,000 سے 60,000 روپے ہے۔ 91 لاکھ روپے قیمت رکھنے والی ٹویوٹا فورچیونر ڈیزل 8,00,000 روپے کا ‘پریمیئم’ رکھتی ہے۔

اگر آپ کرونا اور گرینڈ کی طرف آئیں کہ جس کا ڈلیوری ٹائم 2 سے 3 مہینے ہے، تو یہ 2,00,000 روپے ‘آن منی’  پر فوراً مل جاتی ہیں۔ بے صبرے خریدار جو سوزوکی کلٹس کی ڈلیوری کے لیے دو مہینے انتظار نہیں کر سکتے، اسے فوراً خریدنے کے لیے 50,000 سے 60,000 روپے ‘پریمیئم’ دینے کو تیار ہیں۔

ماہرین کے مطابق حکومت اور کسٹمرز دونوں کو اس کلچر کے خاتمے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ ایک طرف ححکومت کو مناسب قانون سازی کی ضرورت ہے اور دوسری جانب خریداروں کو اس کا مقابلہ کرنے کی۔ انہیں اصل قیمت ادا کرکے، اپنی گاڑی بک کروا کر شیڈول پر ڈلیوری لینی چاہیے۔

گاڑیوں کا ‘آن منی’ ٹیبل:

مختلف کاروں کے لیے ‘آن منی’  
کار ماڈلز ‘آن منی’ پاکستانی روپے
ہونڈا سوِک 1.8 i-VTEC اوریل 80,000 سے 100,000
ٹویوٹا فورچیونر ڈیزل 800,000
ہائی لکس ریوو 700,000
ٹویوٹا کرولا 200,000
گرینڈ 200,000
سوزوکی کلٹس 50,000

مزید ویوز، نیوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.