استعمال شدہ کاروں کی امپورٹ سے غیر علانیہ پابندی ہٹانے پر فیصل واوڈا کی گفتگو

0 3 705

وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا نے مبینہ طور پر حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ استعمال شدہ کاروں پر ‘پابندی’ ہٹائی جائے۔ خبروں کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے اُن کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فیصل واوڈا گاڑیوں کی بڑی کلیکشن رکھتے ہیں، وہ بہتر جانتے ہیں۔

لیکن ہمیں حیرت اس بات پر ہو رہی ہے کہ وہ کس پابندی کی بات کر رہے ہیں؟ کیونکہ استعمال شدہ کاروں کی امپورٹ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی امپورٹ کی اِن تین اسکیموں کے تحت ہمیشہ سے اجازت ہے:

  • ٹرانسفر آف ریزیڈنس
  • گفٹ اسکیم
  • پرسنل بیگیج

اصل میں وزارت تجارت (کامرس منسٹری) نے پچھلے سال استعمال شدہ کاروں کی امپورٹ کے حوالے سے قانون میں تبدیلی کی تھی۔ قانون ہمیشہ سے یہی تھا، حکومت نے صرف امپورٹڈ استعمال شدہ گاڑیوں کی عمر میں تبدیلی کی تھی۔ اس سے پہلے یہ 10 سال تھی، جبکہ اب حکومت نے کارز کے لیے 3 سال اور جیپس کے لیے 5 سال کر دی ہے۔

اس طریقے کو تبدیل کرتے ہوئے وفاقی حکومت نے نیا SRO نمبر 52 متعارف کروایا۔ اس SRO کے تحت بھیجنے والا اپنے فارن ایکسچینج اکاؤنٹ سے براہ راست پاکستان کسٹمز کو ڈیوٹی کا انتظام کرے گا۔

اس سے پہلے کوئی بھی شخص کسٹمز کے نام پر پاکستان کے کسی بھی بینک سے پے آرڈر بنوا کر امریکی ڈالرز کے مساوی رقم کی ڈیوٹی کا انتظام کر سکتا تھا۔

حکومت نے یہ تبدیلیاں تب کیں جب اسے اپنی پچھلی پالیسی میں ایک خامی کا پتہ چلا، جس کا کچھ لوگ فائدہ اٹھا رہے تھے۔

سب سے پہلے تو اس کی وجہ سے قیمتی سرمایہ ملک سے باہر جا رہا تھا۔ پھر یہ لوگ ڈیوٹی مقامی کرنسی میں ادا کر رہے تھے۔ اس تبدیلی کے بعد ڈیوٹی بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے اکاؤنٹس سے فارن ایکسچینج کی صورت میں ملک میں آئے گی، یعنی صحیح چینلز سے۔

کیا یہ رائے فیصل واوڈا کو دینی چاہیے تھی؟

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ کیا وفاقی وزیر فیصل واوڈا کو یہ رائے دینی چاہیے تھی؟ حالانکہ وزیر اعظم نے اُن کی رائے سے اتفاق کیا، لیکن یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اگر کسی کے پاس بہت ساری کاریں ہوں تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ تجارت، طریقِ کار اور قانون کو بھی سمجھتا ہے۔ ہمارے خیال میں اس معاملے میں رائے وزارت تجارت (کامرس منسٹری) کی ہی دینی چاہیے کیونکہ یہ اُس کا شعبہ ہے۔

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا ہے کہ گاڑیوں کی امپورٹ پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ بلکہ وفاقی حکومت نے قیمتی سرمایہ باہر جانے سے روکنے کے لیے قانون میں تبدیلی کی ہے۔ کیا اس کا مطلب ہے کہ وفاقی وزیر کو قانون کی سمجھ نہیں ہے؟ یا وہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں؟ کہ جس پر اِس وقت پاکستان میں پابندی عائد ہے۔

واوڈا کی رائے کے ممکنہ اثرات:

اگر وہ پہلے حوالے سے بات کر رہے ہیں تو ہمارے خیال میں انہیں اپنی حکومت کی پالیسی کو دوبارہ پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ لگتا ہے کہ وہ پالیسی میں موجود خامی کو ایک مرتبہ پھر قانون کا حصہ بنانا چاہتے ہیں۔ اور اگر وہ دوسرے پہلو کی بات کر رہے ہیں تو ہمارے خیال میں اس سے پاکستان میں کار مینوفیکچرنگ اور اسمبلنگ سیکٹر میں آنے والے نئے اداروں پر بُرے اثرات پڑیں گے۔

سابق حکومت نے 2016ء میں پاکستان کی پہلی آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (ADP) کے تحت 15 نئی کمپنیز کو گرین فیلڈ اسٹیٹس دیے۔ اس پالیسی کے تحت حکومت نے انہیں جون 2021ء تک کے لیے کمپنیز ٹیکس پر رعایت دی۔ اس کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ ن نے ان اداروں کو کہا کہ اب صرف پاکستانی تارکینِ وطن ہی اپنے ذاتی استعمال کے لیے گاڑیاں امپورٹ کر سکتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ انہیں استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل سطح پر امپورٹ کے بارے میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

اگر حکمران جماعت گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ پر پابندی ہٹاتی ہے تو ان کمپنیز کا کاروبار متاثر ہوگا۔ اس سے مستقبل میں سرمایہ کاری پر بھی اثر پڑے گا کیونکہ نئے ادارے پاکستان پر اعتماد نہیں کریں گے۔

اس کے علاوہ الیکٹرک وہیکل مینوفیکچرنگ کمپنیز بھی متاثر ہوں گی، جو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنا چاہ رہی ہیں۔ اگر استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل امپورٹ کی اجازت مل جاتی ہے تو پاکستان میں کوئی کمپنی اپنی فیکٹری نہیں لگائے گی، کیونکہ انہیں بہت نقصان کا سامنا ہوگا۔

Recommended For You:

Local Automakers Oppose Giving Any Relaxation In Used Car Imports

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.