پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں گھٹانے میں حکومت بے بس

3 900

زیادہ تر آٹو پارٹس مقامی طور پر تیار ہونے کے دعووں کے باوجود حالیہ کچھ عرصے میں گاڑیوں کی قیمتیں بڑھتی ہی چلی جا رہی ہیں، جس پر حکومت نے بتایا ہے کہ قیمتوں کے تعین پر اُس کا کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ 

ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مسئلے پر گفتگو کے لیے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کا ایک اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں موجود عہدیداران نے گاڑیوں کی قیمتیں متعین کرنے کے حوالے سے اپنی بے بسی کا اظہار کیا اور کمیٹی کو بتایا کہ انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EDB) کوئی قانونی اختیار نہیں رکھتا جس کے ذریعے وہ ملک میں کاروں کی قیمتوں کو قابو میں لا سکے۔ آٹو انڈسٹری نجی شعبے سے تعلق رکھتی ہے اور گاڑیوں کی قیمتوں کا فیصلہ کرتے ہوئے بہت سارے عوامل پر غور کیا جاتا ہے۔

ملک میں اقتصادی سُست روی کا عمل: 

پاکستان میں کاروں کی قیمتیں زیادہ تر گزشتہ سال امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں آنے والی کمی کی وجہ سے متاثر ہوئیں۔ البتہ پچھلے چند مہینوں میں مقامی کرنسی مستحکم ہوئی ہے اور اپنی قدر میں کچھ اضافہ بھی کیا لیکن کاروں کی قیمتو ں پر کوئی فرق نہیں پڑا۔ آٹومیکرز تقریباً ہر مہینے ہی گاڑیوں کی قیمتوں میں ردّ و بدل کر رہے ہیں اور اس کی کوئی توجیہہ بھی پیش نہیں کی جا رہی۔ کرنسی کی شرحِ تبادلہ اور حکومت کی جانب سے لگائی گئی ڈیوٹیاں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے دائرے میں آتی ہیں، جو ملک میں گاڑیوں کی قیمتیں طے کرنے کا فیصلہ کرتا ہے۔ 

گاڑیوں کی قیمتیں بڑھانے میں حکومت کا کردار: 

گاڑیوں کی قیمتوں میں ناجائز اضافے کا تعلق بھی کچھ عوامل سے ہے جن میں ٹیکس شرح کے حوالے حکومت کی پالیسیاں بھی شامل ہیں۔ وزیر اعظم کے مشیر برائے تجارت، صنعت و پیداوار عبد الرزاق داؤد نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومت مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی ذمہ دار ہے۔ پچھلے بجٹ میں اس نے کاروں پر متعدد ایڈیشنل ڈیوٹیاں اور ٹیکس لگائیں، جن میں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED)، ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) وغیرہ شامل ہیں۔ پرزہ جات کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال کا بڑا حصہ دوسرے ملکوں سے درآمد کیا جاتا ہے، اور کرنسی کی شرحِ تبادلہ کی وجہ سے ان ڈیوٹیز کے نفاذ نے مارکیٹ میں خام مال کو مہنگا کر دیا۔ کاروں کی فروخت میں آنے والی کمی بھی گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کا نتیجہ ہے۔ 

کیا گاڑیاں بنانے والوں کا لوکلائزیشن کا دعویٰ غلط ہے؟ 

وزیر اعظم کے مشیر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو مزید بتایا کہ مقامی صنعت پرزوں کی 70 فیصد لوکلائزیشن حاصل کر چکی ہے۔ پاک سوزوکی نے ملک میں اب تک سب سے زیادہ لوکلائزیشن کو حاصل کیا ہے یعنی 70 فیصد، جبکہ جاپانی آٹو ادارے بشمول ٹویوٹا انڈس اور ہونڈا اٹلس بالترتیب 65 اور 58 فیصد پرزے مقامی طور پر بنا رہی ہیں۔ ان گاڑیوں کے ڈھانچے، ایکسٹیریئر، انٹیریئر، بریکنگ اور سسپنشن سسٹم وغیرہ مقامی طور پر بنائے جا رہے ہیں، جبکہ ہائی-ٹیک پرزے، جیسا کہ انجن اور متعلقہ پرزے درآمد شدہ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ کاروں کے ماڈلز کی بار بار تبدیلی کی وجہ سے پاکستان میں 100 فیصد لوکلائزیشن کبھی حاصل نہیں کی جا سکتی۔ حکومت قیمتوں کو گھٹانے کے لیے لوکل آٹو مینوفیکچرنگ کو ترویج دینے کا ہدف رکھتی ہے۔ ٹریکٹروں کے معاملے میں سادہ ٹیکنالوجی اور ماڈلز میں بہت زیادہ تبدیلی نہ ہونے کی وجہ سے لوکلائزیشن 95 فیصد ہے۔ 

یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان میں کاروں کے ماڈلز میں بہت تیزی سے تبدیلیاں نہیں دیکھی جاتیں، جیسا کہ وزیر اعظم کے مشیر نے خود بتایا۔ اس کی ایک زندہ مثال ہونڈا سٹی کا موجودہ ماڈل ہے، جس کی پیداوار 2009ء سے بغیر کسی ماڈل کی تبدیلی کے پچھلے 11 سال سے جاری ہے ۔ آٹومیکر کی جانب سے قیمت میں اضافے کے لیے اسے بار بار فیس لفٹ ہی دیا گیا۔ ایک اور مثال سوزوکی مہران کی ہے جس کی پیداوار کا سلسلہ پاک سوزوکی نے 30 سال تک جاری رہنے کے بعد ختم کیا۔ 

حکومت گاڑیوں کے معیارات مرتب کرتی ہے؟ 

اس وقت حکومت کی ریگولیٹری باڈی کی جانب سے ملک میں گاڑیاں بنانے کے لیے کوئی معیارات طے نہیں ہیں۔ حال ہی میں صنعت و پیداوار کے لیے قائمہ کمیٹی نے پاک سوزوکی کی تنصیب کا دورہ کیا اور پلانٹ کو بہتر بنانے کی حوصلہ افزائی کی۔ ایک حالیہ پیشرفت میں سائنس و ٹیکنالوجی کی وزارت نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ گاڑیوں کے لیے معیارات مرتب کرے گی۔ تمام مقامی آٹو مینوفیکچررز اپنی گاڑیاں کم از کم معیار کے مطابق اور سیفٹی فیچرز کے ساتھ پیش کرنے کے پابند ہوں گے۔ یہ وزارت کی جانب سے اٹھایا گیا ایک اچھا قدم ہے کیونکہ ان معیارات کی عدم موجودگی نے ہی آٹومیکرز کو کم لاگت کی مصنوعات پر زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کی اجازت دی ہے۔ 

نتیجہ: 

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کا اجلاس اس نتیجے کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا کہ مقامی آٹو اسمبلرز اور متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کو اگلے اجلاس میں طلب کیا جائے۔ انہیں اس گفتگو میں شامل کرنے کی اہم وجہ اس معاملے پر اُن کی رائے جاننا ہے۔ ملک میں آٹو مینوفیکچرر گاڑیوں کی قیمتو ںمیں اضافے کا سبب بننے والے عوامل سے آگاہ کریں گے۔ 

اپنی رائے نیچے تبصروں میں دیجیے اور آٹو انڈسٹری کے حوالے سے مزید خبریں جاننے کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔

Google App Store App Store
تبصرے