کیا پاک سوزوکی نے 2020 میں ایک بھیانک غلطی کی ہے؟

0 17 780

2020 پاک سوزوکی کے لیے ایک آسان سال ثابت نہیں ہوا، کیونکہ اس کی سیلز 2019 کے مقابلے میں 40 فیصد کم ہوئیں۔ اس کے علاوہ کمپنی کے موجودہ ماڈلز، بشمول کلٹس، سوئفٹ اور آلٹو نے گزشتہ سال سیلز میں کمی دیکھی۔ تو مجموعی طور پر یہ سال اچھا نہیں تھا۔ اور ہمارے خیال میں پاک سوزوکی نے بھی ایک قدم اٹھا کر اپنے لیے اچھا نہیں کیا، وہ تھا سیاز کو ختم کرنا۔ اور بڑا سوال یہ ہے کہ کیا کمپنی نے 2020 میں یہ قدم اٹھا کر ایک بھیانک غلطی کی ہے؟

اسے کب ختم کیا گیا؟

اکتوبر 2020 کے آغاز پر خبریں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ سوزوکی نے پاکستان میں سیاز کا خاتمہ کر دیا ہے۔ 26 اکتوبر کو خبر کی تصدیق ہوئی کہ ملک میں اِس سیڈان کا سفر ختم ہو چکا ہے۔ یہ خبر حیران کُن نہیں تھی کیونکہ سیاز کبھی بھی سوزوکی کے لیے بہترین یا اچھی فروخت ہونے والی گاڑی نہیں بنی۔ اور اس گاڑی کی کم فروخت کی وجہ پاک سوزوکی کی اپنی ‘عدم دلچسپی’ تھی۔ کمپنی نے کبھی اس گاڑی کو آگے بڑھ کر پیش نہیں کیا، صارفین نے کبھی اس کے اشتہارات، بینرز یا پروموشنز نہیں دیکھیں۔

ہو سکتا ہے اس پالیسی کی وجہ ہو کہ سیاز ایک کمپلیٹلی بلٹ یونٹ (CBU) تھی، یعنی کمپنی اسے پاکستان میں نہیں بناتی تھی۔ اس کے علاوہ کمپنی نے اس گاڑی کو مقامی طور پر بنانے کا کبھی کوئی ارادہ بھی ظاہر نہیں کیا۔ تو مختصراً یہ کہ سوزوکی نے سیاز سے ایک ‘سوتیلی گاڑی’ والا سلوک کیا اور ایسا لگتا ہے کہ کمپنی کا اس کے حوالے سے کبھی کوئی بڑا منصوبہ تھا ہی نہیں۔

اپنی مقابل گاڑیوں سے بہتر:

سیاز اپنی کیٹیگری میں دستیاب گاڑیوں میں بہترین تھی، چاہے معاملہ قیمت کا ہو یا نمایاں فیچر کا۔ کمپنی نے یہ گاڑی 2017ء میں لانچ کی تھی اور اپنی ‘موت’ کے وقت اس کے مینوئل ویرینٹ کی قیمت 23,00,000 روپے تھی جبکہ آٹومیٹک ویرینٹ 25,00,000 روپے کا تھا۔

اس کے علاوہ یہ گاڑی یہ نمایاں فیچرز رکھتی تھی:

سوزوکی سیاز کا پاورٹرین:

یہ جدید 1400cc انجن کے ساتھ آئی، جو 6000RPM پر 91bhp اور 4000RPM پر 130Nm کا ٹارک پیدا کرتی ہے۔ یہ جدید مؤثر K-سیریز انجن رکھتی ہے جو زبردست طاقت پیدا کرتا ہے اور انتہائی مؤثر ہے۔

سیفٹی فیچرز:

سیاز لگژری سیڈان کئی حوالوں نے اپنی مقابل گاڑیوں سے بہتر تھی۔ سوزوکی سیاز تمام جدید اچھے فیچرز کے ساتھ آئی جیسا کہ کی-لیس انٹری، ABS بریکس مع EBD اور SRS ایئربیگز۔

مذکورہ بالا، خاص طور پر سیفٹی فیچرز، مقابل گاڑیوں میں موجود نہیں تھے، جیسا کہ ٹویوٹا کرولا اور ہونڈا سٹی۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ کرولا اور سٹی سیاز سے زیادہ مہنگی تھیں۔ اس کے علاوہ زیادہ تر صارفین کے مطابق سیاز ہینڈلنگ، روڈ گرِپ اور آرام میں مقابل گاڑیوں سے کہیں بہتر تھی۔

ایک CBU یونٹ ہونے کی وجہ سے اس کے پارٹس کی دستیابی مسئلہ ہو سکتی ہے، لیکن سوزوکی لوکل مارکیٹ میں زبردست موجودگی رکھتا ہے، نتیجتاً اس گاڑی کے پارٹس اور سروس اتنا مسئلہ نہیں تھی۔

یہ ایک غلطی کیوں ہے؟

سوزوکی نے اکتوبر میں سیاز کا خاتمہ کیا جب کراس اوور SUVs لوکل مارکیٹ پر راج کر رہی تھیں۔ کِیا اسپورٹیج زبردست سیلز ریکارڈ کر رہی تھی، جبکہ ہیونڈائی ٹوسان ایک مستحکم مقام حاصل کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ کئی نئی کراس اوورز اور کومپیکٹ SUVs پاکستان میں لانچ ہو رہی ہیں جیسا کہ پروٹون X70، گلوری 580 پرو اور MG HS۔ ایسا لگتا ہے کہ SUVs لوکل مارکیٹ میں غالب آ جائیں گی، اور سیڈانز کے ساتھ تعلق اور محبت ختم ہو جائے گی۔

البتہ نئی آنے والی سیڈانز، خصوصاً ٹویوٹا یارِس ریکارڈ سیلز کر رہی ہیں۔ یہ کار پچھلے چند مہینوں سے غالب ہے اور سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑیوں میں شامل ہے۔

اس کے علاوہ چند نئی سیڈانز بھی ہیں جو جلد ہی پاکستان میں آنے کو تیار ہیں۔ پروٹون ساگا لانچ کر رہا ہے، ہیونڈائی ایلانٹرا لا رہا ہے، جبکہ چنگان نے پچھلے مہینے ایلسوِن کی رونمائی کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ خبریں بھی ہیں کہ اس سال میں BAIC بھی D20 لانچ کرے گا۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوکل مارکیٹ اس سال نئی سیڈانز کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ صارفین یہ نئی گاڑیاں خریدیں گے کیونکہ یہ کئی فیچرز اور آپشنز رکھتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں سیڈان مارکیٹ ایک مرتبہ پھر ابھرے گی۔ لیکن سوزوکی کے پاس اس سیگمنٹ میں پیش کرنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ سیاز کمپنی کے لیے بہترین آپشن ہوتا، لیکن سوزوکی نے اس کا خاتمہ کر دیا۔

پچھلے سال فروخت میں زبردست کمی دیکھنے کے بعد سوزوکی کے لیے اب سیاز کی موجودگی بہت اہم ہوتی۔ سیاز نئی سیڈانز کی متوقع لانچ کے دوران کمپنی کے لیے ایک اچھا سیلنگ پوائنٹ ہو سکتی تھی۔ تو یہ سوال ایک مرتبہ پھر اٹھتا ہے کہ کیا پاک سوزوکی نے سیاز کا خاتمہ کر کے ایک غلطی کی ہے؟

آپ کیا کہتے ہیں؟ اپنے خیالات کمنٹس سیکشن میں پیش کیجیے۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.