بلٹ پروف گاڑیوں کے لیے امپورٹ پالیسی سامنے آ گئی

0 928

وفاقی حکومت نے پاکستان میں بلٹ پروف گاڑیوں کی امپورٹ پالیسی ظاہر کر دی ہے۔ حکمران جماعت نے نئی اور سیکنڈ ہینڈ دونوں گاڑیوں پر پالیسی لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت تجارت نے SRO 902(I)/2020 کے تحت امپورٹ پالیسی کی مختلف شقوں کی وضاحت کی ہے۔

بلٹ پروف گاڑیاں امپورٹ کرنے کے قواعد:

اس SRO کے مطابق وزارت داخلہ کی سفارشات پر ادارے اور انفرادی طور پر افراد بھی بلٹ پروف گاڑیاں اِن شرائط کے تحت امپورٹ کر سکتے ہیں:

  1. متعلقہ صوبائی حکومت امپورٹ درخواست کی منظوری دے گی، جس میں درخواست گزار کی ضروریات کے حقیقی ہونے کا تعین کیا جائے گا
  2. درخواست گزار امپورٹ گاڑی کے فیچرز واضح طور پر بیان کرے گا
  3. درخواست گزار کو ایک حلف نامہ دینا ہوگا کہ وہ صرف ہائی سکیورٹی رِسک علاقوں میں اس گاڑی کا استعمال کرے گا
  4. امپورٹر وزارتِ داخلہ سے NOC ملنے پر ہی یہ گاڑی حاصل کر سکتا ہے
  5. یہی شرائط تب بھی لاگو ہوگی جب کوئی شخص پرسنل بیگیج، گفٹ یا ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت کار امپورٹ کرے گا۔

الیکٹرک گاڑیوں کے پارٹس امپورٹ کرنے پر رعایت

اس سے پہلے حکومت نے جولائی میں اعلان کیا تھا کہ الیکٹرک گاڑیوں کی امپورٹ پر نئی رعایتیں دی گئی ہیں۔ کسٹمز ٹیرف میں چند تبدیلیاں متعارف کرواتے ہوئے حکومت نے پارٹس پر کسٹمز ڈیوٹی گھٹاتے ہوئے 1 فیصدکر دی۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) کے حکام نے بجٹ کے بعد کہا تھا کہ الیکٹرک وہیکل پالیسی کسٹمز ٹیرفس میں شامل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ «ادارے نے الیکٹرک گاڑیوں کے لیے 11 نئی ٹیرف لائنز بنائی ہیں۔»

آفیشلز نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے تحت 1 فیصد امپورٹ ڈیوٹی صرف الیکٹرک گاڑیوں کے Completely Knocked Down یعنی CKD یونٹس پر لاگو ہے۔ انہوں نے کہا کہ «البتہ نان-لوکلائزڈ پارٹس کی امپورٹ ڈیوٹی 15 فیصد رہے گی۔»

بجٹ ڈاکیومنٹس:

بجٹ ڈاکیومنٹس کے مطابق نئی رعایتیں اگلے پانچ سال کے لیے لاگو ہیں، جن کا آغاز یکم جولائی 2020ء کو ہوا۔ اس کے علاوہ ادارے الیکٹرک موٹر سائیکلیں اور تین پہیوں والی گاڑیاں کسٹمز ڈیوٹی کی موجودہ ٹیرف کے 50 فیصد پر امپورٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ کمپنیاں/افراد الیکٹرک بسیں، پرائم موورز اور ٹرک بھی 1 فیصد ڈیوٹی پر امپورٹ کر سکتے ہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.