کیا پنجاب میں ڈرائیونگ ٹیسٹ میں ‘سفارش کلچر’ کا خاتمہ ہو رہا ہے؟

0 4 863

سفارش کلچر کے خاتمے کے لیے لاہور ٹریفک پولیس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ صوبے میں ڈرائیونگ ٹیسٹ کو کمپیوٹرائزڈ کردے گی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس اب ٹریفک قوانین اور سائنز کا کمپیوٹرائزڈ ٹیسٹ لے گی۔ اس کے علاوہ پنجاب انسپکٹر جنرل (آئی جی) انعام غنی  نے صوبے بھر میں اس سسٹم کو لاگو کرنے کا حکم دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر پولیس نیا سسٹم اور سافٹ ویئر DHA ڈرائیونگ ٹیسٹ سینٹر میں نافذ کرے گی۔ درخواست گزاروں کو پہلے اپنا اندراج کرانا ہوگا اور پھر انہیں نئے سسٹم کے تحت ٹیسٹ دینا ہوگا۔

اس کے علاوہ شہریوں کو اپنی ذاتی معلومات اور اسناد بھی داخل کرنا ہوں گی۔ اس کے بعد پولیس ٹریفک سائنز اور قوانین کا ٹیسٹ کمپیوٹر پر لے گی۔ نتیجہ ٹیسٹ ختم ہوتے ہی کمپیوٹر اسکرین پر ظاہر ہو جائے گا۔

نئے ڈرائیونگ ٹیسٹ سسٹم پر CTO لاہور کی رائے:

میڈیا سے بات کرتے ہوئے CTO لاہور حماد عابد نے کہا کہ پولیس ایک کاغذ کے ٹکڑے پر ٹریفک سائنز بنا کر ٹیسٹ لیا کرتی تھی۔ انہوں نے کہ «اب صرف اہل امیدوار ہی ڈرائیونگ لائسنس حاصل کریں گے۔»

پولیس نے یہ سافٹ ویئر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) کے تعاون سے بنایا ہے۔ آئی جی پنجاب نے نئے سافٹویئر کو سراہا ہے۔ انہوں نے متعلقہ اتھارٹیز کو حکم دیا ہے کہ وہ یکم دسمبر 2020 سے پہلے لاہور میں نیا سسٹم لاگو کریں۔

حکومتِ پنجاب کے ابتدائی اقدامات:

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ حکومتِ پنجاب اور پولیس نے ایسے اقدامات اٹھائے ہیں۔ صوبائی حکومت ٹریفک سسٹم کی ڈجیٹلائزیشن کو فروغ دے رہی ہے۔ ان اقدامات میں سیف سٹیز اتھارٹی، پیپرلیس ڈرائیونگ لائسنس سسٹم اور آن لائن کار رجسٹریشن شامل ہیں۔

یہ اقدامات نہ صرف سڑکوں کو محفوظ بنانے میں مدد دے رہے ہیں، بلکہ شہریوں کے لیے بھی آرام دہ ثابت ہو رہی ہے۔ پنجاب کے راستے پر چلتے ہوئے دیگر صوبے بھی ایسے ہی اقدامات اٹھا رہے ہیں۔

پنجاب پولیس کے اس نئے قدم کے بارے میں آپ کی رائے کیا ہے؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے واقعی صوبے میں سفارش کلچر کا خاتمہ ہوگا؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس سیکشن میں پیش کیجیے۔

مزید ویوز، نیوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیے۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.