پاکستان میں کِیا اسپورٹیج کو آگ لگ گئی! کِیا کا باضابطہ جواب «اپڈیٹ»

50 340

اپڈیٹ کیا گیا بلاگ جس میں کِیا پاکستان کا باضابطہ جواب بھی نیچے شامل کیا گیا ہے 

اس اتوار کو میں سب کی طرح پی ایس ایل کے اس ایڈیشن کو دیکھنے میں مصروف تھا۔ جب آؤڈی پاکستان نے اپنی الیکٹرک ای-ٹرون SUV پیش کر رہا تھا اور لاہور قلندرز نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں تباہی مچا رکھی تھی، عین اسی دوران گاڑیوں کے شوقین افراد نے سوشل میڈیا پر تہلکہ مچایا ہوا تھا اور اس کی وجہ تھی کِیا اسپورٹیج میں لگنے والی آگ۔ ایک وائرل وڈیو کلپ میں دکھایا گیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی کِیا اسپورٹیج کا پورا انجن مکمل طور پر جل کر خاک ہو چکا ہے۔ یہ دل دہلا دینے والا وڈیو کلپ تھا اور اس کا محض تصور ہی کیا جا سکتا ہے کہ گاڑی کے مالک کے دل پر کیا بیت رہی ہوگی۔ 

پاکستان میں گاڑیوں کو آگ لگ جانا کوئی نئی بات نہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں ہم نے ایسے کئی واقعات دیکھے ہیں۔ گو کہ بیشتر واقعات میں پرانی استعمال شدہ گاڑیوں کو آگ لگی لیکن کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے جس میں بالکل نئے ماڈل کی گاڑی میں آگ لگی اور سرخیوں میں آئی جیسا کہ ہونڈا ِسوک۔ اس کی پہلی وجہ اور عوام کی پہلی رائے میں بعد از فروخت لگائی گئی accessories ہوتی ہیں خاص طور پر الیکٹرک چیزیں۔ 

اگرچہ بعد میں لگائی جانے والی کوئی چیز یا اس کی نامناسب انسٹالیشن الیکٹریکل مسائل اور شارٹ سرکٹ کا سبب بن سکتی ہے اور گاڑی کی وارنٹی کا خاتمہ کر سکتی ہے، لیکن آگ لگنے کی دوسری کئی وجوہات بھی ہو سکتی ہیں، خاص طور پر انجن بے میں۔ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی اس نئے واقعے یعنی کِیا اسپورٹیج میں آگ لگنے پر سوشل میڈیا بہت باتیں بن رہی ہیں اور بظاہر کسی کو بھی یہ نہیں پتہ کہ حقیقت میں اس گاڑی کے ساتھ ہوا کیا تھا۔ 

ذاتی طور پر میں نے اس معاملے کو بہت گہرائی میں دیکھا ہے اور پایا ہے کہ اس گاڑی میں کوئی بعد از فروخت accessories نہیں لگائی گئی تھیں اور آگ انجن بے میں لگی تھی اور پھر پورے انجن کو لپیٹ میں لے لیا اور اسے راکھ میں تبدیل کر دیا۔ اچھی خبر یہ ہے کہ گاڑی میں بیٹھے افراد بحفاظت نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ 

اس واقعے کی ویڈیو یہاں دیکھیں:

بلاشبہ ہمیں اس وقت پاکستان میں اسمبل ہونے والی اِس اسپورٹیج میں لگنے والی آگ کے بارے میں حقائق اور اسباب کا علم نہیں، اور ہم کوشش کر رہے ہیں کہ اس گاڑی کے مالک سے مکمل حاصل کر پائیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایسا کوئی آزاد ماہر ادارہ نہیں جو ایسے واقعات کو دیکھے اور تکنیکی مسائل کی تحقیقات کرسکے۔ 

آخر میں رہ جاتے ہیں گاڑی کا مالک اور کار کمپنیاں/ڈیلرشپس۔ گاڑی کا بیچارہ مالک ہمیشہ مصیبت جھیلتا ہے اور اسے کوئی حقیقی مدد نہیں دی جاتی نہ ہی اس کے مسائل اور خدشات کی کوئی تلافی کی جاتی ہے۔ 

ساتھ ہی میں نے سوچا کہ مجھے ان انجن خرابیوں اور آگ لگنے کے واقعات کو اٹھانا چاہیے کہ جو ہیونڈائی اور کِیا کی اُن گاڑیوں کے ساتھ امریکا میں پیش آئے کہ جو 2.4L اور 2.0L ڈائریکٹ انجکشن انجن، تھیٹا II انجن کلاس، سے لیس ہیں۔ 

شمالی امریکہ میں کِیا اور ہیونڈائی کی گاڑیوں آگ لگنے کے واقعات عموماً خبروں میں رہتی ہیں۔ ہیونڈائی/کِیا کے معاملات تب مزید خراب ہو گئے جب تحقیقات کے دوران کمپنی کے ایک ملازم سامنے آئے اور بھانڈا پھوڑنے کا کام کیا اور بتایا کہ کمپنیاں آگ لگنے کے ان مسائل کے بارے میں جانتی ہیں لیکن خاموش رہیں اور ان مسائل کو تسلیم نہیں کیا یہاں تک کہ سرکاری اداروں نے مداخلت کی اور ہزاروں شکایات کے بعد اس مسئلے کو اٹھایا۔ 

پچھلے سال ہیونڈائی/کِیا نے امریکی حکومت کے ساتھ 760 ملین ڈالرز کا تصفیہ کیا، جس کی حتمی عدالتی منظوری اب بھی باقی ہے۔ یہ NHTSA (نیشنل ہائی وے ٹریفک سیفٹی ایڈمنسٹریشن) کی زبردست تحقیقات کے بعد ہوا تھا، جسے ایک سرکاری ادارے نے انجن کی خرابی اور اس میں آگ لگنے کی کئی شکایات ملنے کے بعد شروع کیا تھا۔ آگ لگنے/خرابی کی تقریباً 3,100 شکایات موصول ہوئی تھیں جن میں سے 100 سے زیادہ لوگوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات تھیں، اور ان واقعات سے پہلے کوئی حادثہ/تصادم نہیں ہوا تھا، جو کہ آگ لگنے کا باعث بنتا۔ 

اس تصفیے میں انجن کی خرابی یا میں آگ لگنے سے متاثر ہونے والے 40 لاکھ سے زیادہ کِیا/ہیونڈائی مالکان کو معاوضے کی ادائیگی شامل ہے۔ 

تو مختصراً بتاتے ہیں کہ شمالی امریکا میں انجن میں آگ لگنے کے واقعات کا سبب کیا تھا۔ہو سکتا ہے کہ بنیادی طور پر 2.0L اور 2.4L ہیونڈائی/کِیا انجنوں کے بنئے جانے کے عمل کے دوران کچھ ملبہ پیچھے رہ گیا ہو، جو ایک پورٹ کو بند کرکے انجن چلنے کے دوران تیل کے بہاؤ کو روک سکتا ہے، جس کا نتیجہ connecting rod bearing کے ناکام ہونے کی صورت میں نکل سکتا ہے۔ یوں انجن بلاک کو نقصان پہنچتا ہےاور تیل رسنے اور آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔ 

کچھ دیگر وجوہات میں ہائی-پریشر فیول لائن لیک ہونا اور اس سے انجن میں آگ لگنا شامل ہو سکتا ہے۔ چند واقعات میں آگ catalytic converter کے زیادہ گرم ہونے کی وجہ سے لگی تھی۔ متارہ گاڑیاں 2011ء سے 2019ء کے درمیان بنائی گئیں اور خراب انجن کِیا اور ہیونڈائی دونوں کی جانب سے استعمال کیے گئے، جن میں سوناٹا، سوناٹا FE، اسپورٹیج، ٹکسن، آپٹیما شامل ہیں۔ 

بیرونِ ملک انجن کی خرابیاں اور آگ لگنے کے مسائل کو شمالی امریکا میں ہیونڈائی انجن پلانٹ میں بنائے جانے والے انجنوں سے جوڑا جاتا ہے، اور یہ خیال کیا گیا کہ مسئلہ صرف اس وقت شمالی امریکا ہی میں ہے۔ 

شمالی امریکا میں کِیا/ہیونڈائی کی انجن خرابی اور اس میں آگ لگنے کے واقعات کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی کِیا اسپورٹیج میں آگ لگنے کا سبب بھی وہی ہوگا۔ پاکستان میں کِیا اسپورٹیج 2.0L انجن تو استعمال کرتی ہے لیکن یہ ایک ملٹی-پوائنٹ انجکشن انجن ہے۔ آگ لگنے کے جو مسائل سامنے آئے اور اور تحقیقات امریکا میں ہوئیں وہ سب ڈائریکٹ انجکشن تھے، لیکن اسی 2.0L انجن کو ملٹی-پورٹ یا ڈائریکٹ انجکشن سسٹم سے لیس کیا جا سکتا ہے۔ 

بالفاظِ دیگر انجن بلاک وہی رہ سکتا ہے؛ انجکشن سسٹم استعمال کے لحاظ سے مختلف ہو سکتا ہے۔ کیونکہ آگ لگنے کا تعلق انجن بلاک کے اپنے مینوفیکچرنگ عمل «machining debris» سے ہے، کہ جو بعد میں آئل کی بلاک کرنے اور یوں انجن کو نقصان پہنچانے اور اس میں آگ لگنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس لیے یہ مسئلہ انجن کی انجکشن ٹائپ سے قطع نظر کسی بھی قسم کے انجن میں ہو سکتا ہے۔ 

کِیا اور ہیونڈائی نے پاکستان میں اپنے آپریشن کا دوبارہ آغاز کیا ہے ، اور صارفین کو ان سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ اس لیے پاکستان میں اسمبل ہونے والی اسپورٹیج میں آگ لگنے کے اس واقعے کو محض ایک انفرادی مسئلہ نہیں سمجھنا چاہیے اور اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہیے۔

کِیا پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے کیونکہ یہ ان کی ساکھ کا معاملہ ہے۔ آگ لگنے کی وجوہات کی تحقیقات ہونی چاہیے اور یہ یقینی بنانا چاہیے کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی کِیا یا ہیونڈائی ہرگز ان انجنوں کو استعمال نہ کرے کہ جن میں آگ لگنے کا خطرہ ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران کٗیا پاکستان کو امریکا میں کِیا اور ہیونڈائی کی گاڑیوں میں آگ لگنے کے واقعات کو مدنظر رکھنا چاہیے کہ جو 50 لاکھ سے زیادہ یونٹس کو متاثر کر رہی ہے۔ 

پاکستان مقامی طور پر اسمبل کرنے کے لیے انجن درآمد کرتا ہے، اس لیے اسپورٹیج کے جس انجن میں آگ لگی ہے اس کا پتہ لگانا چاہیے۔ یہ امکان ہے کہ یہ واقعہ ایک کسی دوسری آگ کا ہو اور ضروری نہیں کہ اس کا تعلق کِیا اور ہیونڈائی کے لگنے والی اس آگ سے ہو جو شمالی امریکا کی مارکیٹ میں ہے، لیکن یہ تب تک پتہ نہیں چلے گا جب تک اس کی مکمل تحقیقات نہیں ہوں گی۔ 

ہمیشہ کی طرح تجویز کیا جاتا ہے کہ اپنی گاڑی میں بعد از فروخت کوئی accessories نہ لگوائیں کیونکہ ان سے نہ صرف آپ کی وارنٹی ختم ہو جائے کی بلکہ کسی بھی مسئلے کی صورت میں ڈیلر اور کار بنانے والا ادارہ claim کے موقع پر ان modification کو بہانہ بناتے ہوئے وارنٹی کو مسترد کر سکتا ہے۔اس لیے modifications سے بالکل دُور رہیں۔ 

حکومت کو بھی آٹوموبائل/ٹرانسپورٹ شعبے کے لیے ایک آزاد اور غیر جانبدار ادارے کے بارے میں سوچنا چاہیے کہ جو تکنیکی معاملات کی تحقیقات کر سکے اور اپنے نتائج پیش کر سکے۔ 

ایسے کسی ادارے کی عدم موجودگی میں کسی بھی مسئلے کی صورت میں کاریں اسمبل کرنے والے/ڈیلر اور کار مالکان کا مقابلہ ہوتا ہے اور یہ بالکل واضح ہے کہ صارفین کی حق تلفی ہوتی ہے، اور کسی کو اصل حقائق کا علم نہیں ہوگا۔ 

اپڈیٹ:

ہم نے کِیا سے رابطہ کیا اور ان کا باضابطہ جواب حاصل کیا کہ جو ہم یہاں قارئین کے لیے پیش کر رہے ہیں۔ یہ جان کر اچھا لگا کہ کِیا نے اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیا ہے اور عوام کو آگاہ رکھنے اور مستقبل میں کسی بھی ایسے واقعے کے دوبارہ پیش آنے کو روکنے کے لیے جواب دیا ہے۔ گاڑیوں کے مالکان کے لیے باضابطہ تجویز کردہ رہنما ہدایات پر عمل کرنا بہت ضروری ہے، تاکہ ایسے واقعات دوبارہ پیش نہ آئیں۔ 

دریں اثناء ہم گاڑی کے مالک سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ وہ اپنی زبانی اس واقعے کو بیان کریں اور قارئین کو اس سے آگاہ بھی کریں گے۔

Discuss Kia Sportage at Pakwheels Official Owners & Fan Club 

Google App Store App Store
تبصرے