پاکستانی یارِس بمقابلہ بھارتی یارِس – کون سی کار بہتر ہے؟

0 5 215

پچھلے کچھ مہینوں سے عوام پاکستان میں ٹویوٹا کی یارِس سیڈان کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔ کئی خفیہ تصویریں اور درجنوں آرٹیکلز اور افواہوں کے بعد بالآخر ٹویوٹا انڈس نے اس ماڈل کو reveal ٹو کیا لیکن اِس طرح نہیں جیسے ٹویوٹا ریلیز کرناچاہتا تھا۔

بدقسمتی سے کروناوائرس دنیا بھر میں تباہی پھیلا رہا ہے، اور پاکستان میں بھی حالات مختلف نہیں۔ ٹویوٹا کو مارچ کے آخری ہفتے میں اپنی طے شدہ میگا reveal پارٹی منسوخ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بجائے ڈیمو کاریں ڈیلرز کو بھیج دی گئیں اور ٹویوٹا انڈس نے کار کی معلومات اور قیمت اپنی ویب سائٹ پر اپڈیٹ کر کے آن لائن بکنگ شروع کر دی۔ 

لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی بھی آدمی شورومز میں یہ کار نہیں دیکھ پایا، لیکن پھر بھی عوام میں اس کار کے حوالے سے کافی جوش پایا جاتا ہے۔ 

یہ عام بات ہے کہ پاکستان میں ڈومیسٹک ماڈلز دوسرے ملکوں میں اسی ماڈلز کی کاروں کے مقابلے میں کم فیچرز اور سیفٹی رکھتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کی بِلٹ کوالٹی پر بھی سوالات اٹھائے جاتے ہیں اور تنقید کی جاتی ہے۔ 

ہمیں نہیں معلوم کہ یارِس کے PKDM (پاکستان ڈومیسٹک ماڈل) کی بلٹ کوالٹی کیسی ہے کیونکہ اب تک کسی نے بھی خود اس کار کو انسپکٹ نہیں کیا، اور نہ ہی کسی کو بُک کرائی گئی یارِس ڈلیور کی گئی ہے کہ جہاں سے ہم فرسٹ ہینڈ تجربہ حاصل کر سکتے۔ لیکن ہمیں PKDM کی آفیشل specification اور فیچرز کے بارے میں معلوم ہے۔ 

اس آرٹیکل میں ہم PKDM یارِس کا comparison بھارت میں بننے والی یارِس سے کر رہے ہیں۔ پاکستانی ماڈلز مختلف ویرینٹس میں آتے ہیں اور بھارتی ماڈل میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہم پاکستان سے ٹاپ آف دی لائن 1.5L ATIV X CVT لیں گے اور اس کا بھارتی یارِس VX CVT کا مقابلہ کریں گے اور ان ماڈلز کو compare کرکے دیکھیں گے۔

انجن: 

پاکستانی اور بھارتی یارِس میں ہُڈ کے اندر کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں 2NR FE نیچرلی ایسپائریٹڈ 4 سلنڈر انجن ہیں۔ تقریباً 105 hp @ 6000rpm کی ایک جیسی طاقت اور 140 @ 4200rpm کا زیادہ سے زیادہ ٹارک بھی ہے۔ CVT ٹرانسمیشن، الیکٹرک پاور اسٹیئرنگ بھی ایک جیسے ہیں اور سسپنشن سیٹ اَپ بھی، جو فرنٹ میں میک فرسن اسٹرٹ اور ریئر میں ٹورشن بیم ہے۔

بڑا مکینیکل فرق بریک سیٹ اَپ کا ہے، جس میں پاکستانی ماڈل فرنٹ میں ڈسک اور ریئر میں ڈرم بریکس رکھتا ہے جبکہ بھارتی ماڈل کے تمام پہیوں میں ڈسک بریکس ہیں۔

ایکسٹیریئر: 

ایکسٹیریئر میں ایک بڑا فرق جو آسانی سے نظر آ جاتا ہے ہیڈلائٹس کا ہے۔ بھارتی ماڈل میں پروجیکٹر ہیڈلیمپس ہیں جبکہ پاکستانی ماڈل میں یہ آپشن نہیں ہے۔ یہ عام ریگولر ہیلوجن ہیڈلائٹ میں آتا ہے۔ 

پروجیکٹرز کی موجودگی کار کو ذرا اسمارٹ اور پریمیم لُک دیتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستانی خریدار اس کا مزا نہیں لے سکیں گے۔ پاکستانی اور بھارتی دونوں ٹاپ آف دی لائن ماڈل میں وِیل سائز ایک ہی ہے 185/60R15 الائے کے ساتھ، لیکن بھارتی ماڈل میں مختلف ڈیزائن ویلز ہیں جو اسے نچلے اینڈ کے ماڈل سے مختلف بناتے ہیں۔

سرحد کے دونوں طرف الائے وِیلز، فوگ لائٹس، LED کمبی نیشن ٹَیل لائٹس،  سائیڈ وِیو مرر میں لگے ٹرن سگنلز، کروم ڈور ہینڈلز، میچنگ کلر کے بمپرز کے ساتھ ساتھ LED DRL بھی موجود ہے۔ بھارتی ماڈل ریئر فوگ لائٹس کے ساتھ بھی آتا ہے جو ٹیل لائٹ اسمبلی میں لگائی گئی ہیں، یہ عام طور پر یورپی کاروں میں ہوتی ہیں۔

میں یہاں ایک خاص فیچر کی بات کرنا چاہوں گا جو بڑا فرق ہو سکتا ہے۔ شارک فِن انٹینا جب ہونڈا سٹی میں پہلی بار ظاہر ہوا تھا تو بہت مشہور ہوا تھا۔ بھارتی ماڈل میں تو یہ موجود ہے لیکن پاکستانی ماڈل میں یہ اسپیشل فیچر نہیں، اور اس کے بجائے ریڈیو کے لیے ایک پول انٹینا لگایا گیا ہے۔

انٹیریئر: 

ایکسٹیریئر میں تو بہت زیادہ فرق نہیں دیکھا گیا، لیکن دونوں کاروں کے انٹیریئر کو compare کرنا ذرا دلچسپ ہوگا۔ دونوں پاکستانی اور انڈین ماڈلز میں انٹیریئر کا وہی ڈیزائن ہے یعنی 2-ٹَون/آئیوری کلر کمبی نیشن۔ ہمیں انسٹرومنٹ کلسٹر بھی وہی ملتا ہے 4.2 انچ کے ملٹی-انفارمیشن ڈسپلے/MID اور اسمارٹ کی کے ساتھ پُش اسٹارٹ بٹن۔

پاکستانی ماڈل میں بلوٹوتھ compatibility اور اسٹریمنگ آپشن کے ساتھ 6.8 انچ اِن-ڈَیش ٹچ اسکرین DVD/VCD پلے ایبل انفوٹینمنٹ سسٹم ملتا ہے، USB اِن پُٹ اور مِرر لنک آپشن کے ساتھ۔ 

بھارتی ماڈل میں انفوٹینمنٹ سسٹم gesture کنٹرول، HDMI کے علاوہ Wi-Fi اور بلوٹوتھ کنیکٹیوِٹی رکھنے والے 7 انچ کی ٹچ اسکرین کے ساتھ ملتا ہے۔ یہ بلٹ-اِن نیوی گیشن سسٹم کے ساتھ آتا ہے، جبکہ پاکستانی ماڈل میں یہ آپشن موجود نہیں۔ 

دونوں پاکستانی اور بھارتی یارِس میں 6 اسپیکرز، اسٹیئرنگ وِیل کنٹرولز کے ساتھ ساتھ اسٹیئرنگ ویل کے لیے ٹِلٹ فیچر بھی موجود ہے۔

Yaris VX, Indian domestic model pictured 

آٹومیٹک، ٹچ-بٹن کلائمٹ کنٹرول، ریئر ڈی فوگر، کے ساتھ ساتھ پاور ایڈجسٹ-ایبل سائیڈ وِیو مرر بھی دونوں میں ایک جیسے ہیں، لیکن بھارتی ورژن میں پاور-فولڈنگ سائیڈ-ویو مررز بھی ہیں۔ 

انڈین ماڈل میں رُوف ماؤنٹڈ ریئر HVAC وینٹنگ سسٹم ہے، جو ambient لائٹنگ کے ساتھ آتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اسٹینڈرڈ کے طور پر کروز کنٹرول، پیڈل شفٹنگ بھی موجود ہیں جو پاکستانی ماڈل میں نہیں ہیں۔ اس سے ہٹ کر دیکھیں تو بھارتی VX لیدر سیٹنگ کے ساتھ آتی ہے جبکہ پاکستانی میں فیبرک ہے۔ بھارتی ماڈل میں پچھلی سیٹیں 60:40 اسپلٹ فنکشن رکھتی ہیں، اور یہ سینٹرل آرم ریسٹ کے ساتھ ایک کپ ہولڈر بھی رکھتی ہیں؛ ہمیں پاکستانی ٹاپ آف دی لائن ماڈل میں ایسا کچھ نہیں ملتا۔ 

بھارتی ماڈل ریئر سن شَیڈ، رین-سینسنگ وائپرز، آٹو ہیڈلائٹس کے ساتھ فالو می ہوم فیچر کے ساتھ ملتا ہے اور یہ 8-وے پاور ڈرائیو سیٹ فنکشن بھی رکھتا ہے، پاکستانی ماڈل میں اس کے مزے نہیں ہیں۔

سیفٹی

سیفٹی کو دیکھیں تو پاکستانی ورژن کی یارِس میں اچھے فیچرز شامل کیے گئے ہیں۔ وہیکل اسٹیبلٹی کنٹرول اسٹینڈرڈ فیچر کے طور پر موجود ہے جو ایک اچھی بات ہے۔ پاکستانی ماڈل ABS کے ساتھ بریک اسسٹ اور الیکٹرانک بریک ڈسٹری بیوشن رکھتی ہے، اور ہِل-اسٹارٹ اسِسٹ بھی۔ پاکستانی ورژن میں صرف اگلے حصے میں دو ایئر بیگز ہیں جبکہ انڈین یارِس میں 7 ایئر بیگز ہیں، جس میں فرنٹ، سائیڈ اور کرٹین سب شامل ہیں۔ بھارتی ورژن ٹائر پریشر مانیٹرنگ سسٹم TPMS بھی رکھتا ہے، جو کرولا کی ٹائپ آف دی لائن میں بھی موجود نہیں اور پاکستان میں لانچ کی گئی یارِس میں بھی نہیں ہے۔

ریئر کیمرا پاکستانی اور انڈین دونوں ماڈلز میں موجود ہے۔ بھارتی ماڈل ہائی-اسپیڈ الرٹ، اسپیڈ سینسنگ آٹو ڈور لاک اور امپیکٹ سینسنگ آٹو ڈور اَن لاک (ایکسیڈنٹ ہونے کی صورت میں دروازوں کو اَن لاک کرنے) جیسے سیفٹی فیچر رکھتا ہے۔ سینٹرل لاکنگ اور اموبیلائزر پاکستانی اور انڈین دونوں ماڈلز میں موجود ہیں۔

Yaris VX, Indian domestic model pictured 

فیصلہ: 

عام طور پر میں اس حوالے سے کوئی رائے رکھنے اور آخری فیصلہ کرنے کو پڑھنے والوں پر چھوڑتا ہوں۔ یارِس ہماری مارکیٹ میں ایک اچھا اضافہ ہے خاص طور پر اگر ہونڈا سٹی کو ذہن میں رکھیں جو 10 سال سے زیادہ وقت سے موجود ہے اور خریداروں کے پاس اس سیگمنٹ میں کوئی دوسرا آپشن نہیں۔ 

اسٹینڈرڈ سیفٹی equipment کی موجودگی بھی بہت اچھی بات ہے، لیکن یہ دوسرے ملکوں میں پیش کیے گئے ماڈلز سے پیچھے ہی ہے۔ 

جب تک لوکل کار اسمبلرز لوکل پارٹ سپلائر نہیں بنائیں گے، یعنی پارٹس کی لوکلی تیاری میں سرمایہ کاری نہین کریں گے، ہمیں کبھی بہترین فیچرز رکھنے والی اچھی طرح equipped کاریں نہیں ملیں کی۔ لوکلائزیشن ہی واحد راستہ ہے جو ایک بہتر پروڈکٹ دے سکتا ہے، اس کی قیمت کو مناسب حد کے اندر رکھتے ہوئے۔ ہمیں اب بھی اسمبلی کے لیے پارٹس امپورٹ کرنا پڑیں گے، لیکن لوکلائزیشن اس کو کم کر سکتی ہے۔

جب میں یہ تحریر لکھ رہا تھا تو مجھے پتہ چلا کہ ٹویوٹا انڈس نے یارِس کے تمام ویرینٹس کی قیمتیں لانچ کے 3 ہفتے کے اندر ہی بڑھا دی ہیں اور وہ بھی اس حال میں کہ ابھی ایک یونٹ بھی کسی کسٹمر کو ڈلیور نہیں کیا گیا۔ جس ماڈل پر ہم نے آج اس آرٹیکل میں بات کی، اس کی قیمت میں 1,50,000 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یارِس ATIV X CVT کی نئی قیمت اب 29,59,000 روپے ہے۔ 

ہم ہمیشہ انڈیا اور دوسرے علاقوں کے ماڈلز کی قیمتوں کو compare کرتے ہیں۔ عام طور پر یہ comparison ٹھیک نہیں ہوتا، اور اس کی کئی وجہ ہیں۔ مارکیٹ سائز، ڈالر کے مقابلے میں ایکسچینج رَیٹ کے ساتھ ساتھ کار کے لوکل پارٹ کا تناسب، بھارتی ڈومیسٹک ماڈل کو سستا بناتا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایک فُلی لوڈڈ یارِس VX ماڈل 14,18,000 بھارتی روپے کی ایکس-شوروم قیمت پر خریدا جا سکتا ہے۔ 

میں ہمیشہ ڈیلی لائف سے ایک مثال دیتا ہے۔ اگر ایک بوتل یا کین میں موجود سافٹ ڈرنک کا مزا مناسب قیمت پر لے سکتے ہیں تو اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ ہم نے بوتل بنانے کا عمل لوکلائز کر لیا ہے۔ مَین فارمولا تو اب بھی امپورٹ ہوتا ہے لیکن باقی ingredients لوکل سپلائی سے شامل کیے جاتے ہیں۔ 

نیچے اپنے کمنٹ دیجیے۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.