پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں، ڈیزل میں 4 روپے کا اضافہ

0 435

وفاقی حکومت نے 15 دسمبر تک پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 4 روپے کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس سے پہلے میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ حکمران جماعت پٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتیں بڑھانے پر غور کر رہی ہے۔

حالیہ اضافے کے بعد HSD اب 105.43 روپے فی لیٹر پڑے گا۔ جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں بھی بالترتیب 65.29 اور 62.86 روپے فی لیٹر کے ساتھ تبدیل نہیں ہوئیں۔

اپنے نوٹیفکیشن میں وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ «حکومت پاکستان نے عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دینے کے لیے فیصلہ کیا ہے کہ وہ بین الاقوامی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ خود برداشت کرے گی۔»

اس کے علاوہ وزارت نے HSD کی قیمت میں اضافے کی وجہ بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی قیمتوں کو قرار دیا ہے۔

نومبر میں ہونے والی کمی:  

اس سے پہلے وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں کمی کی تھی اور اسے 100.69 روپے تک لائی تھی۔ یہ 15 دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والی دوسری کمی تھی۔

ایک نوٹیفکیشن میں وزارت خزانہ نے کہا کہ پٹرول کی قیمت میں 1.71 روپے کی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 1.79 روپے کی کمی کی گئی ہے۔

جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں بالترتیب 65.29 روپے اور 62.85 روپے فی لیٹر رہیں گی۔ نئی قیمتیں 16 نومبر 2020 سے لاگو ہوئیں۔

اس سے پہلے نومبر کے ابتدائی 15 دنوں کے لیے حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 1.57 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 0.84 روپے کی کمی ہوئی تھی۔ HSD زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور کارز کے مالکان پٹرول استعمال کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ حکومت ہر 15 دن بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرتی ہے۔ اس سے پہلے یہ دورانیہ ایک مہینہ تھا۔

حکومت کے اس فیصلے پر آپ کی رائے کیا ہے؟ اپنے خیالات نیچے کمنٹس سیکشن میں ضرور دیں۔

پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور CNG کی تازہ ترین قیمتوں کے بارے میں جاننے کے لیے پاک ویلز فیول پرائس سیکشن دیکھیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.