پاکستان میں قیمت کے لحاظ سے 7 موزوں ترین کاریں

48 870

کسی گاڑی کی زندگی کتنی ہے، اس کا دارومدار اس کی بروقت دیکھ بھال ہے اور اس پر بھی کہ اسے کس طرح چلایا گیا ہے۔ پاکستان میں پچھلے چند سالوں میں کاروں کی قیمتوں میں ناقابلِ یقین اضافہ ہوا ہے اور اب اکثریت کے لیے نئی گاڑی خریدنا ایک مشکل کام بن چکا ہے۔ اس لیے صارفین کے سامنے اور کوئی راستہ نہیں کہ اپنی موجودہ گاڑیوں کی اچھی طرح دیکھ بھال کریں۔ 

نئی گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں کی وجہ سے استعمال شدہ گاڑیوں کی مقبولیت بہت بڑھ چکی ہے۔ کچھ سال پہلے آنے والی کاریں اب اپنی اصل قیمت سے بھی زیادہ پر فروخت ہو رہی ہیں۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اپنی کار کو maintain رکھنا اب پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔ 

پاکستان کے آٹو سیکٹر میں مقامی طور پر بننے والی گاڑیوں کی طلب عموماً زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ ان کی maintenance درآمد شدہ گاڑیوں کے مقابلے میں نسبتاً سستی پڑتی ہے۔ اسی طرح مقامی مارکیٹ میں متعدد ماڈلز کو maintain رکھنا کافی مہنگا پڑتا ہے۔ گاڑی کی دیکھ بھال پر آنے والی لاگت سے بنیادی طور پر مراد اُس کے اسپیئر پارٹس یعنی فاضل پرزوں کی لاگت ہے۔ موجودہ صورت حال میں کار خریدنا اور اسے maintain رکھنا ایک چیلنج بن چکا ہے۔ 

بہت سارے نئے خریدار پریشان ہیں کہ maintenance کے لحاظ سے کون سی کاریں سستی پڑتی ہیں، اس لیے ہم اس تحریر میں کوشش کریں گے کہ ایسی بہترین 7 کاروں کی فہرست بنائیں کہ جن پر maintenance کی لاگت بہت کم آت یہے اور وہ جیب پر ہلکی بھی پڑتی ہیں۔ 

1۔ سوزوکی مہران 

سوزوکی مہران کی اجارہ داری تین دہائیوں سے زیادہ عرصے تک رہی ہے یہاں تک کہ 2019ء میں اس کی پیداوار کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اپنی پوری زندگی میں اس ننھی 800cc ہیچ بیک کی شکل و صورت تک نہیں تبدیل ہوئی اور محض چند ظاہری تبدیلیوں پر اکتفا کیا گیا۔ البتہ اس کار کی maintenance پر آنے والی لاگت بدستور کم رہی۔ یہ جیب پر بھاری نہ پڑنے کی وجہ سے بھی صارفین کا مقبول ترین انتخاب رہی۔ 

اسی طرح اس کے فاضل پرزے بھی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔ اس کار کی لاگت پرانے ماڈلز کے لیے 3 سے 4 لاکھ روپے ہے جبکہ آخری پیداوار میں نئی کار تقریباً 9 لاکھ روپے کی قیمت پر آئی۔ ایندھن کی کھپت کے لحاظ سے بھی یہ بہت زیادہ خرچہ نہیں رکھتی اور اوسطاً 15 کلومیٹرز فی لیٹر دیتی ہے۔

Suzuki Mehran

2۔ سوزوکی آلٹو 

سوزوکی آلٹو بھی پاکستان میں انٹری-لیول کی ہیچ بیک ہے۔ پاک سوزوکی نے اسے پچھلے سال 660cc انجن کے ساتھ متعارف کروایا۔ اس ماڈل سے پہلے آلٹو 1000cc انجن کے ساتھ دستیاب تھی، جو خود بھی ملک میں موجود کفایتی گاڑیوں میں سے ایک تھی۔ البتہ یہ دونوں ماڈل ملک میں maintenance اور ایندھن کی کھپت کے لحاظ سے سستی گاڑیوں میں شمار کیے جا سکتے ہیں۔ 

نئی 660cc آلٹو 20 کلومیٹر فی لیٹر سے بھی زیادہ کا غیر معمولی اوسط دیتی ہے، جو اسے صارفین کے لیے اولین پسند بناتا ہے۔ اس کے فاضل پرزے سوزوکی کی مجاز 3S ڈیلرشپس کے علاوہ مقامی مارکیٹ میں بھی فوری دستیاب ہیں۔ نئی آلٹو کا بنیادی ویرینٹ مقامی مارکیٹ میں 11 لاکھ روپے سے زیادہ کا پڑتا ہے۔

Suzuki Alto

3۔ یونائیٹڈ براوو

ملک میں موٹر سائیکل بنانے والے برانڈز کی بات کی جائے تو یونائیٹڈ آٹوموبائلز ایک معروف برانڈ ہے۔ کمپنی 2018ء میں کار بنانے والے شعبے میں بھی داخل ہوئی جب اس نے پہلی مقامی طور پر تیار کردہ 800cc یونائیٹڈ براوو متعارف کروائی۔ 

اس گاڑی کا شدت سے انتظار کیا گیا تھا لیکن شروع میں اس کی مینوفیکچرنگ میں کئی مسائل سامنے آئے۔ البتہ بعد میں کمپنی نے ہیچ بیک کا معیار بہتر بنایا اور نئے فیچرز بھی متعارف کروائے۔یہ آہستہ آہستہ مقامی مارکیٹ میں جگہ بناتی جا رہی ہے کیونکہ maintenance کے معاملے میں بھی اس پر کم خرچہ آتا ہے۔ 

اسے مہران کا مقابلہ کرنے کے لیے متعارف کروایا گیا تھا۔ ایندھن کی کھپت کے لحاظ سے یہ 15 کلومیٹرز فی لیٹر دیتی ہے، جبکہ اس کے فاضل پرزے بھی مارکیٹ میں فوری دستیاب ہیں۔ یہ ہیچ بیک 10 لاکھ روپے سے کم میں مل جاتی ہے۔

United Bravo

4۔ پرنس پرل 

پرنس نے حال ہی میں پاکستان کے آٹو سیکٹر میں اپنی پہلی ہیچ بیک متعارف کروائی ہے۔ 800cc کی پرنس پرل محدود بجٹ رکھنے والے افراد کے لیے ایک اور اچھا انتخاب ہے۔ یہ تقریباً 10 لاکھ روپے کی پڑتی ہے اور آپ کے پیسوں کا اچھا نعم البدل فراہم کرتی ہے۔ ایندھن کی کھپت کے لحاظ سے پرنس پرل 15 کلومیٹرز فی لیٹرز سے زیادہ دیتی ہے۔ جب معاملہ اس ہیچ بیک کو maintain رکھنے کا ہو تو اس کے پرزے مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں۔

Prince Pearl

5۔ سوزوکی ویگن آر 

آگے بڑھتے ہیں، 1000cc ہیچ بیک کی کیٹیگری میں سوزوکی ویگن آر ایک اور اچھا انتخاب ہے جس کی دیکھ بھال پر نسبتاً کم لاگت آتی ہے۔ اس کے پرزے بھی مقامی مارکیٹ میں باآسانی دستیاب ہیں لیکن چھوٹی ہیچ بیکس کے مقابلے میں نسبتاً مہنگے ہیں۔ 

البتہ ویگن آر ایندھن کی حیرت انگیز بچت رکھتی ہے یعنی شہر کے اندر 15 کلومیٹرز فی لیٹر اور لمبے روٹ پر تقریباً 18 کلومیٹرز فی لیٹر۔ 

یہ کار K10B انجن رکھتی ہے جو بہت کم شور کرتا ہے۔ کیبن میں کافی گنجائش کے ساتھ شہر کے اندر سفر کے لیے اس میں باآسانی 5 افراد بٹھائے جا سکتے ہیں۔ لیکن اس ہیچ بیک کی قیمت کچھ زیادہ ہے کہ جو آجکل 15 لاکھ روپے سے شروع ہو رہی ہے۔

Suzuki Wagon R

6۔ سوزوکی کلٹس 

سوزوکی کلٹس ملک میں ہیچ بیک کیٹیگری میں ایک اور مقبول نام ہے۔ کمپنی نے تقریباً دو سال پہلے نئی جنریشن کی کلٹس متعارف کروائی تھی، تب سے صارفین نے اس کا زبردست خیر مقدم کیا ہے۔ یہ بھی K10B انجن رکھتی ہے، وہی ویگن آر والا۔ 

1000cc ہیچ بیک زبردست ایندھن بچت دیتی ہے یعنی 14 کلومیٹرز فی لیٹر اور طویل سفر میں 16 کلومیٹرز فی لیٹر۔ البتہ سوزوکی کلٹس کے فُل پاورڈ وَرژن کی قیمت تقریباً 20 لاکھ روپے ہے۔ جہاں تک maintenance کی لاگت کی بات ہے یہ سوزوکی ویگن آر جتنی ہی ہے یعنی 800cc کی چھوٹی ہیچ بیکس سے تھوڑی سی زیادہ۔

Suzuki Cultus

7۔ ہونڈا سٹی 

ہونڈا سٹی کے نئے ماڈل کی دیکھ پر تو لاگت زیادہ ہوگی، لیکن اگر ہم ایک جنریشن پیچھے جائیں یعنی 2008ء ماڈل یا اس سے پہلے میں تو یہ کار ایک موزوں انتخاب ہے۔ پاکستان میں پچھلے 11 سالوں سے سٹی کی ایک ہی جنریشن ہے، جو کافی حیران کُن ہے۔ لیکن 2004ء سے 2008ء کے درمیان بننے والے ماڈلز کو چلانے کی لاگت بھی کم ہے اور اور ساتھ ساتھ دیکھ بھال کے حوالے سے بھی یہ کافی صارف دوست ہیں۔ 

ہونڈا سٹی کا یہ مخصوص ماڈل اب بھی ایندھن استعمال کا اچھا اوسط رکھتا ہے یعنی 14 سے 15 کلومیٹرز فی لیٹر۔ اس کے پرزے بھی مارکیٹ میں مناسب قیمت پر دستیاب ہیں اور ہونڈا سٹی کی دیکھ بھال مقامی مارکیٹ میں دستیاب دیگر کئی گاڑیوں کے مقابلے میں سستی بھی پڑتی ہے۔ یہ ماڈلز مارکیٹ میں باآسانی 10 لاکھ روپے میں دستیاب ہیں۔

Honda City

قیمت اور maintenance کی لاگت کے لحاظ سے آپ کس گاڑی کو ترجیح دیں گے؟ ہمیں نیچے تبصروں میں بتائیں اور مزید خبروں کے لیے آتے رہیں۔

Google App Store App Store
تبصرے