ہونڈا ڈیلرز کی قیمتیں بڑھنے کا دھوکا دے کر صارفین سے پیسے اینٹھنے کی کوشش


گزشتہ چند ہفتوں سے امریکی ڈالرز کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ روپے کی طرح قوتِ خرید بھی تیزی سے کم ہو رہی ہے اور گاڑیوں سمیت ہر چیز کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ 

آٹوموبائل مارکیٹ پہلے ہی کم ہوتی فروخت سے متاثر ہو رہی تھی کہ حکومت نے مقامی طور پر بننے والی اور درآمد شدہ دونوں گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) لاگو کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہوگا، اور مقامی آٹوموبائل مارکیٹ کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا ہو رہا ہے۔ 

گاڑیاں بنانے والے ڈالر کی شرح اور افراطِ زر میں اضافے کی وجہ سے بڑھنے والی لاگت پوری کرنے کے لیے جہاں گاڑیوں کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں، وہیں ان کے چند ڈیلرز گھٹیا حرکتوں کے ذریعے پیسے کمانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ 

24 جون سے ہونڈا نے اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں 4,00,000 روپے تک کا اضافہ کیا۔ اس اضافے کے ساتھ ہونڈا سوِک 1.8 کی قیمت بڑھ کر 41 لاکھ روپے تک پہنچ چکی ہے۔ تمام نئے آرڈرز نئی انوائس پر ہونے ہیں۔ لیکن چند ڈیلرز صارفین کو پرانی رسید پر گاڑیاں خریدنے کی ترغیب دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ 

الزامات 

PakWheels.com کو ہونڈا کے برہم صارفین کی کم از کم دو شکایات موصول ہوئی ہیں۔ پہلے معاملے میں ایک ممکنہ صارف جناب عاطف سکھیرا ہونڈا سوِک 1.8 خریدنے کے لیے ہونڈا پوائنٹ لاہور پہنچے۔ انہیں پرانی انوائس پر گاڑی خریدنے کی پیشکش کی گئی تھی، جو ہونڈا اٹلس کے نام بنائے گئے پے آرڈر کی صورت میں 37 لاکھ 63 ہزار روپے کی ہے۔ جب انہوں نے گاڑی کی فراہمی کے لیے ڈیلرشپ سے رابطہ کیا تو انہیں اضافی 1 لاکھ 80 ہزار روپے پریمیم یا آن منی کے طور پر نقد کی صورت میں جمع کروانے کو کہا گیا۔ 

دوسرے واقعے میں ، ممکنہ صارف جنہوں نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، لاہور میں ہونڈا سوِک 1.8 خریدنے کے لیے ہونڈا سٹی سیلز پہنچے ۔ انہیں بھی پرانی انوائس پر گاڑی خریدنے کی پیشکش کی گئی، جو 36 لاکھ 13 ہزار روپے کی تھی۔ البتہ ڈیلر نے ہونڈا اٹلس کے نام پے آرڈر کی صورت میں دی گئی رقم کے علاوہ ایک لاکھ روپے مزید دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ 

دونوں واقعات میں ممکنہ صارفین نے گاڑی خریدنے سے انکار کردیا۔ ایسا لگتا ہے کہ دونوں ہونڈا ڈیلرز صارفین سے پریمیم یا آن منی لے رہے تھے کیونکہ گاڑیوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور یہ ڈیلرز اس صورت حال کا ناجائز فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ 

صارفین کے حقوق کے نمایاں علم بردار کی حیثیت سے PakWheels.com نے اچھی صحافتی روایات کی پیروی کرتے ہوئے ہونڈا اٹلس کے ساتھ ساتھ ان دونوں ڈیلرز سے بھی رابطہ کیا کہ جن پر یہ غیر قانونی اقدامات اٹھانے کا الزام ہے۔ 

سکّے کا دوسرا رُخ 

دونوں ڈیلرشپس نے تصدیق کی کہ انہوں نے پرانی رسید پر مزید رقم طلب کی۔ ان کے مطابق صارف کو پرانی رسید پر 36 لاکھ 13 ہزار روپے یا نئی رسید پر 4 لاکھ روپے ادا کرنے کا انتخاب ہے۔ صارفین کو ہونڈا کی مقرر کردہ قیمت کے بجائے اپنی مرضی کی قیمت ادا کرنے کی لالچ دینا صارفین کے ساتھ کھلی دھوکے بازی ہے۔ 

جب PakWheels.com نے ہونڈا اٹلس سے رابطہ کیا تو انہوں نے ڈیلرز کو ایسی کوئی بھی حرکت کرنے کی اجازت دینے کی تردید کی۔ 

“ہونڈا اٹلس ہمیشہ پریمیم اور رعایتوں کی سخت حوصلہ شکنی کرتا ہے،” ہونڈا اٹلس کارز کے جناب ممتاز احمد نے کہا۔ “صارفین کی سہولت کے لیے ہم نے “نہ پریمیم اور نہ رعایت” کی ہونڈا پالیسی کو تمام 3S ڈیلرز کے کسٹمر ڈیلنگ ایریا میں آویزاں کیا جاتا ہے۔ کسی ہونڈا ڈیلر صارفین سے کسی بھی قسم کا پریمیم لینے کی اجازت نہیں اور اگر ہمیں کوئی ثبوت ملے تو ان کے خلاف سخت انضباطی کارروائی کی جائے گی۔ صارفین کی سہولت کے لیے شکایات نمبرز بھی پیش کیے جاتے ہیں۔” 

نامعلوم صارف کی شکایت کے حوالے سے ہونڈا اٹلس نے کہا کہ “ڈیلر نے درست قیمت بتائی، ایک لاکھ روپے 24 سے 29 جون کے درمیان خریدی گئی گاڑیوں کی قیمت کا اضافہ تھا۔ کوئی بھی ڈیلر OEM کے نام پر ڈیمانڈ ڈرافٹ کے ساتھ پریمیم نہیں مانگ سکتا۔” 

PakWheels.com کہتا ہے ۔۔۔۔

ایسی غیر اخلاقی کاروباری حرکات میں پڑکر یہ ڈیلرشپس نہ صرف اپنی بلکہ ہونڈا اٹلس کی ساکھ بھی خراب کر رہی ہیں۔ ہونڈا کو ان کے نتائج کو سامنے رکھنا چاہیے اور ایسے ڈیلرز کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔ 

ایسے ہی کسی تجربے کا سامنا کرنے والے صارفین پر ہم زور دیں گے کہ وہ کمپی ٹیشن کمیشن آف پاکستان (CCP) اور دیگر متعلقہ حکام سے رابطہ کرکے انہیں واقعے سے آگاہ کریں۔


Google App Store App Store

Top