سپریم کورٹ کو تیل کی مصنوعات پر ٹیکس رپورٹ موصول

Supreme-court

گزشتہ سال سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کسی بھی طرح مستحکم نہیں ہو رہیں۔ گزشتہ حکومت اور موجودہ نگراں حکومت دونوں نے قیمتوں میں تبدیلیاں کیں اور نہ صرف مسافروں بلکہ ٹرانسپورٹرز جیسے دیگر اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھوں سخت تنقید کا سامنا کیا۔ سخت بے چینی کے بعد سپریم کورٹ (SC) نے اس معاملے پر سوموٹو لیا اور حکام کو ہدایت کی کہ وہ قیمتوں میں اضافے پر نظرثانی کریں اور تیل کی مصنوعات پر لگائے گئے ٹیکسز پر رپورٹ پیش کریں۔

متعلقہ فریقین کی جانب سے سپریم کورٹ میں رپورٹ جمع کروائی گئی جس کے مطابق حکومت فی لیٹر پیٹرول پر 33 روپے ٹیکس لے رہی ہے۔ پیٹرول کی درآمدی قیمت 61.87 روپے ہے۔ پیٹرول پر ٹیکسز کچھ یوں لیے جا رہے ہیں:

کسٹمز ڈیوٹی: 3.15 روپے

جنرل سیلز ٹیکس (GST): 10.20 روپے

پیٹرول پر لیوی: 10 روپے

آئل کمپنی مارجن: 2.64 روپے

ڈیلر مارجن: 3.47 روپے

ان لینڈ فریٹ مارجن: 3.91 روپے

جہاں تک ڈیزل کے فی لیٹر ٹیکسز کا تعلق ہے، حکومت اس پر 46 روپے لے رہی ہے۔ ڈیزل کی درآمدی قیمت 67 روپے ہے۔ اس پر ٹیکسز کی تفصیل کچھ یوں ہے:

کسٹمز ڈیوٹی: 8.89 روپے

جنرل سیلز ٹیکس (GST): 21.86 روپے

پیٹرول پر لیوی: 8 روپے

آئل کمپنی مارجن: 2.64 روپے

ڈیلر مارجن: 2.93 روپے

ان لینڈ فریٹ مارجن: 1.55 روپے

اب دیکھتے ہیں کہ سپریم کورٹ رپورٹ جمع ہونے کے بعد کیا قدم اٹھاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت کے بعد نگراں حکومت نے عوام کو ریلیف دیتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4.26 روپے کی کمی کی تھی۔

تازہ ترین خبروں کے لیے دیکھتے رہیے۔


My name is M. Ali Laghari and I love to read and write about Cars.

Top