وفاقی دارالحکومت میں خواتین کا علیحدہ ڈرائیونگ اسکول کا مطالبہ

568

اسلام آباد میں خواتین سے علیحدہ ڈرائیونگ اسکولز کا مطالبہ کر دیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں ڈرائیونگ اسکولوں کی قلت ہے اور کئی خواتین ڈرائیونگ سکھانے کے لیے خواتین پر مشتمل عملہ چاہتی ہیں۔ 

فیسیں زیادہ ہونے کی وجہ سے بھی خواتین ڈرائیونگ نہیں سیکھ پاتیں۔ خواتین مطالبہ کر رہی ہیں کہ یہ فیسیں کم از کم آدھی کی جائیں، کیونکہ اسلام آباد میں ڈرائیونگ اسکول 15 دن کے 10,000 سے 15,000 روپے لے رہے ہیں۔ خواتین مردوں کے مقابلے میں خواتین ڈرائیونگ ٹیچرز کے ساتھ خود کو زیادہ پرسکون محسوس کرتی ہیں۔ موجودہ ڈرائیونگ اسکولز میں خواتین عملے کی تعداد یا تو بہت کم ہے یا وہ سِرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ خواتین اسلام آباد انتظامیہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ بھاری فیسوں کا نوٹس لے اور قیمتوں پر قابو پانے میں ان کی مدد کرے۔ 

متعلقہ حکام اسلام آباد میں محض خواتین کے لیے ڈرائیونگ اسکول قائم کر سکتے ہیں۔ ان اسکولوں میں ضروری ہے کہ ڈرائیونگ کی خواہش مند خواتین سے مناسب فیس وصول کی جائے۔ اس سے خواتین کو ایک ہنر عطا کرکے انہیں بااختیار بنانے میں مدد ملے گی کہ جس سے وہ کما بھی سکتی ہیں۔ وہ اس مہارت کو اپنے خاندانوں کی مدد میں بھی استعمال کر سکتی ہیں۔ یہ ڈرائیونگ اسکول طلبہ کو جلد ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔ 

حفاظتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو خواتین کے لیے کھلی سڑکوں کے بجائے ڈرائیونگ اسکول کے اندر ڈرائیونگ سیکھنا زیادہ محفوظ ہے۔ یہاں نہ صرف یہ کہ وہ خود کو کسی خطرے سے بلکہ سڑکوں پر موجود دیگر گاڑیاں چلانے والے کو بھی کسی نقصان سے بچا پائیں گی۔ 

اسلام آباد ٹریفک پولیس کے زیر انتظام موجودہ ڈرائیونگ اسکولوں میں گنجائش محدود ہے۔ اس لیے یہ ڈرائیونگ اسکول ایک وقت میں سب کی ضروریات پوری نہیں کر سکتے۔ البتہ یہ ڈرائیونگ اسکول کم فیس وصول کرتے ہیں۔ خواتین یہ بھی مطالبہ کر رہی ہیں کہ خواتین ڈرائیوروں کے لیے لازماً خواتین ٹریفک وارڈنز ہونی چاہئیں۔ کیونکہ اب خواتین ڈرائیورز کی تعداد بڑھتی جار ہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر خواتین کو مردوں جتنے تربیت کے مواقع ملیں تو وہ بھی اس شعبے میں آگے بڑھ سکتی ہیں۔ 

ایسے ہی مزید معلوماتی مواد کے لیے آتے رہیے اور اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے