یاماہا آر1 تفصیلی ریویو، قیمت، تفصیلات اور فیچرز

18 485

یہ ایک اور اسپورٹس بائیک کا دلچسپ ریویو ہے، اور اس مرتبہ ہم آپ کے لیے 2015ء یاماہا YZF-R1 لائے ہیں۔ R1 اسپورٹس بائیک کی پروڈکشن یاماہا کی جانب سے 1999ء میں شروع کی گئی تھی۔ یہ بائیک صرف ریسنگ کے لیے ڈیزائن کی گئی اور بنائی گئی تھی۔ یاماہا کی R1 نے تقریباً 22 ریسنگ ٹائٹل جیتے، اور یہی وجہ ہے کہ اسے دنیا بھر میں بہت شہرت اور مقبولیت ملی۔

یہ موٹر سائیکل ایک زبردست تاریخ اور ورثہ رکھتی ہے، اور اس کی پرفارمنس آج بھی اس کی شہرت جیسی ہی شاندار ہے۔ یاماہا R1 مشہور لوگوں کے پاس بھی ہے جیسا کہ بابر اعظم اور عرفان جونیجو کے پاس۔ پرانی R1s میں کچھ مینوئل کنٹرولز ہوتے تھے جو اب شاندار انجینئرنگ کی بدولت مکمل طور پر تبدیل ہو کر آٹومیٹک ہو چکے ہیں۔ اس اسپورٹس بائیک کی ایک خاص چیز یہ ہے کہ رائیڈر اسے اپنے مزاج کے مطابق تبدیل کروا سکتا/سکتی ہے اور اپنے لحاظ سے بھرپور تجربہ حاصل کر سکتا/سکتی ہے۔

فیچرز

پہلا اور سب سے اہم فیچر اس اسپورٹس بائیک کا ڈیزائن ہے۔ ڈیزائن ہموار اور مکمل اور بائیک کو ایک ایروڈائنامک پروفائل دیتا ہے۔ اس بائیک کے فیچرز میں سلائیڈ کنٹرول، یونیفائیڈ ABS، ٹریکشن کنٹرول، SCS، اینٹی وِیلی کنٹرول، لانچ کنٹرول اور کوئیک شفٹ سسٹم شامل ہیں۔

ڈجیٹل انسٹرومنٹس کلسٹر یہ سارے کنٹرولز کنٹرول کیے جا سکتے ہیں۔ اس انسٹرومنٹ کلسٹر میں موڈز اور پاور آپشنز ہیں۔ اس ماڈل میں تھروٹل کیبل پوری طرح سے الیکٹرک ہے۔ تھروٹل کیبل کی سختی اور مضبوطی چلانے والا اپنی ضروریات کے مطابق ایڈجسٹ کرسکتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ فارورڈ تھرسٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک وِیل لفٹ کنٹرول شامل کیا گیا ہے۔ یہ بائیک ایک آفٹر مارکیٹ Scorpion ایگزاسٹ اور نئے مچلن ٹائرز رکھتی ہے۔

ضرورت پڑنے پر ہموار اپ شفٹ اور ڈاؤن شفٹ میں کوئیک-شفٹ سسٹم بھرپور مدد دیتا ہے اور ان شفٹس کا موٹر سائیکل کی رفتار کا تعلق بناتا ہے۔ R1 کے ایکسٹیریئر کا رنگ کالا ہے۔ R1 M کے نام سے ایک اور ویریئنٹ متعارف کروایا گیا تھا کہ جس میں کئی ظاہری تبدیلیاں کی گئی تھیں تاکہ یہ بائیک زیادہ اسپورٹی اور زیادہ aggressive لگے۔ فرنٹ میں اب پچھلی جنریشنز کی پروجیکٹر ہیڈلائٹس کے بجائے اب R1s کو ڈوئل LED ہیڈلائٹس دی گئی ہیں۔ یہ LED ہیڈلائٹس بائیک کے ECU کے ذریعے ایڈجسٹ بھی کی جا سکتی ہیں۔ سائیڈ مررز میں LED ٹرن انڈی کیٹرز شامل ہیں اور LED DRLs بھی شامل کیے گئے ہیں اسے ایک aggressive لُک دیتے ہیں۔

پرفارمنس

یاماہا YZF-R1‏ ایک 998cc کے ان لائن 4-سلنڈر CP4 انجن کے ساتھ آتی ہے۔ یہ ایک لیکوئڈ-کُولڈ 16 والو انجن ہے۔ یہ انجن کراس-پلین کرینک شافٹ ٹیکنالوجی رکھتا ہے جو YZR-M1 سے لی گئی ہے۔ اس انجن میں موجود CP4 موٹر ٹارک کی مستقل اور مسلسل فراہمی کو یقینی بناتی ہے۔ یہ پچھلے پہیے پر گرِپ اور بائیک کی مجموعی اسٹیبلٹی کو بہتر بناتی ہے۔ یہ موٹرسائیکل صرف 4.1 سیکنڈز میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹہ اور 9.45 سیکنڈز میں 0 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تک جاسکتی ہے۔ فیکٹری سے آنے والی اسٹینڈرڈ بائیک میں یہ انجن 13,750rpm تک جا سکتا ہے۔ یہ اسپورٹس بائیک تقریباً 200bhp پیدا کرتی ہے، جو اس موٹر سائیکل کے لیے غیر معمولی ہے۔ انجن میں ایک wet ملٹی-پلیٹ اسِسٹ اور سلپر کلچ کے ساتھ 6-اسپیڈ ٹرانسمیشن لگائی گئی ہے۔

یاماہا R1 تفصیلی ریویو، قیمت، تفصیلات اور فیچرز – وڈیو:

اس بائیک کی بریکنگ کو بہتر بنانے کے لیے یاماہا نے 10-اسپوک کاسٹ میگنیشیئم وِیلز استعمال کیے ہیں۔ میگنیشیئم وِیلز کا وزن الائے وِیلز سے کم ہوتا ہے۔ وزن میں ہلکے ہونے کے باوجود میگنیشیئم وِیلز الائے وِیلز سے زیادہ مضبوظ ہوتے ہیں۔ بریک کو زیادہ موثر بنانے کے لیے ڈوئل ہائیڈرولک سلنڈرز شامل کیے گئے ہیں۔ اس موٹر سائیکل کا فرنٹ روٹر 320 ملی میٹر کا ہے اور یہ 4-پسٹن ریڈیئل ماؤنٹڈ فرنٹ کیلپرز سے جڑا ہوا ہے۔ بریک سسٹم کی سختی کو بھی انسٹرومنٹ کلسٹر استعمال کرکے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ یہ بائیک ایک ہموار سفر پر 15 کلومیٹرز فی لیٹر دیتی ہے، اور اگر آپ اسے بہت aggressively چلائیں گے تو یہ شرح تیزی سے نیچے جا سکتی ہے۔ پاکستان میں آپ کو یہ موٹر سائیکل ہائی-اوکٹین پر چلانا پڑے گی۔

چیسی اور سسپنشن

اس اسپورٹس بائیک کا وزن کم کرنے کے لیے یاماہا نے اس میں ایک ایلومینیئم فیول ٹینک شامل کیا ہے جس کی گنجائش 4.5 گیلن ہے اور وزن صرف 3.5 پاؤنڈز ہے۔ یاماہا نے اس بائیک میں ایک پتلا ایلومینیئم ڈیلٹا باکس فریم استعمال کیا ہے۔ چیسی میں میگنیشیئم کا استعمال بھی کیا گیا ہے تاکہ اس موٹر سائیکل کو وزن میں ہلکا اور شکل اور ڈیزائن میں کومپیکٹ بنایا جا سکے۔ یاماہا نے اس اسپورٹس موٹرسائیکل میں ک؛ی سوئنگ-آرم سسپنشن سسٹم بھی استعمال کیا ہے، جسے بائیک کے ECU کا استعمال کرکے ٹیون کیا جاسکتا ہے۔

‏R1 میں میگنیشیئم وِیلز کا استعمال ٹریک پر بہتر ہینڈلنگ اور راستے کو فوراً تبدیل کرنے میں مدد دیتا ہے۔ سسپنشن کا ایک اور اہم فیچر یونائیٹڈ بریکنگ سسٹم ہے جو فرنٹ بریک ایکٹیویٹ ہوتے ہی ریئر بریکس کو اپلائی کرنے میں مدد دیتا ہے۔ یہ غیر ضروری ریئر-اینڈ موشن کو روکنے کے لیے اہم ہے۔ ہینڈلنگ کو بہتر بنانے کے لیے مکمل طور پر ایڈجسٹ ایبل KYB شاکس شامل کیے گئے ہیں۔ یہ شاکس پیدا ہونے والے ٹارک کو ٹریک کی سطح پر منتقل کرنے میں بھی مدد دیتے ہیں۔

فیصلہ

اس R1 کے مالک نے اسے 2019 کے آخر میں خریدا تھا۔ مالک کے پاس یاماہا R6 اور BMW S1000rr بھی ہے۔ اس بائیک کی پاور ڈلیوری اور ایکسٹیریئر کی خوبصورتی اسے دوسری اسپورٹس بائیکس سے مختلف بناتی ہیں۔ اس سے پہلے یاماہا R1 میں کچھ ہِیٹنگ کے مسئلے تھے جن کا حل بہتر ٹیکنالوجی کے ساتھ اِس جنریشن میں نکالا گیا ہے۔ مالک نے ایگزاسٹ سسٹم تبدیل کروایا، جس کے بعد بائیک کا پِک بہتر ہو گیا ہے اور یہ ہموار ایکسلریشن دیتی ہے۔ جہاں تک اسپیئر پارٹس کا تعلق ہے تو آپ کو یہ باہر ملک سے منگوانے پڑیں گے؛ یہی وجہ ہے کہ پارٹس مہنگے ہیں۔ R6 اور R1 کی دیکھ بھال کا خرچہ ایک جیسا ہے۔ اس بائیک کی قیمت 30 سے 40 لاکھ روپے کے درمیان ہے۔

یاماہا R1 کے بارے میں مزید جاننے کے لیے PakWheels.com فورمز پر کلک کریں

ایسے ہی ریویو پر مبنی کونٹینٹ کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں اور اپنی رائے نیچے کمنٹس میں پیش کریں۔

Click to discuss more about Yamaha R1 at PakWheels.com forums

Stay tuned on PakWheels Blog for more review-based content and drop your thoughts in the comments section below.

Recommended Read for you: Toyota Hilux Revo 2017 Owner’s Review: Specs & Features

Google App Store App Store
تبصرے