بالآخر فردوس مارکیٹ انڈر پاس مکمل ہو گیا!

0 4 022

فردوس مارکیٹ انڈر پاس کئی مرتبہ کی تاخیر کے بعد بالآخر مکمل ہو گيا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (LDA) اس ہفتے منصوبے کو مکمل کر دے گی۔

لعل شہباز قلندر انڈر پاس نامی اس منصوبے پر تعمیراتی کام مئی 2020ء میں شروع ہوا تھا۔ انڈر پاس 90 دن میں مکمل ہونا تھا، لیکن اس میں تین مہینے کی تاخیر ہوئی۔ اس سے پہلے LDA  کا منصوبہ تھا کہ انڈر پاس کو چار مہینوں میں مکمل کرے، لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے 90 دن میں مکمل کرنے کی ہدایت کی۔

بعد میں وزیر اعلیٰ نے سائٹ کا دورہ کیا اور تاخیر پر چیف پروجیکٹ انجینیئر کو ہٹا دیا۔ سی ایم ہاؤس نے LDA کے ڈائریکٹر جنرل اور ایڈیشنل ڈی جی کو کام کی سست رفتاری پر ایک شوکاز نوٹس بھی جاری کیا۔

فردوس مارکیٹ انڈر پاس کی لاگت:

منصوبے کی تکمیل پر ابتدائی لاگت 1.76 ارب روپے تھی، جس میں زمین کا حصول اور تعمیر دونوں شامل ہیں۔ البتہ حکومتِ پنجاب نے ٹھیکہ صرف 990 ملین روپے کا دیا تھا۔ اس طرح سرکاری خزانے میں 130 ملین روپے بچے۔

تکمیل کے بعد دو لین کا 540 میٹر طویل انڈر پاس DHA، کیولری گراؤنڈ اور گلبرگ کے ٹریفک کو سہولت دے گا۔ منصوبے میں پانی کے اخراج کے لیے خاص انتظامات کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ روزانہ 91,000 گاڑیوں کو سہولت دے گا، جبکہ لاکھوں روپے مالیت کا فیول بھی بچے گا۔

فردوس مارکیٹ پر ایک انڈر پاس کی تعمیر کا مطالبہ بہت پہلے سے تھا۔ اس چوک پر ٹریفک جام ہونے کا مسئلہ بہت سنجیدہ تھا، خاص طور پر رش کے اوقات میں۔ انڈر پاس ٹریفک کے رواں بہاؤ، عوام کے وقت اور پیسے کی بچت میں مدد دے گا۔

اس کے علاوہ یہ منصوبہ اردگرد رہنے والے افراد کی پریشانی کا بھی خاتمہ کرے گا کیونکہ ٹریفک بلاک ہونے سے پورے علاقہ متاثر ہوتا تھا۔

اس پروجیکٹ کے حوالے سے اپنے خیالات شیئر کیجیے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے علاقے میں ٹریفک کے بہاؤ میں مدد ملے گی؟ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ ٹریفک جام کو کم کرے گا؟

آٹوموبائل انڈسٹری کے حوالے سے مزید ویوز، ریویوز اور نیوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.