ہونڈا سٹی کی تمام جنریشنز کی مکمل تاریخ

0 7 142

گاڑیاں بنانے والی مشہور جاپانی کمپنی ہونڈا نے 1981ء میں سٹی کا پہلا ماڈل پیش کیا تھا، یہ ایک تین دروازوں والی ہیچ بیک تھی۔ سٹی کے لیے ہونڈا کا ہدف تھا جاپان، یورپ اور آسٹریلیا کی مارکیٹ۔ 1981ء سے لے کر 1993ء تک سٹی کو ایک ہیچ بیک کے طور پر پیش کیا گیا، یہاں تک کہ 1993ء میں اسے discontinue کر دیا گیا کیونکہ یہ دوسری گاڑیوں کا مقابلہ نہیں کر پا رہی تھی۔ پھر 1996ء میں ایک مرتبہ پھر سٹی کا نام سامنے آیا لیکن اس مرتبہ یہ گاڑی ایک سیڈان کے طور پر پیش کی گئی، جس کا ہدف ایشیا کی مارکیٹیں تھیں۔ 

ہم یہاں سٹی کی ان تمام جنریشنز کی تاریخ پیش کر رہے ہیں، خاص طور پر پاکستان اور انٹرنیشنل مارکیٹ کے لحاظ سے۔ 

ہونڈا سٹی پہلی جنریشن (‏1981-1986ء‎) 

سٹی کی پہلی جنریشن نومبر 1981ء میں پیش کی گئی تھی، جو ہونڈا کی سب سے چھوٹی کار تھی۔ یہ 2 دروازوں والی کنورٹیبل اور 3 دروازوں والی ہیچ بیک کے طور پر متعارف کروائی گئی تھی۔ اس میں 1293cc کے انجن کے ساتھ مختلف trim لیولز بھی تھے جنہیں 4 یا 5 اسپیڈ مینوئل اور 3 اسپیڈ ہونڈامیٹک آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ پیش کیا گیا۔

Honda City First Generation

ستمبر 1982ء میں ہونڈا سٹی کا ایک ٹربو ورژن بھی پیش کیا گیا جو 108 ہارس پاور اور 160 Nm ٹارک رکھتا تھا۔ اس ٹربو ماڈل میں سسپنشن بھی اپڈیٹ کیا گیا تھا۔

ہونڈا سٹی دوسری جنریشن (‏1986-1993ء‎) 

نومبر 1986ء میں سٹی کی اصل سیریز AA کی جگہ GA سیریز کو دی گئی۔ یہ گاڑی جاپان میں «City of talent» کے سلوگن کے ساتھ ایک مناسب قیمت پر پیش کی گئی تھی۔ 3 دروازوں کی یہ ہیچ بیک 1296 سی سی انجن کے ساتھ 5-اسپیڈ مینوئل یا 4-اسپیڈ آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ آئی تھی۔  ۔ 1993ء میں اس جنریشن کی پیداوار ختم کر دی گئی اور سٹی کو باضابطہ طور پر ریٹائر کردیا گیا۔

Honda City Second Generation

ہونڈا سٹی تیسری جنریشن (‏1996-2002ء)‎ 

اپریل 1996ء میں سٹی کو ایک نئی زندگی ملی۔ تھائی لینڈ میں بنائے جانے والے ایک نئے پلانٹ میں اس کی پیداوار شروع کی گئی۔ یہ EF سوِک پلیٹ فارم پر بنائی گئی گاڑی تھی۔ اسے ڈیزائن جنوب مشرقی ایشیا میں کیا گیا اور فروخت بھی۔ یہ گاڑی برصغیر میں بہت کامیاب ہوئی۔

Honda City Third Generation

ہونڈا سٹی کی تیسری جنریشن 1.3L اور 1.5L انجن کے ساتھ اور 4-اسپیڈ آٹومیٹک اور 5-اسپیڈ مینوئل ٹرانسمیشن میں پیش کی گئی تھی۔ یہ ایک فیول-انجیکٹڈ 16-والو D-سیریز انجن رکھتی تھی، بالکل ویسا ہی جو ہونڈا سوِک کی چوتھی جنریشن میں لگایا گیا تھا، لیکن سوِک سےمختلف کرنے کے لیے ہونڈا نے اس کے انٹیریئر اور ایکسٹیریئر کو ذرا مختلف اندازمیں ڈیزائن کیا تھا۔ 

1997ء میں سٹی پاکستان میں ایک نیا نام تھا، مارکیٹ میں پہلے ہی سے کئی بڑے نام موجود تھے۔ ٹویوٹا کرولا اور ہونڈا سوِک 1990ء کی دہائی میں پاکستانیوں کی اوّلین پسند تھی جبکہ سوزوکی مارگلہ بھی ایک قابلِ اعتماد نام تھا کیونکہ اس کی قیمت کرولا اور سوِک سے کم تھی۔ سٹی پاکستان میں نئی نئی تھی لیکن اس کے باوجود اس نے پہلے ہی سال میں مارگلہ کو ٹھیک ٹھاک نقصان پہنچایاجس کی فروخت 6,000 سے کم ہوکر 3,000 یونٹس رہ گئی۔ سٹی نے ہر لحاظ سے مارگلہ کو شکست دی کیونکہ اس میں AC، پاور وِنڈوز، پاور اسٹیئرنگ، ایک طاقتور انجن، ہموار ڈرائیونگ، آٹومیٹک ٹرانسمیشن تھی اور یہ دیکھنے میں بھی اس سے بڑی گاڑی تھی۔ 

فیس لفٹ

سٹی کو 2000ء میں ایک فیس لفٹ دیا گیا اور یہ بھی اتنا ہی مقبول ہوا جتنا پچھلا ورژن تھا۔ پارٹس پہلے ہی مارکیٹ میں مل رہے تھے کیونکہ یہ چوتھی جنریشن کی سوِک پر بنائی گئی تھی۔

Honda City Third Generation Facelift

ہونڈا سٹی چوتھی جنریشن (‏2002-2008ء‎) 

تیسری جنریشن کی مقبولیت کے بعد 2002ء میں چوتھی جنریشن بھی متعارف کروا دی گئی جو ایک بالکل مختلف ڈیزائن، انجن اور خصوصیات رکھتی تھی۔ اس کار نے مختلف trim لیولز کے ساتھ اپنے فیچرز کی بدولت خوب شہرت حاصل کی۔ اس کو بنانے والوں کی بنیادی توجہ فیول کی بچت کے ساتھ ساتھ اس کے ڈیزائن پر بھی تھی۔ یہ ٹوئن-اسپارک i-DSI انجن کے ساتھ آئی تھی جس میں 8 پلگز تھے، اسی لیے یہ گاڑی زبردست فیول اکانمی دیتی تھی۔

Honda City Fourth Generation

گاڑی کے پچھلے حصے میں فرش ہموار تھا جس کی وجہ سے زیادہ لیگ رُوم اور آرام دہ سفر موقع ملا۔ انٹیریئر beige رنگت کا تھا جس میں اسٹوریج کے لیے کئی کمپارٹمنٹس دیے گئےتھے۔  

بعد میں اِس جنریشن کو فیس لفٹ دینے سے پہلے ایک VTEC ورژن بھی متعارف کروایا گیا۔ یہ ورژن 15 انچ الائے رِمز اور پچھلے حصے میں ڈرمز کے بجائے solid ڈِسک بریکس کے ساتھ آیا۔ اس کے علاوہ یہ ورژن ایک 7-اسپیڈ ملٹی میٹک CVT آٹومیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ بھی  آیا تھا۔ 

فیس لفٹ

2005ء میں اس ورژن کو کچھ بڑا کرکے نئی لائٹس اور گرِلز کے ساتھ ایک فیس لفٹ ورژن پیش کیا گیا۔ انٹیریئر میں بھی کچھ معمولی تبدیلیاں کی گئی تھیں۔

Honda City Fourth Generation Facelift

اسٹیئرمیٹک ورژن میں کئی تبدیلیاں کی گئیں لیکن اس کے باوجود یہ پاکستان میں ناکام ہوا، لیکن i-DSI نے اچھی کارکردگی  پیش کی۔

ہونڈا سٹی پانچویں جنریشن (‏2008-2014ء‎) 

پانچویں جنریشن کو پاکستان میں اب 10 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں اور اسے اتنے فیس لفٹ ملے ہیں کہ شاید ریکارڈ بن گیا ہو۔ یہ جنریشن 2009ء میں 1.3L اور 1.5L ویرینٹس کے ساتھ آٹومیٹک اور مینوئل ٹرانسمیشن میں پیش کی گئی تھی۔ 1.3L انجن 98 ہارس پاور اور 1.5L انجن 118 ہارس پاور پیدا کرتا تھا۔ 2012ء میں ہونڈا سٹی ایسپائر 1.3L اور 1.5L مینوئل اور پروسماٹیک ٹرانسمیشن میں متعارف کروائی گئی تھی جس میں keyless اِنٹری، ایک navigation سسٹم، الائے رِمز اور لیدر انٹیریئر پیش کیا گیا تھا۔

Honda City Fifth Generation

پانچویں جنریشن کی سٹی ایسپائر ورژن کے بعد پاکستان میں بہت مقبول ہوئی۔ مناسب قیمت کے ساتھ ساتھ فیول میں بچت، ہموار ڈرائیونگ اور ABS بریکس کی وجہ سے اسے لوگوں نے بہت پسند کیا۔ 2017ء میں اس میں immobilizer بھی پیش کر دیا گیا لیکن اب تک ایئربیگز نہیں دیے گئے۔ اب تو یہ گاڑی ایک مذاق بن چکی ہے، ایک ایسے وقت میں جب انٹرنیشنل مارکیٹ میں ساتویں جنریشن مل رہی ہے، ہم ابھی تک پانچویں جنریشن خرید رہے ہیں، وہ بھی بغیر ایئر بیگز کے۔ ویسے حال ہی میں ہونڈا نے 1.3L ایسپائر کا خاتمہ کیا ہے اور انٹیریئر میں کچھ تبدیلیاں کرکے 1.5L بیسک ویرینٹ متعارف کروایا ہے۔

Honda City Fifth Generation

ہونڈا سٹی چھٹی جنریشن (‏2014-2019ء‎) 

پاکستانی مارکیٹ میں چھٹی جنریشن متعارف نہیں کروائی گئی اور یہاں اب بھی پانچویں جنریشن ہی پیش کی جا رہی ہے۔ چھٹی جنریشن بین الاقوامی مارکیٹ میں 2015ء میں متعارف کروائی گئی تھی۔ یہ گاڑی مکمل طور پر ری ڈیزائن کی گئی تھی اور اسے پچھلی جنریشن سے بالکل مختلف بنایا گیا تھا۔ اس کار کی فرنٹ گرِل ہیڈلائٹس کے ساتھ مل کر ایک bold look دیتی ہیں اور بمپر نے بھی اس کی ظاہری شکل و صورت کو کافی بہتر بنایا ہے۔ 

اس گاڑی میں موجود وہ فیچرز جو پچھلی جنریشن میں موجود نہیں تھے، کچھ  یہ ہیں، کلائمٹ کنٹرول، ریئر AC وینٹس، آٹھ اسپیکرز، الیکٹرانک اسٹیبلٹی کنٹرول، ویری ایبل اسٹیبلٹی اسسٹ (VSA) اور بلوٹوتھ آڈیو۔ 

Honda City Sixth Generation

فیس لفٹ

2017ء میں LED ہیڈلائٹس کے ساتھ ساتھ DRLs اور ذرا مختلف قسم کی فرنٹ گرِل متعارف کروا کے چھٹی جنریشن کو فیس لفٹ دیا گیا۔ جاپان اور ملائیشیا میں ایک نیا ہائبرڈ ورژن متعارف کروایا گیا۔ پاکستان میں ہونڈا سٹی کی چھٹی جنریشن کے ہائبرڈ ورژن کے طور پر گرَیس (Grace) کا استعمال ہو رہا ہے۔

Honda City Sixth Generation facelift

ہونڈا سٹی ساتویں جنریشن (‏2019ء-تاحال‎) 

پاکستان کو چھٹی جنریشن دیکھنے کو ہی نہیں ملی اور دنیا ساتویں جنریشن پر منتقل ہو گئی۔ ساتویں جنریشن کی فروخت نومبر 2019ء میں شروع ہوئی۔ ساتویں جنریشن CVT کے ساتھ 1.0L ٹربو چارجڈ تھری-سلنڈر انجن میں آتی ہے۔ اس جنرشیشن میں ایک 1.5L ہائبرڈ ویرینٹ بھی متوقع ہے۔ 

اس کے اہم فیچرز میں پاور سن رُوف، آٹومیٹک کلائمٹ کنٹرول، آٹو ہیڈلیمپ، آٹو وائپرز، پاور ایڈجسٹ ایبل ڈرائیورز سیٹ شامل ہیں۔ سیفٹی کے لیے 6 ایئر بیگز، ABS، ٹریکشن کنٹرول، ہِل ہولڈ اسسٹ، اسپیڈ الرٹس، ایک ریورس پارکنگ کیمرا مع سینسرز بھی اس میں موجود ہیں۔

Honda City Seventh Generation

ہمیں اپنے تبصروں میں بتائیں کہ کون سی ہونڈا سٹی بہترین ہے۔ مزید معلوماتی تحاریر کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔

Recommended for you: 5 sedans to be launched in Pakistan in 2020

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.