ہونڈا سوِک کی تمام جنریشنز کی مکمل تاریخ

0 5 038

1963ء سے پہلے ہونڈا موٹر سائیکلیں بنانے کے لیے مشہور تھا یہاں تک کہ اس نے ایک مِنی پک اَپ ٹرک بنایا اور پھر 1966ء میں ایک Kei کار بھی پیش کی، جس کا نام تھا N360۔ اگلے چند سالوں میں اُس نے مزید ماڈلز ریلیز کیے، جن میں سوِک بھی شامل تھی۔ سوِک اصل میں N360 کی successor تھی، جس نے ہونڈا کو آٹوموبائل انڈسٹری کے بڑے ناموں کے خلاف ڈومیسٹک اور ایکسپورٹ دونوں مارکیٹوں میں کامیابی دلائی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہونڈا سوِک ایک ایسی کار ہے جس نے موٹر سائیکلیں بنانے والی اِس کمپنی کو ایک بڑا کار مینوفیکچرر بنا دیا۔

پہلی جنریشن ہونڈا سوِک (‏1972-1979ء)‎ 

پہلی جنریشن کی ہونڈا سوِک 1972ء میں introduce کروائی گئی تھی۔ یہ دو forms میں دستیاب تھی، ایک 5 دروازوں والی اسٹیشن ویگن اور ایک 3 یا 5 دروازوں کی ہیچ بیک میں۔ یہ 1169cc کی displacement کا ایک 4-سلنڈر انجن رکھتی تھی جس کے فرنٹ اینڈ پر ڈِسک بریکس تھے۔ کسٹمز کو کچھ اضافی رقم ادا کرنے پر ریڈیو اور AC کا آپشن بھی دیا گیا تھا۔

سوِک 1973ء کے آئل کرائسس کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ لوگوں کو ایسی کاروں کی ضرورت تھی جو fuel-efficient ہوں اور ہونڈا نے سوِک کی شکل میں یہ حل پیش بھی کر دیا۔  انجن لَیڈڈ اور اَن لَیڈڈ فیول کے ساتھ compatible تھا۔ CVCC انجن میں کوئی کیٹالیٹک کنوَرٹر نہیں تھا جس سے اس کی combustion بہت efficient تھی اور یوں فیول کی بچت ہوتی تھی۔

1st-Generation-Honda-Civic

دوسری جنریشن ہونڈا سوِک (‏1979-1983ء‎) 

دوسری جنریشن 3 اور 5 دروازوں کی ہیچ بیکس، 5 دروازوں کی ویگن اور 4 دروازوں والی سیڈان میں آئی تھی۔ اس کے انجنز زیادہ بڑے اور زیادہ طاقتور تھے۔ یہ انجنز CVCC ڈیزائن کے ساتھ 55 ہارس پاور دینے والے 1335cc کے بیسک انجن اور 67 ہارس پاور دینے والے 1488cc کے آپشنل انجن پر بنے ہوئے تھے۔ ہونڈا نے 2-اسپیڈ سیمی-آٹومیٹک یا 4 یا 5-اسپيڈ مینوئل ٹرانسمیشن پیش کی تھی۔

2nd-Generation-Honda-Civic

تیسری جنریشن ہونڈا سوِک (‏1983-1987ء‎) 

تیسری جنریشن ستمبر 1983ء میں ریلیز ہوئی۔ کمپنی نے 5 دروازوں کے ویگن اور ہیچ بیک ماڈلز کو 5 دروازوں کی شٹل کار میں لگایا۔ یہ ماڈل 4-سلنڈر D سیریز انجن رکھتا تھا کہ جو ہونڈا آنے والے سالوں میں بہت عرصے تک استعمال کرتا رہا۔ لوکل مارکیٹ کے لیے ایک ہائی پرفارمنس کار پیش کی گئی، اور اس کا موڈیفائیڈ ورژن امریکا بھیجا گیا تھا۔ 4 وِیل ڈرائیو بھی اسی سال میں ریلیز کی گئی۔ 1985ء ماڈل میں 8 والو کا فیول efficient انجن تھا کہ جو ہائی وے پر زبردست اکانمی دیتا تھا۔

چوتھی جنریشن ہونڈا سوِک (‏1987-1991ء‎) 

یہ ایک ری ڈیزائن ماڈل تھا جو کمپنی نے 1987ء میں ریلیز کیا۔ مختلف ملکوں میں مختلف ماڈلز مختلف ٹرِمز کے ساتھ لانچ کیے گئے تھے۔ یہ پچھلے ماڈلز سے تھوڑا سا بڑا تھا۔ ساری کاروں میں اب ایک مکمل آزاد ریئر سسپینشن تھا۔ ایک نیا 16-والو 1.6L انجن بھی متعارف کروایا گیا کہ جو ڈبل-وِش بون سسپنشن اور ایروڈائنامک اسٹائلنگ رکھتا تھا جو اسے ریسنگ کرنے والی کار بناتا تھا۔

4th-Generation-Honda-Civic

پانچویں جنریشن ہونڈا سوِک (‏1991-1995ء‎) 

ہونڈا نے 1991ء میں زیادہ بڑا اور زیادہ اسٹریم لائنڈ ڈیزائن رکھنے والا ماڈل متعارف کروایا۔ یہ پچھلے ماڈلز کے مقابلے میں فیول کی بھی زیادہ بچت کرتا تھا۔ جب یہ کار متعارف کروائی گئی تھی تو اسے جاپان میں کار آف دی ایئر کا ایوارڈ ملا تھا۔ یہ 2 دروازوں والی کوپ، 3 دروازوں والی ہیچ بیک اور 4 دروازوں والی سیڈان میں آئی تھی۔ یہ 102 ہارس پاور دینے والے 1.5L انجن اور 125 ہارس پاور دینے والے آپشنل 1.6L انجن میں پیش کی گئی تھی۔

5th-Generation-Honda-Civic

چھٹی جنریشن ہونڈا سوِک (‏1995-2000ء‎) 

چھٹی جنریشن 1995ء میں بغیر کسی اپگریڈڈ اسٹائلنگ کے لانچ کی گئی تھی۔ 1999ء میں ایک فیس لفٹ متعارف کروایا گیا کہ جس میں ریئر لائٹس کو تبدیل کیا گیا اور پھر 2000ء میں ایک اوریئل ورژن بھی سن رُوف کے ساتھ پیش کیا گیا۔ ہونڈا نے بعد میں 1999ء اور 2000ء ماڈلز کے لیے کوپ بھی متعارف کروائی۔ یہ کار ریسنگ اور موڈیفکیشن کے لیے آج بھی بہترین سمجھی جاتی ہے۔

6th-Generation-Honda-Civic

ساتویں جنریشن ہونڈا سوِک (‏2000-2005ء‎) 

ساتويں جنریشن 2000ء میں 2001ء ماڈل کے لیے متعارف کروائی گئی تھی۔ ایک بڑے انٹیریئر کے لیے سسپینشن میں تبدیلی کی گئی تھی کہ جس میں پچھلے حصے میں فلور میں کوئی bump نہیں تھا۔ اس جنریشن میں پہلی بار ایک ہائبرڈ ماڈل بھی پیش کیا گیا۔ ہونڈا کے مطابق یہ اپنے وقت میں ہونڈا کی سب سے fuel-efficient کار تھی۔

7th-Generation-Honda-Civic

آٹھویں جنریشن ہونڈا سوِک (‏2005-2012ء‎) 

یہ کار اسٹیبلٹی کنٹرول اور ایئربیگز کی وجہ سے سوِک کی جنریشنز میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی کار تھی۔ یہ 5-اسپیڈ مینوئل یا پروسمیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ 1.8L کا طاقتور انجن رکھتی تھی۔ دنیا بھر میں اس کے ریکارڈ یونٹس فروخت ہوئے جس میں امریکا میں 70 لاکھ یونٹس کی فروخت بھی شامل تھی۔ یہ کار ایک ہائبرڈ ورژن بھی رکھتی تھی، لیکن یہ اتنا مشہور نہیں ہوا۔

نویں جنریشن ہونڈا سوِک (‏2012-2015ء‎) 

نویں جنریشن کی ہونڈا سوِک تمام جنریشنز میں سب سے کم مشہور ماڈل تھا۔ پاکستان میں یہ صرف 3 سال تک رہا۔ سوِک سیڈان 5-اسپیڈ مینوئل یا پروسمیٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ 1.8L انجن کی طاقت رکھتی تھی، جو 142 ہارس پیدا کرتا تھا۔ ان ماڈلز میں EBD، VSA اور ABS کے ساتھ ایکو اسِسٹ ٹیکنالوجی متعارف کروائی گئی تھی۔ ملٹی-لِنک ریئر سسپنشن سفر کو بہت smooth بناتی تھی۔

9th-Generation-Honda-Civic

دسویں جنریشن ہونڈا سوِک (‏2015ء سے اب تک)‎ 

یہ ماڈل پچھلے ساری جنریشنز کے مقابلے میں تبدیل کیا گیا تھا۔ اس کا ٹائپ-R ابھی ریلیز کیا گیا ہے۔ اسے مختلف نمایاں فیچرز کے علاوہ اسپورٹی لُک کی وجہ سے پسند کیا گیا تھا۔ اس کا انٹیریئر اور ایکسٹیریئر پچھلے ماڈلز سے بالکل مختلف تھا۔ یہ 140 ہارس پاور پیدا کرنے والے 1.8L i-VTEC انجن اور CVT ٹرانسمیشن کے 173 ہارس پاور پیدا کرنے والے 1.5L DOHC ٹربوچارجڈ انجن کے ساتھ آئی۔ ٹربوچارجڈ ماڈل میں انجن ناکنگ، پُش اسٹارٹ پرابلم، LCD اور اسٹیئرنگ پرابلمز جیسے کچھ مسائل تھے۔ لوگ اس گاڑی کے اسپورٹی لُک اور مجموعی پرفارمنس کی وجہ سے بہت متاثر ہوئے۔ پاکستان میں استعمال شدہ کاروں کی فروخت کے لیے یہاں دیکھیں۔

10th-Generation-Honda-Civic

مزید معلوماتی آرٹیکلز کے لیے پاک وِیلز بلاگز پر آتے رہیے۔

Recommended for you: Honda Atlas announces its first price hike of 2020

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.