پٹرول کی قیمت میں ایک بار مرتبہ کمی، تقریباً 100 روپے پر آ گیا!

0 7 600

وفاقی حکومت نے ایک مرتبہ پھر پٹرول کی قیمت میں کمی کر دی ہے، جس کی قیمت اب 100.69 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ یہ 15 دنوں میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کی گئی دوسری کمی ہے۔

ایک نوٹیفکیشن میں وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پٹرول کی قیمت میں 1.71 روپے کی، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) کی قیمت میں 1.79 روپے کی کمی کی گئی ہے۔

ہائی اسپیڈ ڈیزل کی نئی قیمت 101.43 روپے فی لیٹر ہے۔ جبکہ مٹی کے تیل اور لائٹ ڈیزل آئل کی قیمتیں بالترتیب 65.29 روپے اور 62.85 روپے فی لیٹر رہیں گی۔

نئی قیمتیں 16 نومبر 2020 سے لاگو ہوں گی۔

اس سے پہلے نومبر کے ابتدائی 15 دنوں کے لیے حکمران جماعت نے پٹرول کی قیمت میں 1.57 روپے فی لیٹر کی کمی کی تھی۔ اس کے علاوہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 0.84 روپے کی کمی آئی تھی۔

HSD زراعت اور ٹرانسپورٹ کے شعبے میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتا ہے، جبکہ موٹر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور کارز کے مالکان پٹرول استعمال کرتے ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یہ کمی اس وقت ہوئی ہے جب امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر بڑھ رہی ہے۔ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری سے عوام کو سکھ کا سانس ملے گا۔

پٹرول کی قیمت اور لیوی:

اس وقت حکومت پٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل، مٹی کے تیل، لائٹ ڈیزل اور دیگر پٹرولیم مصنوعات پر 17 روپے فی لیٹر بطور GST لے رہی ہے۔ حکومت ماضی کی انٹرنیشنل آئل پرائس کی بنیاد پر مقامی طور پر پٹرول کی قیمت طے کرتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ قیمتیں ملک میں امپورٹ کے وقت خام تیل کی قیمت کے مطابق طے کی جاتی ہیں۔ یعنی ہم جو پٹرول آج استعمال کر رہے ہیں وہ 45 دن پہلے خام تیل کی صورت میں درآمد ہوا ہوگا۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.