گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ لاہور میں ٹریفک مسائل کو جنم دینے لگا

909

صرف ایک سال کے عرصے میں لاہور میں ہی 1,00,000 گاڑیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں۔ کچھ شہروں میں تو گاڑیوں کی کُل تعداد ہی اتنی ہے۔ اتنی زیادہ گاڑیوں کی آمد ٹریفک کے مسائل کو جنم دے رہی ہے اور شہر کے انفرا اسٹرکچر پر آنے والی لاگت بڑھا رہی ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں انفرا اسٹرکچر پر آنے والے یہ اخراجات ٹریفک کے بہاؤ کو برقرار اور رواں رکھنے کی وجہ سے برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ 

لاہور پہلے ہی ٹریفک کے لیے بڑی سڑکیں رکھتا ہے۔ البتہ نئی گاڑیوں کی آمد اِن چوڑی سڑکوں کو بھی بے سُود بنا رہی ہے۔ 

لاہور کے بیشتر راستے اب سگنل فری ہیں تاکہ ٹریفک کے بہاؤ کو بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رکھا جا سکے۔ اس کے باوجود شہر میں ٹریفک جام معمول ہے۔ اس کی وجہ ڈرائیونگ میں غفلت اور ٹریفک قوانین کی عدم پیروی بھی ہے۔ ای-چالان سسٹم نافذ ہونے کے بعد بھی ٹریفک کی قوانین کی خلاف ورزیاں بدستور جاری ہیں۔ یہ سسٹم روزانہ کی بنیاد پر لاہور بھر میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو بڑی تعداد میں چالان کرتا ہے۔ 

صوبائی دارالحکومت ہونے کی وجہ سے لاہور کو وقتاً فوقتاً عوامی مظاہروں کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ پچھلے سال گرینڈ ہیلتھ الائنس (GHA) کے مظاہرے شہر میں بڑے پیمانے پر ٹریفک جام کا باعث بنے۔ 

موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کے جمع کیے گئے ڈیٹا کے مطابق صرف لاہور میں ہی 62 لاکھ گاڑیاں ہیں۔ لاہور میں 42 لاکھ موٹر سائیکلیں بھی ہیں۔ لاہور میں گاڑی کی یہ تعداد کتنی زیادہ ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پورے صوبہ پنجاب میں گاڑیوں کی تعداد 1 کروڑ 96 لاکھ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پنجاب کی 32 فیصد گاڑیاں لاہور میں ہیں۔ 

دیگر شہروں کے رہنے والے بھی اپنی گاڑی لاہور رجسٹریشن نمبر کے ساتھ رجسٹر کروانا چاہتے ہیں۔ لاہور رجسٹریشن نمبر کی حامل گاڑی زیادہ ویلیو رکھتی ہے اور اس کا لَین دین آسان ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کی تصدیق بھی باآسانی ہو سکتی ہے، اس لیے ان گاڑیوں کی خرید و فروخت میں فراڈ سے بچنے کے امکانات ہوتے ہیں۔ 

ایک اور وجہ یہ ہے کہ ٹریفک پالیسی دوسرے شہروں کے رجسٹریشن نمبر رکھنے والی گاڑیوں کی لاہور میں داخلے پر جانچ کرتی ہے۔ اس اذیت سے بچنے کے لیے دیگر شہروں سے بار بار لاہور آنے والے افراد اپنی گاڑیوں کے لیے لاہور رجسٹریشن کو کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

لاہور ملک میں گاڑیوں کی تجارت کے لیے بڑی مارکیٹوں میں سے ایک ہے۔ سمن آباد، جیل روڈ اور جوہر ٹاؤن کی مارکیٹیں بڑی تعداد میں آٹو ڈیلرز رکھتی ہیں۔

ساتھ ہی تمام بڑے بینک اور لیزنگ کمپنیاں پنجاب کے لیے اپنی مرکزی آپریشنز لاہور میں رکھتی ہیں۔ اس لیے عوام لاہور میں گاڑیاں خریدنے اور فوری دستاویزی کام کے ساتھ انہیں رجسٹر کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ 

مزید خبروں اور معلوماتی مواد کے لیے آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔

Google App Store App Store
تبصرے