بی آر ٹی بسوں میں آگ لگنے کی وجہ پتہ چل گئی

0 5 690

پچھلے ہفتے خیبر پختونخوا حکومت نے پشاور BRT سروس کو بند کر دیا کیونکہ 14 اگست کو افتتاح کے بعد سے اس کی چوتھی بس میں آگ لگنے کا واقعہ پیش آیا تھا۔ حکومت نے اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم مقرر کی ہے۔ اب ٹیکنیکل ٹیم نے اپنی رپورٹ صوبائی حکومت کو بھیج دی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ہائبرڈ بسوں کے capacitor ضرورت سے زیادہ بجلی گزرنے دے رہے تھے۔ یہ اضافی کرنٹ گاڑیوں میں آگ لگنے کا سبب بن رہا تھا۔ اب بس مینوفیکچرنگ کمپنی ان کی جگہ نئے capacitor لگائے گا۔ نئے پارٹس کی امپورٹ، فٹنگ اور ٹیسٹنگ کے اس پورے عمل میں کم از کم ایک مہینے لگے گا۔

‏BRT اور حکومت خیبر پختونخوا:

وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے اس کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین نے پشاور BRT کی گاڑیوں میں تکنیکی خرابی کی تشخیص کی ہے اور اس کا حل نکالا جا رہا ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ «ناقص پارٹس کو فوری طور پر تبدیل کیا جا رہا ہے۔»

کامران بنگش نے مزید کہا کہ بسیں ایک مہینے میں دوبارہ کام کرنا شروع کر دیں گی جبکہ تکنیکی ماہرین ان کا تفصیلی جائزہ اور جانچ کر رہے ہیں۔

تفصیلات پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس مسئلے کے فوری حل کے لیے 20 ماہرین پر مشتمل ٹیم بنائی گئی تھی جبکہ 11 پہلے ہی سے مختلف مقامات پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ «اس مرمت کا صوبائی حکومت پر کوئی مالی بوجھ نہیں پڑے گا کیونکہ معاہدے کے تحت سروسز فراہم کرنے والی کمپنی اس کی پابند ہے۔

BRT پروجیکٹ کو آغاز ہی سے کئی مسائل اور تنقید کا سامنا ہے۔ میگا پروجیکٹ کو تکنیکی مسائل کی وجہ سے کئی بار تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ انجیئرنگ کمپنی نے پروجیکٹ کے کئی مقامات کو توڑ کر دوبارہ بنایا تھا۔

سالوں کی تاخیر کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے بالآخر 14 اگست 2020ء کو اس کا افتتاح کیا۔ لانچ ہونے کے بعد ہی بسوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آنے لگے، جس کا نتیجہ آپریشنز بند کرنے کی صورت میں نکلا۔

مزید ریویوز، ویوز اور نیوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

 

Recommended For You:

Sindh Government Gearing Up To Invite Tenders For Red Line BRT Project

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.