ایپل الیکٹرک وہیکل ڈیل میں ہیونڈائی/کِیا کو اربوں ڈالرز کا نقصان کیسے ہوا؟

0 2 554

آیۓ دیکھیں کہ ایپل نے اپنی الیکٹرک وہیکل ڈیل میں ہیونڈائی/کِیا موٹر گروپ کو کس طرح نقصان پہنچایا۔

یہ افواہیں گردش کر رہی تھیں کہ ایپل کِیا/ہیونڈائی کے ایک ماتحت ادارے کو ایپل برانڈ کی EV بنانے میں شامل کر رہا ہے۔ ان کمپنیوں میں مذاکرات چل رہے تھے، لیکن اب خبروں کے مطابق اس ڈیل کا خاتمہ ہو چکا ہے۔

اس خبر سے ہیونڈائی کے شیئرز کی ویلیو میں 6.2 فیصد کی کمی آئی، جس کا نتیجہ 3 ارب ڈالرز کے نقصان کی صورت میں نکلا ہے جبکہ کِیا کے شیئرز 15 فیصد گرے، یعنی مارکیٹ ویلیو میں 5.5 ارب ڈالرز کا نقصان۔ ریٹیل انوسٹرز کا ماننا ہے کہ آئندہ دنوں میں ان کے شیئرز میں مزید کمی آئے گی۔ 8 فروری کو ریگولیٹری فائلنگ میں دونوں کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک گاڑی کے لیے ایپل کے ساتھ مذاکرات نہیں کر رہے تھے۔ بیان ان خبروں کے بعد آیا ہے کہ آئی فون بنانے والا ادارہ ایک سیلف ڈرائیونگ کار بنانے کے لیے جنوبی کوریائی آٹومیکرز کی جانب دیکھ رہا تھا۔

چند صنعتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایپل اس خبر کے میڈیا پر عام ہو جانے پر خوش نہیں تھا کہ ایپل-ہیونڈائی/کِیا ایک کار پروجیکٹ پر بات کر رہے ہیں۔

ہیونڈائی/کِیا اور ایپل کے درمیان ڈیل:

پچھلے مہینے خبروں میں بتایا گیا کہ ایپل الیکٹرک گاڑیاں بنانے کے لیے ہیونڈائی موٹر گروپ کے ساتھ شراکت داری کر رہا ہے۔ ہیونڈائی نے اس ایپل EV پروجیکٹ میں کِیا کو انچارج بنانے کا فیصلہ کیا۔ افواہ تھی کہ جارجیا میں کِیا کی مینوفیکچرنگ تنصیب مبینہ طور پر ایپل کار میں پیداواری کردار ادا کرتی۔

ایپل کار پروجیکٹ کا خلاصہ

ایپل نے 2014 میں «پروجیکٹ ٹائٹن» کے نام سے ایک الیکٹرک کار پر کام شروع کیا تھا۔ 1 ہزار سے زیادہ ملازمین پر مشتمل ٹیم کے ساتھ پروجیکٹ ٹائٹن 2019 یا 2020 تک ایک ایپل الیکٹرک گاڑی ڈلیور کرنے کا وقت رکھتی تھی۔ چھ سال کے عرصے میں ایپل کی گاڑی بنانے کی خواہش نے کئی نشیب و فراز دیکھے۔ قیادت کے مسائل اور داخلی تنازعات نے ایک بڑے آئیڈیا کو وقت کے ساتھ تحلیل ہوتے دیکھا۔

دسمبر میں ذرائع نے بتایا کہ ایپل نے پروجیکٹ ٹائٹن کو بحال کیا ہے۔ ایپل نہ صرف امریکا میں مختلف پروٹوٹائپس کو ٹیسٹ کر رہا ہے بلکہ مینوفیکچرنگ پارٹنرشپس پر بھی اس کی نظریں ہیں۔

مزید نیوز، ویوز اور ریویوز کے لیے پاک ویلز بلاگ پر آتے رہیں۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.