دسمبر 2020 میں آٹو لونز میں 41 ارب روپے کا اضافہ

0 1 376

پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری نے پچھلے سال کے آخر میں گاڑیوں کی ڈیمانڈ میں زبردست اضافہ دیکھا۔ 2019 کے مقابلے میں 2020 میں زیادہ لوگوں نے آٹو فائنانس کے ذریعے نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں خریدیں۔ مرکزی بینک کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں آٹو لونز دسمبر میں 256 ارب روپے رہے۔ اس کے مقابلے میں دسمبر 2019 میں یہ 215 ارب روپے تھے، یعنی پاکستان میں آٹو فائنانس میں 19 فیصد یا 41 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔

آٹو لونز میں اضافے کی وجہ

آٹو لونز میں اربوں روپے کے اضافے کی چند وجوہات ہیں:

1۔ کم شرحِ سود

قرضوں میں اضافے کی اہم وجہ کم شرحِ سود تھی۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 2020 میں شرح سود کو 625 بیسس پوائنٹس سے 7 فیصد کیا۔ صارفین کے لیے اس کا مطلب ہے کم قسطیں اور پرسکون کار فائنانسنگ پروگرام۔ اس لیے زیادہ لوگوں نے گاڑیاں خریدنے کے لیے بینکوں سے رقوم حاصل کرنے پر اعتماد ظاہر کیا۔

2۔ لاک ڈاؤن کے بعد کاروباری سرگرمیوں کی بحالی

دوسرا عنصر جو لوگوں کو کار لونز کی جانب لایا وہ لاک ڈاؤن کے بعد معاشی سرگرمیوں کی بحالی تھی۔ گزشتہ سال کووِڈ-19 کی وبا نے کئی مہینوں تک ملک کو بری طرح متاثر کیے رکھا۔ حکومت نے لاک ڈاؤنز لگائے، لوگوں کی نوکریاں گئیں، کاروبار بند ہو گئے اور آٹو انڈسٹری کو فروخت میں سخت نقصان پہنچا۔

2020 کی دوسری ششماہی میں حالات بہتر ہونا شروع ہوئے۔ حکومت کی جانب سے کاروبار، کارخانے اور دفاتر کھولنے کی اجازت کے بعد معاشی سرگرمیوں نے رفتار پکڑی۔ لاک ڈاؤن کے بعد معاشی سرگرمیاں بڑھنے سے صارفین کو نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں خریدنے کا حوصلہ ملا۔

3۔ نئی گاڑیوں کی لانچ

مسافر گاڑیوں کی ڈیمانڈ میں اضافہ لوکل مارکیٹ میں نئی گاڑیاں متعارف ہونے سے بھی ہوا۔ آٹو ڈیولپمنٹ پالیسی (ADP) ‏2016-21 کے تحت پاکستانی مارکیٹوں میں کئی نئے ادارے آئے۔ کئی گاڑیوں کے انتخاب کا موقع ملنے پر صارفین کو تحریک ملی کہ وہ آٹو فائنانسنگ پروگرام حاصل کریں اور نئی اور استعمال شدہ گاڑیاں خریدیں۔

لیکن اندازہ لگائیں کہ کس گاڑی نے سب سے زیادہ عوامی توجہ حاصل کی ہوگی اور آٹو لونز میں اضافے کی وجہ بنی؟ ٹویوٹا یارِس۔ اس گاڑی نے سب سے زیادہ فروخت کی اور ہونڈا سٹی اور ہونڈا سوِک دونوں کی مجموعی فروخت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

پاکستان میں گاڑیوں کی ڈیمانڈ

رواں سال کے اوائل میں پاکستان آٹوموٹو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (PAMA) کی رپورٹ نے بتایا تھا کہ دسمبر میں گاڑیوں گی سال بہ سال کی فروخت میں 20 فیصد اضافہ ہوا۔ اب ہم دسمبر آٹو لونز میں 19 فیصد اضافہ دیکھ رہے ہیں۔ یہ تمام اعداد و شمار معاشی سرگرمی اور ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کو ظاہر کر رہے ہیں۔ حالانکہ کئی آٹومیکرز نے 2020 میں اپنی گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافہ کیا، لیکن اس کے باوجود صارفین کو گاڑیوں کی خریداری سے نہیں روک پائے۔

کئی نئے اداروں کی لوکل مارکیٹ میں آمد کے ساتھ ہمیں امید ہے کہ پاکستان کی آٹو انڈسٹری 2021 میں مزید آگے بڑھے گی۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.