ایف بی آر نے دو-تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں کی ڈیوٹی فری امپورٹ کی اجازت دے دی

0 24 215

حکومتِ پاکستان نے ملک میں الیکٹرک گاڑیوں کی ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ایک اور قدم اٹھایا ہے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے 30 جون 2025 تک دو اور تین پہیوں والی گاڑیوں کی امپورٹ یعنی درآمد کو ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) سے مستثنیٰ قرار دے دیا ہے۔

ان الیکٹرک گاڑیوں کے کمپلیٹلی بلٹ-اپ (CBU) یونٹس اب ACD کے بغیر درآمد کی جا سکتے ہیں:

  • الیکٹرک آٹو رکشہ
  • الیکٹرک موٹر سائیکل
  • 3-ویلر الیکٹرک لوڈر

ایف بی آر نے بدھ 3 فروری 2021 کو S.R.O. 572(I)2020 میں ترمیم کا نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ اس نوٹیفکیشن کے تحت پاکستان کسٹمز ٹیرف (PCT) کوڈز 8703.8030 (الیکٹرک آٹو رکشہ)، 8711.6040 (الیکٹرک موٹر سائیکل) اور 8711.6060 (3-ویلر الیکٹرک لوڈر) کے تحت آنے والی الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پو کوئی اضافی کسٹمز ڈیوٹی نہیں ہوگی۔

پاکستان میں EV ٹیکنالوجی

کئی بین الاقوامی آٹوموٹو مارکیٹیں تیزی سے EV ٹیکنالوجی کی جانب منتقل ہو رہی ہیں۔ پاکستانی مارکیٹ بھی آگے بڑھ رہی ہے، آہستہ آہستہ لیکن یقین کے ساتھ۔ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ECC) عرصہ پہلے ہی دو اور تین پہیوں والی الیکٹرک گاڑیوں کے لیے EV پالیسی منظور کر چکی ہے۔ حال ہی میں اس نے 4-پہیوں والی گاڑیوں کے لیے EV پالیسی کی بھی منظوری دی ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں (ٹو-تھری ویلرز) کی درآمد پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی (ACD) اور ویلیو ایڈڈ ٹیکس (VAT) کا خاتمہ آٹو مارکیٹ کی تبدیلی کی سمت میں ایک بڑا قدم ہے۔ موٹر سائیکلوں، رکشوں اور موٹر سائیکل رکشوں کی پاکستان میں تعداد باآسانی کارز سے زیادہ ہی ہوگی۔ ان کی جگہ ای-بائیکس اور ای-رکشوں کی آمد سے ملک میں آلودگی میں نمایاں کمی ہوگی۔

پاکستان ریلویز ملک بھر میں اپنے ریلوے اسٹیشنوں سے ملحق خالی پلاٹوں پر EV چارجنگ اسٹیشنز بنا رہا ہے۔ وفاقی حکومت، ECC، FBR اور پاکستان ریلویز کی کوششوں سے مقامی آٹو انڈسٹری درست سمت میں جا رہی ہے۔ دیکھتے ہیں مستقبل میں کچھ سامنے آتا ہے۔

کیا آپ نے پاکستان میں کوئی ای-رکشہ یا ای-بائیک دیکھی ہے؟ اگر ہاں تو اس کے سفر کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟ ہمیں تبصروں میں ضرور بتائیں۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.