چین میں 56 گاڑیوں کا تصادم؛ 17 افراد ہلاک، 37 زخمی
چین کے دارالحکومت بیجنگ اور کن منگ کو ملانے والے ہائی وے پر ٹریفک حادثے میں 56 گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔ اس اندوہناک واقعے میں 17 ہلاکتوں اور 37 سے زائد افراد کے زخمی ہوجانے کی اطلاعات ہیں۔ جائے وقوعہ سے ہلاک شدگان اور زخموں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔
چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق شمال مشرقی صوبے شنسی میں ہونے والا تصادم پیر کی صبح پیش آیا۔ متعلقہ سرکاری ادارے کا کہنا ہے کہ وہ واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں البتہ بظاہر اس کی وجہ شدید دھند اور برف کے باعث پیدا ہونے والی پھسلن ہے۔ کرینوں کے ذریعے ہائی وے سے تباہ شدہ اور جلی ہوئی گاڑیوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے تاہم کئی گھنٹے گزر جانے کے باوجود ہائی وے کو ٹریفک کے لیے بحال نہیں کیا جاسکا۔
اس سے قبل رواں سال مارچ میں بھی شنسی صوبے میں 47 گاڑیوں کا تصادم ہوا تھا جس میں 3 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہوئے تھے۔ واضح رہے کہ چینی حکومت نے حال ہی میں ٹریفک حادثات پر قابو پانے کے لیے ایک خصوصی مہم کا آغاز کیا تھا جس کے تحت گنجائش سے زیادہ سامان لادنے والے ٹرکس کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں گاڑیوں کے تصادم کا سب سے بڑا واقعہ
چین کو سب سے زیادہ گاڑیوں کا حامل تیسرا ملک قرار دیا جاتا ہے تاہم دنیا بھر میں ہونے والے ٹریفک حادثات میں چین کا حصہ 24 فیصد رہا ہے۔ ان اعداد و شمار کی روشنی میں چین سب سے زیادہ ٹریفک حادثات رونما ہونے والے ممالک میں سرفہرست ہے۔ عام طور پر ان حادثات کی وجہ گاڑی چلانے والوں کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کرنے، گنجائش سے زیادہ سامان لاد کر سفر کرنے کی کوشش اور غیر موزوں موسمی صورتحال کو قرار دیا جاتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت WHO کے مطابق چین میں ہر سال ڈھائی لاکھ سے زائد افراد ٹریفک حادثات کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ البتہ حکومت کا دعوی ہے کہ دوران سفر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھنے والے افراد کی تعداد اس سے بہت کم ہے۔ چین کے نیشنل بیورو آف اسٹیٹس کے مطابق ٹریفک حادثات میں سالانہ 58539 اموات ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈرائیونگ کے دوران کی جانے والی 5 سنگین غلطیاں