سیڈان پر اسٹیشن ویگن کو ترجیح دینے کی 5 بنیادی وجوہات
مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں کہ میں اسٹیشن ویگن کا بہت بڑا مداح ہوں۔ شاید آپ کو یہ بات نامعقول لگے لیکن مجھے سیڈان سے زیادہ اسٹیشن ویگن پسند ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک روز میں نے ٹویوٹا کرولا فیلڈر دیکھی تو اپنے جذبات ایک دوست سے شیئر کرے بغیر نہ رہ سکا۔ لیکن میرے دوست نے اس پر ایک سرسری نظر ڈال کر کہا “یہ تو ڈبہ ہے”۔ مجھے یہ بات سن کر زیادہ حیرت نہ ہوئی کیوں کہ پہلے بھی اکثر لوگوں سے اس طرح کی باتیں سن چکا ہوں۔ مگر اس بار میں نے فیصلہ کیا کہ اسٹیشن ویگن سے لوگوں کی ناپسندیدگی کی وجوہات معلوم کر کے رہوں گا۔ لیکن اسے اتفاق کہیں یا کچھ اور کہ اس بارے میں تحقیق کر کے مجھے اسٹیشن ویگن اور بھی پسند آنے لگیں۔ میرے پاس اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں سے 5 اہم اور بنیادی وجوہات میں اس مضمون میں شام کر رہا ہوں۔
یہ بھی پڑھیں: جاپانی ٹویوٹا کرولا ایگزیو آزمائیں؛ پاکستانی ٹویوٹا کرولا کو بھول جائیں
ہر خاندان کے لیے موزوں
یہ بات تو آپ بخوبی جانتے ہوں گے کہ اسٹیشن ویگن دیگر گاڑیوں کے مقابلے میں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔ لیکن اس طرز کی چھوٹی اسٹیشن ویگن میں بھی سامان رکھنے کی اچھی خاصی گنجائش ہوتی ہے جس میں خاندان بھر کے افراد باآسانی اور آرامدے سفر کا لطف اٹھا سکتے ہیں۔ آپ کا خاندان چھوٹا ہو یا بڑا اسٹیشن ویگن آمد و رفت اور سامان کی نقل و حمل کے لیے بہت مفید ہے۔
متعدد استعمالات
اسٹیشن ویگن کو سفر کے علاوہ بے شمار دیگر کاموں کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس کا پچھلا حصہ خاصہ وسیع اور کشادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے گاڑی میں سامان رکھنے اور باہر اتارنے میں کافی آسانی رہتی ہے۔ سیڈان گاڑی میں زیادہ سامان رکھنا نہ ممکن نہیں اور اگر زبردستی رکھا بھی جائے تو اسے آڑھا ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے جس سے گاڑی اور سامان دونوں ہی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
بہتر ڈائنامکس
اسٹیشن ویگن دیکھنے میں SUV کی طرح لگتی ہے لیکن اس کا نچلا حصہ زمین سے کافی قریب ہوتا ہے۔ اس سے گاڑی پر بہتر گرفت اور ڈرائیونگ میں آسانی میسر آتی ہے۔ جو لوگ گاڑی چلانے کی ڈائنامکس کو بخوبی سمجھتے ہیں وہ سیڈان اور اسٹیشن ویگن میں زیادہ فرق نہیں پائیں گے۔
ایندھن کی بچت
پاکستان میں اکثر لوگوں کے لیے گاڑی میں ایندھن بچانے کی صلاحیت بہت زیادہ معنی رکھتی ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے کراس اوورز گاڑیوں سے کہیں زیادہ بہتر اسٹیشن ویگن ہے کیوں کہ یہ اتنا زیادہ ایندھن خرچ نہیں کرتی۔ اسٹیشن ویگن اپنے بہتر ایروڈائنامکس کی وجہ سے کراس اوورز اور SUVs کے مقابلے میں بہت کم ایندھن استعمال کرتی ہے۔
انفرادیت
شاید بہت سے لوگ مجھ سے اختلاف کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ اسٹیشن ویگن مختلف کاموں اور کارکردگی کے اعتبار سے کراس اوورز سے بھی زیادہ مفید ہے۔ یوں یہ گاڑیاں نہ صرف منفرد ہیں بلکہ میری عاجزانہ رائے میں کافی پُرکشش بھی ہیں۔
پاکستان میں دستیاب اسٹیشن ویگن میں سے چند یہ ہیں:
٭ ٹویوٹا کرولا فیلڈر
٭ ٹویوٹا پروباکس
٭ ہونڈا ایئرویو
٭ ہونڈا فِٹ شٹل
٭ نسان ونگ روڈ
اگر آپ استعمال شدہ اسٹیشن ویگن خریدنا چاہتے ہیں تو ایک بار پاک ویلز کے استعمال شدہ گاڑیوں کے زمرے پر ضرور نظر ڈالیں۔