سٹی اور جی ایل آئی کو چھوڑ کر سوزوکی سیاز کو منتخب کرنے کی ایک صارف کی داستان

suzuki-ciaz-automatic-2017-16187411

میں نے حال ہی میں سوزوکی سیاز کو اس کے فیچرز اور کارکردگی کی وجہ سے خریدا ہے۔ میرا ماننا ہے کہ یہ گاڑی اپنی قیت کے قابل ہے۔ پاک سوزوکی نے پاکستان میں یہ گاڑی لانچ کر کے ایک قابل تحسین کام کیا ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم اس بات پر کیوں اور کیسے کی بحث میں جائیں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ اس بلاگ کا مقصد گاڑیوں کا موازنہ کرنا نہیں ہے، بلکہ اس میں ان سے زیادہ دلچسپ نظریہ موجود ہے کہ میں نے سیاز کو مارکیٹ کے پرانے کھلاڑیوں پر کیوں فوقیت دی۔

ہم بات کا آغاز کچھ پرانی یادوں سے کرتے ہیں جب پاک سوزوکی نے پاکستان میں اینٹری لیول سیڈان متعارف کروانے کی کوشش کی اور ان میں مارگلہ، بلینو اور مایوس کرنے والی لیانا شامل ہیں۔ مارگلہ کے بعد بلینو اور لیانا دونوں پاکستانی مارکیٹ میں ناکام ثابت ہوئیں پس اسی وجہ سے یہ ہونڈا سٹی اور کرولا جی ایل آئی کا مقابلہ نہیں کر پائیں۔ اسی وجہ سے سیاز کے متعلق خدشات کا زہن میں آنا ایک قدرتی بات ہے۔ تاہم اس گاڑی پر قریب سے نظر ڈالنے سے میرا نظریہ بدل گیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاز ایک درآمد کردہ گاڑی ہے، اس کے علاوہ میری فوری گاڑی خریدنے کی ضرورت، باقی گاڑیوں پر موجود بہت زیادہ پریمیم اور لمبے انتظار کے وقت کی وجہ سے میرا فیصلہ کرنا بہت آسان ہوگیا۔

نیچے سوزوکی سیاز کے کچھ خصوصی فیچرز دیئے گئے ہیں جو کہ عام طور پر پاکستانی صارفین کو اس کلاس کی گاڑیوں میں دیکھنے کو نہیں ملتے۔

ڈیوئل ایئر بیگز

پروجیکٹڈ ہیڈ لیمپس

ہائیٹ ایڈجسٹمنٹ سیٹ (ڈرائیور)

کمپنی ریٹ پر دستیاب (مطلب 0 پریمیم)

فلیٹ ریئر بیڈ

510L بوٹ سپیس

dsc_0096

اس کے شاندار گیئر چینجر سے اس گاڑی کے ایکسلریشن پر کوئی فرق نہیں پڑتا خواہ اے سی چل رہا ہو یا بند ہو جو اس گاڑی کی کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ میں نے جب سے یہ گاڑی خریدی ہے میں نے اسے سخت اور نرم پاؤں دونوں طرح سے چلایا ہے اور اس نے ہر قسم کے حالات میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ تاہم اس گاڑی میں بھی کچھ خامیاں ہیں، اور مجھے یہ ماننا پڑے گا کہ اس گاڑی میں نیویگیشن سسٹم، آٹو کلائیمیٹ کنٹرول، سن روف اور الائے رم کا نہ ہونا انتہائی مایوس کن ہے۔ کمپنی کو کم از کم اس میں الائے وہیلز اور نیویگیشن ہیڈ یونٹ انسٹال کرنےکی آپشن تو ضرور دینی چاہیے تھی۔ سن روف نہ ہونے کی بات تو سمجھ میں آجاتی ہے کیونکہ ہونڈا اور ٹویوٹا دونوں سٹی اور جی ایل آئی میں سن روف کی آپشن نہیں دے رہیں جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس کار کیٹگری میں یہ ایک معمول کی بات ہے۔ تاہم اس کے پلس پوائنٹ میں ایئر بیگز، پروجیکشن ہیڈ لیمپس، اور ہائیٹ ایڈجسمنٹ سیٹ شامل ہیں۔ یہ صرف سوزوکی سیاز میں موجود ہیں اور اس کے مدمقابلوں میں نہیں۔

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عالمی طور پر سوزوکی سیاز 2014 میں متعارف کروائی گئی جس وجہ سے یہ قدرے جدید گاڑی ہے جبکہ دوسری جانب ہونڈا اٹلس نے 5 جنریشن سٹی 2009 میں متعارف کروائی تھی۔ اس کے سیفٹی فیچرز، بلڈ کوالٹی اور کیبن سپیس کو دیکھا جائے تو یہ گاڑی اپنے مدمقابلوں سے بہت آگے ہے۔

میں نے یہ گاڑی چند ماہ پہلے خریدی اور اب تک میرا اس سے رشتہ کسی محبوبہ کی طرح ہے۔ اندرون شہر 13 کلومیٹر فی لیٹر اور ہائی وے پر 16 کلومیٹر فی لیٹر کی اس کی فیول مائیلیج انتہائی متاثر کن ہے۔ میرے لیے اس گاڑی کے بہترین فیچرز درج زیل ہیں:

ہائیٹ ایڈجسمنٹ (ایک اونچی سیٹ کےساتھ گاڑی کو چلانا بہت مزے دار ہے)

دو ایئر بیگز

510L بوٹ سپیس (بہت سا سامان رکھنے کے بعد بھی اس میں جگہ بچ جاتی ہے)

اس کے منفی پوائنٹس درج زیل ہیں:

پتلے ٹائر

الائے وہیلز کی غیر موجودگی

سیٹلائیٹ نیویگیشن ہیڈ سیٹ حاصل کرنے کی آپشن نہ ہونا

اگر چہ میں سوزوکی کا پرستار نہیں ہوں پھر بھی میں کمپنی کے اس اقدام کی تائید کروں گا۔ سیاز نے پوری دنیا میں سوزوکی کی عزت بحال کرنے میں مدد دی ہے اور میرا زاتی ماننا ہے کہ کچھ وقت کے بعد یہ پاکستان میں بھی ایسے ہی سوزوکی کا نام بلند کرے گی۔ اگر ہم ملک میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی مانگ کو مدنظر رکھیں تو مایوس صارفین اس گاڑی کی طرف پلٹیں گے جس سے اس گاڑی کی سیل میں بہت زیادہ اضافہ ہوگا۔

dsc_0091dsc_0093dsc_0097dsc_0095

Haris Mahmood

Haris is currently studying B.Sc of Electrical Engineering from University Of Central Punjab. He is a 23 year old petrol head aiming to explore and highlight the achievements of local auto industry.

Top