نئی آنے والی سوزوکی کلٹس کی خوبیاں اور خصوصیات۔

img-20170303-wa0008

celerio

پاکستان کی آٹو میٹِو انڈسٹری اس وقت اپنے عروج پر ہے، حال ہی میں متعارف کروائی جانے والی گاڑیوں کی بدولت تمام پاکستانی صارفین کو صورتحال بہتر ہوتی نظر آرہی ہے۔کچھ ماہ قبل نئی سوزوکی کلٹس کی چند تصاویر منظرِعام پر آئیں، جو کہ عام ہو گئیں انہیں کی بدولت پاک وہیلز اس تگ ودو میں تھی کہ اس گاڑی کے متعلق تمام چیزیں منظرِعام پر لے آئے۔یہ عام ہونے والی تصاویرکلٹس کے اس ماڈل کا پتہ دیتی ہیں جو کہ دوسرے ممالک میں سیلیرِیو کے نام سے فروخت ہوتی رہی ہے۔

اگر آپ کو یاد ہو تو ہم پاک سوزوکی پلانٹ میں منعقدہ رولنِگ اپ تقریب کے لائین اپ سے چند تصاویرپہلے ہی سامنے لا چکے ہیں۔یہ بات اس کی تیز اور زیادہ پیداوار کا پتہ بھی دیتی ہے،جس کا مطلب ہے کہ ہم اس گاڑی کو جلد ہی شورومز میں دیکھ سکیں گے۔

اس نئی آنے والی کلٹس کے متعلق بہت سی قیاس آرائیاں ہیں (چیسی کوڈ  وائی۔ایل۔اے310)جوکہ  اس گاڑی کے متعلق پاک سوزوکی کی جانب سے بہت کم معلومات دینے کی وجہ سے شاید ہی میں شامل کرسکوں گا۔یہ مضمون میرے ذاتی مشاہدے کی ایک کوشش ہے، کہ اس گاڑی کے متعلق حقائق سامنے آئیں۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ میرے ذرائع نے جوابات بھی دئیے،تو کچھ اور شامل کرنے کے بجائے ہم اس کی طرف بڑھتے ہیں۔یہ ذہن نشیں کر لیں کہ یہ کمپنی کی طرف سے جاری کردہ خصوصیات نہیں ہیں اور انہیں حتمی نہ سمجھا جائے۔

متغیرات:

new-cultus-1

  نئی کلٹس دو متغیرات میں دستیاب ہو گی۔ ایک وی۔ایکس۔ایل اور وی۔ایکس۔آرجن میں وی۔ایکس۔ایل تمام دستیاب خوبیاں اور خصوصیات کی وجہ سے اوپرے لیول پر ہو گی۔

انجن:

ان کاانجن 1000سی سی نوعیت کا ہو گااور دونوں متغیرات سوزوکی کا مشہورِ زمانہ ملٹی اِنجیکشن کے۔ٹین۔بی،998سی سی انجن لئے ہوں گی۔انجن 68ایچ۔پی، پر 6000آر۔پی۔ایم پاور اور 90این۔ایم،پر 3500آر۔پی۔ایم ٹارک بنانے کی صلاحیت کے ساتھ ہو گا۔باہری ممالک کی زندگی ذرا مختلف ہے،بین الاقوامی طور پر یہ گاڑی کے۔ٹین۔سی،ڈیول جیٹ انجن کے ساتھ بھی آتی ہے،جس کی ہم پاکستان میں فرہمی کی امید نہیں رکھتے۔

ٹرانسمیشن:

ایک بات تو طے ہے، کہ یہ گاڑی آٹو میٹک ٹرانسمیشن کے ساتھ نہیں آئے گی۔ہم میں سے کافی لوگ لوکل کار کمپنی کی جانب سے اس طرز کی گاڑی میں پہلی بار آٹو میٹک ٹرانسمیشن کی امید رکھتے ہوں گے مگرہمارے ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ کلٹس میں آٹو میٹک ٹرانسمیشن نہیں آئے گی۔وی۔ایکس۔ایل اور وی۔ایکس۔آر  دونوں ہی پانچ سپیڈ مینویل کے ساتھ ہی آئیں گی۔

سسپینشن اور اس سے ملحقہ دوسرے عالات۔

نئی سوزوکی کلٹس کی دونوں متغیرات اگلی طرف میک فیرسن سٹرٹ بشمول کوائل سپرنگ رکھتی ہوں گی، جبکہ پچھلی طرف فارشن بیم بشمول کوائل سپرنگ ہوگا۔بریکس کی بات کی جائے تو،یہ گاڑی ہمیشہ کی طرح اگلی جانب وینٹیلیٹڈ ڈِسک بریکس اور پچھلی جانب ڈرم بریکس رکھتی ہے۔وی۔ایکس۔ایل اور وی۔ایکس۔آر، دونوں متغیرات ایک الیکٹرانک ریک اور پینیئن سٹیئرنگ وہیل رکھتی ہیں۔ٹِلٹ سٹیئرنگ فنکشن شائد وی۔ایکس۔ایل، میں دیا جائے۔

باہری ڈھانچہ:

اس مو ضوع پر بات کرنے کے لئے کافی کچھ ہے اور میں نے ہر پہلو کو نیچے بیان کیا ہے تا کہ یہ آپ کے لئیے سِیر حاصل ثابت ہو۔

٭باڈی ہائی لائیٹس: ظاہری طور پر پاک سوزوکی ان دونوں کی تراش خراش آپس میں مختلف رکھ رہی ہے۔کیسے؟ وی۔ایکس۔ایل، نئی کلٹس کا اوپری ماڈل باہر ی جانب رنگ ہوئی باڈی اور کروم کی اصطلاح کے ساتھ آ رہا ہے۔یہ وی۔ایکس۔ایل۔ماڈل فرنٹ پر کروم گرِل جبکہ باڈی والی رنگت کے ڈوور ہینڈلز، سائیڈ وےِو مررز کے ساتھ ہو گا جبکہ، وی۔ایکس۔آرمیں کالی فرنٹ گرِل کالے ڈوور ہینڈلز اورسائیڈ وِیو مررزبھی کالے ہی رنگ کے ہوں گے۔

٭وی۔ایکس۔ایل میں فوگ لائیٹس ہوں گی جبکہ وی۔ایکس۔آر اس آپشن کے بنا ہو گی۔

٭وی۔ایکس۔آر سٹِیل وہیل کے ساتھ ہو گی جبکہ وی۔ایکس۔ایل الائے رِمز رکھتی ہو گی۔

٭دونوں گاڑیاں 165/65کے آر14پہئے رکھتی ہیں۔

٭ہیلوجِن ریفلیکٹر ہیڈلائیٹس دونوں متغیرات میں ہوں گی۔

٭کچھ بین الاقوامی مارکیٹس میں،ہیڈلائیٹس میں ڈے ٹائم رننگ لائیٹس(ڈی۔آر۔ایلز) چھوٹا ریفلیکٹر استعمال کیا جاتا ہے،اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ فنکشن نئی کلٹس ہیں بھی متعارف ہوگا۔

٭وی۔ایکس۔ایل اور وی۔ایکس۔آر دونوں میں پچھلی جانب ایک ہائی ماؤنٹڈ سٹاپ لیمپ ہے۔جیسا کہ یورپین ممالک میں سیلیرِیورکھتی ہے،لیکن دونوں متغیرات پچھلی جانب وائیپر نہیں رکھتیں جو کہ انہیں ذرا عجیب بناتا ہے کیونکہ ہیچ بیکس پر وائیپر آج کل کافی عام فیچر ہے۔

٭دونوں ماڈل اگلے شیشے کے قریب درمیان میں ایک وِپ شکل کا انٹینا رکھتی ہیں۔

اندرونی ڈھانچہ:

اندر بھی کہانی کچھ ایسی ہی ہے۔

٭وی۔ایکس۔ایل کو کروم سے آراستہ کیا گیا ہے جبکہ وی۔ایکس۔ آر پرانی اور انوکھی طرز پر ہی ہے۔کروم کے چھوٹے ٹکڑے وینٹیلیشن وینٹس کے اردگرد ہیں ایک یو شکل کا کروم ڈیش بورڈ کے درمیانی حصہ میں نصب ہے، جو کہ ریڈیو یونٹ اور ایچ۔وی۔اے۔سی یونٹ کو پکڑے ہوئے ہے۔کروم کو گئیر شفٹ نوب پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ وی۔ایکس۔آر، کالے رنگ کی آرائش پر مشتمل ہے۔

٭دونوں گاڑیاں ایموبیلائیزر رکھتی ہیں، لیکن پش بٹن سٹارٹ اور سٹاپ کی کوئی آپشن نہیں ہے۔

٭ابھی تک کی معلومات کے مطابق، ریموٹ کنٹرول سینٹرل لاکنگ صرف وی۔ایکس۔ایل ہی میں دستیاب ہو گی۔

٭دونوں گاڑیوں میں ایک خود کار ہیٹِنگ، وینٹیلیشن،اور ائرکنڈیشننگ یونٹ ہو گا۔

٭ان میں ایک بنیادی سی۔ڈی اور ریڈیو یونٹ سٹیریو سسٹم ہو گا جیسا کہ سیاز سیڈان میں موجود ہے۔سٹیریو سسٹم یو۔ایس۔بی اِن پٹ بھی رکھتا ہوگا۔جبکہ وی۔ایکس۔ایل،چار سپیکرز پر مشتمل ہو گی جو کہ ہر دروازے میں نصب ہو گا، وی۔ایکس۔آر میں صرف دو سپیکرز ہوں گے جو کہ اگلے دروازوں میں نصب ہوں گے (جیسا کو ڈرائیور اور پیسنجر ڈوور)۔

٭فوگ لیمپس کو چلانے کے لئے وی۔ایکس۔ایل میں سٹیئرنگ کے بالکل ساتھ میں ایک سوئچ نصب ہو گا،ویسے تو وہاں پانچ سوئچز کی جگہ ہو گی مگر پی۔کے۔ڈی۔ایم کلٹس وی۔ایکس۔ایل فوگ لیمپ کے طور پر صرف ایک پوائنٹ کو استعمال کرے گی۔جبکہ وی۔ایکس۔آر میں یہاں کچھ بھی نہیں ہو گا۔اس گاڑی کی بین الاقوامی متغیرات میں یہ حصہ الیکٹرانک کے مختلف عوامل کے لئے اورہیڈ لائیٹ سیٹ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

٭ان گاڑیوں میں سگریٹ سلگانے کے لئے کوئی سوئچ نہیں جس سے ظاہر ہے کہ آپکے موبائل کو چارج کرنے کے لئے چارجر کی کوئی جگہ نہیں۔

٭وقفے سے چلنے والے وائپرز دونوں گاڑیوں میں نصب ہیں۔

٭سہولت کے لئے صرف، وی۔ایکس۔ایل ہی پاور وِنڈوز رکھتی ہے۔دوسری جانب وی۔ایکس۔آر مینویل وِنڈوز ریگو لیٹرزرکھتی ہو گی۔

٭وی۔ایکس۔ایل میں سائیڈ وِیو مررز الیکٹریکلی پاورڈ ہوں گے یعنی جوائے سٹِک نما ہینڈل سے کنٹرول ہوں گے،جبکہ وی۔ایکس۔آر، ان شیشوں کو سیٹ کرنے کا مینویل فنکشن رکھتی ہوں گی۔

٭وی۔ایکس۔ایل 60:40میں مکمل کھلنے بند ہو نے کی خصوصیت رکھتی نشستوں کے ساتھ ہو گی جبکہ وی۔ ایکس۔آرمیں روائیتی بند ہونے والی نشست نصب ہو گی۔

٭وی۔ایکس۔ایل پچھلی طرف ڈِگی میں ایک پارسل ٹرے کا اضافہ رکھتی ہے۔

 اسی طرح وی۔ایکس۔ایل اگلے ڈرائیور اور پیسنجر ڈوور پربعض جگہوں پر پوشش رکھتی ہو گی اور پچھلے دروازوں پر پلاسٹک پینلزکے ہوں گے۔نئی کلٹس وی۔ایکس۔آر کے آگے اور پیچھے چاروں دروازوں پر پلاسٹک پینلز ہی نصب ہوں گے تو آپ کسی نمائشی پن کی امید نہ رکھیں۔گریب ہینڈلز جو کہ چھت پر نصب ہو تے ہیں وی۔ایکس۔ایل میں ان کی تعداد تین ہو گی (ایک آگے سواری کے لئے اور دو پچھلی سواریوں کے لئے) جبکہ وی۔ایکس۔آر میں صرف ایک ہینڈل اگلے مسافر کے لئے نصب ہو گا۔

تحفظ:

اب ہم اہم ترین چیز کی طرف آتے ہیں، جس میں ہر کوئی خاصی دلچسپی رکھتا ہے۔پاکستانی صارفین نے سوزوکی سیاز کے دو ائیر بیگز کے ساتھ متعارف کروائے جانے کی بے حد پزیرائی کی۔پاک سوزوکی کی پرانی کلٹس اور دوسری گاڑیوں میں سوائے نئی سیاز اور ہائی گریڈ کِزاشی کے ائیر بیگز کا ایسا منفرد سسٹم کبھی نصب نہیں کیا گیا۔لیکن اب چیزیں کافی تبدیل ہو رہی ہیں۔پاک سوزوکی اس گاڑی میں ایک نہیں بلکہ دو ائیر بیگز متعارف کروا رہی ہے۔ایک ڈرائیور کے لئے اور ایک آگے بیٹھے مسافر کے لئے۔مگر ائیر بیگز کی یہ سہولت صرف وی۔ایکس۔ایل میں ہی ہے۔یہاں ایک اور چیز کا ذکر ضروری ہے کہ،وی۔ایکس۔ایل کا سٹئیرنگ وہیل ائیر بیگز کی موجودگی کی وجہ سے وی۔ایکس۔آر سے مختلف نظر آتا ہے۔علاوہ ازیں، وی۔ایکس۔ایل میں اینٹی لاک بریک (اے۔بی۔ایس)سسٹم بھی نصب ہے۔دونوں گاڑیوں کو ایک دوسرے سے منفرد بنانے کے لئے کمپنی نے وی۔ایکس۔ایل کی پچھلی جانب اے۔بی۔ایس اورآگے مسافر کی جانب سن وِزرپرائیربیگز وارننگ کاا سٹیکر بھی چسپاں کیا ہے۔

کلٹس کی تمام تر چیسز ’ٹوٹل ایفیکٹِوکنٹرول ٹیکنالوجی(ٹی۔ای۔سی۔ٹی)‘کی بنیاد پر ہیں۔اس کا ڈیزائن اعلیٰ میعار کا سٹیل اور صحیح جگہ پر استعمال کیا گیا ہے جو کہ تحفظ کے پہلوؤں کو یقینی بناتا ہے اور اس کے وزن کو بھی کم کرتا ہے جو کہ پیٹرول کی بچت کا سبب ہے۔(ٹی۔ای۔سی۔ٹی) سڑک پر شور،سختی اورکامپنے میں کمی کا باعث بھی ہے،اور بہتر اور مستعد ڈرائیونگ بھی فراہم کرتی ہے۔مختصراً یہ کہ یہ ماڈل کئی لحاظ سے بہتر ہے اگر تحفظ، میعار اور امیدوں کی بات کی جائے تو۔

یورپین  این۔سی۔اے۔پی ٹیسٹنگ ایجنسی کے مطابق، سیلیریو(جو کہ اب پاکستان میں کلٹس کے نام سے جانی جاتی ہے)نے تحفظ کے لحاظ سے تین ستارے حاصل کئیے ہیں۔یورپین ماڈل ایک بنیادی الیکٹرانک سٹیبیلیٹی کنٹرول کے ساتھ آتی ہے جو کہ پاکستانی مارکیٹ کی نئی کلٹس میں نہیں۔

قیمت:

آخر کار ہم سب سے بڑے مسئلہ کی طرف آ چکے ہیں، افسوس، اس بارے میں میرے پاس کوئی حتمی بات نہیں ہے مگر یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ اس کی قیمت ویگن آر اور سوزوکی سوِفٹ کے درمیان میں کہیں ہو گی۔جیسا کہ موجودہ سوِفٹ خوبیوں کے اعتبار سے اس نئی کلٹس کے مقابلے کمتر ہے۔پاک سوزوکی شائداس گاڑی جیسی تمام ضروری اصلاحات کے ساتھ مستقبل قریب میں سوِفٹ کا نیا ماڈل لائے۔جیسا کہ سوِفٹ کی قیمت ہمیشہ کلٹس سے زیادہ رہی ہے تو مجھے نہیں لگتا کہ یہ اس سے زیادہ ہو گی۔جیسا کہ متغیرات کی بات آتی ہے تو میں پہلے بھی ذکر چکا ہوں کہ یہ گاڑی دو اشکال وی۔ایکس۔ایل اور وی۔ایکس۔آر میں آرہی ہے،اور ان کی خصوصیات اور خوبیوں کا معائنہ کرنے کے بعد،میں اس گاڑی کے دونوں ماڈلزکی قیمت میں 140000سے160000تک کا فرق دیکھتا ہوں۔

جو بھی ہے، سوزوکی کلٹس 1000سی سی گاڑیوں میں ایک عمدہ اضافہ ثابت ہو گی،جیسا کہ سخت پالیسیوں اور کم مقابلے کی وجہ سے پاک سوزوکی کو اس گاڑی کو پاکستان میں لانے میں کافی وقت لگا۔

 یہ نئی گاڑی یقینی طور پر اپنے میعار اور خوبصورتی کی بدولت چھا جانے اور مارکیٹ میں موجود امپورٹڈ گاڑیوں کو ٹکر دینے کے لئے تیار ہے۔اور ہمیں پاک سوزوکی کے سیلز اور سروسز کے نیٹ ورک کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے جو کہ پاکستان بھر میں پھیلا ہوا ہے۔یہ ایک عمل اکیلے ہی اس گاڑی کی ترقی میں اہم رول ادا کر سکتا ہے اور صارفین کو سہولت اور آسانی فراہم کر سکتا ہے۔کلٹس جلد ہی آ رہی ہے اور چندہی ہفتوں میں آپ اسے اپنے قریبی شورومز میں دیکھیں گے۔

نیچے آپ غیرملکی سیلیریو کی تصاویر دیکھ سکتے ہیں جس کی خصوصیات کا ذکرمیں نے اپنے مضمون میں بارہا کیا ہے۔یہ امر آپ ذہن میں رکھیں کہ اوپر بیان کی گئی تحقیقات حتمی نہیں ہیں اور نہ ہی کمپنی کی طرف سے بیان کی گئی ہیں۔نیچے دی گئی معلومات پہلے سے تخلیق شدہ نہیں ہیں یہ ایک ٹیبل کی صورت میں پہلے سے موجودیا مختلف ذرائع سے موصول معلومات کے طور پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

corrected

suzuki-celerio-front-side

dasbor-suzuki-celeriosuzuki-celerio-2015-1600-62suzuki-celerio-2015-1600-58suzuki-celerio-2015-1600-4dmesin-suzuki-celerio-indonesia-2015interior-kabin-city-car-suzuki-celerio-2015-indonesiahead-unit-indash-dan-pengaturan-tombol-ac-suzuki-celerioharga-suzuki-celerio-indonesia-2015bagasi-suzuki-celeriosuzuki-celerio-front-viewsuzuki-celerio-11

Fazal Wahab

I am Civil Engineer by Profession and have love for High Rise Towers, Underground construction and Carbon Fiber Composites, automobiles is my first love. Its my passion to know and share about anything new in automobile industry.

Top