موسم گرما کا استقبال: ٹویوٹا پرایوس سبز لیمو کے رنگ میں دستیاب!

Prius Solar Reflective Paint 1

سردیوں کا موسم اختتام پذیر ہونے کو ہے اور اب سورج کی بڑھتی ہوئی تپش بتا رہی ہے کہ جناب! موسم گرما آیا چاہتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سال سورج نے جو قہر برسایا، اسے سوچ کر ہی رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس شدت کی گرمی پڑی کہ متعدد لوگ اپنی جان تک سے ہاتھ دھوبیٹھے اور ہسپتالوں میں مریضوں کی قطاریں لگ گئیں۔ پچھلے سال کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہر کوئی آنے والی گرمیوں کی تیاریاں کر رہا ہے کہ کیسے اس موسمی تپش کا مقابلہ کیا جائے۔

رواں سال موسم گرما کی شدت کا مقابلہ کرنے کے لیے اب جاپانی کار ساز ادارہ ٹویوٹا بھی کمربستہ ہوگیا ہے۔ ٹویوٹا کی کوشش ہے کہ پاکستان میں مقبول ہائبرڈ گاڑیوں میں سے ایک ٹویوٹا پرایوس (Toyota Prius) میں ایندھن بچانے کی صلاحیت کو مزید بہتر بنائے۔ امریکی محکمہ توانائی کے مطابق گرمی کے موسم میں A/C کے مسلسل استعمال سے گاڑی میں ایندھن بچانے کی صلاحیت 25 فیصد کم ہوجاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایئرکینڈیشن صرف اسی وقت استعمال کیا جائے کہ جب درجہ حرارت ناقابل برداشت حد کو چھونے لگے۔

یہ بھی پڑھیں: ہائبرڈ گاڑی خریدنا چاہتے ہیں؟ پریوس، وِزل سے بہتر گاڑیاں دیکھیے!

عام طور پر اس مسئلہ سے نمٹنے کے لیے متعدد کار ساز ادارے اپنی گاڑی میں ایسے رنگ استعمال کرتے ہیں جو سورج کی روشنی کو اپنے اندر جذب نہیں کرتے۔ ان میں سب سے زیادہ سفید اور پھر نقرئی (سِولور) رنگ مستعمل ہے۔ سفید رنگ سورج کی گرمی میں 70 فیصد جبکہ نقرئی رنگ 50-55 فیصد کمی میں معاون سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اب ٹویوٹا نے اپنی گاڑیوں کے دیگر رنگوں میں بھی سورج کی گرمی جذب کرنے کی صلاحیت میں کمی کی کوشش کا عزم کیا ہے۔

Toyota PriusSolar Reflective Paint

اس سلسلے میں ٹویوٹا پرایوس 2017 کو لیمو کے سبز رنگ سے مزین کیا گیا ہے۔ یہ رنگ بالکل ویسا ہی جیسا کہ ہمارے یہاں ٹریفک پولیس اہلکاروں اور ایدھی و چھیپا کے رضاکاروں کی جیکٹ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر آپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ٹویوٹا کا دماغ ‘چل’ گیا ہے تو ایسا بالکل بھی نہیں۔ کم از کم ہمیں تو یہ خیال اور اس کا عملی نمونہ بہت ہی اچھا لگ رہا ہے۔

ٹویوٹا جاپان نے اس رنگ کو Thermo-Tect Lime Green کا نام دیا ہے۔ اسے عام رنگ میں موجود کاربن کے سیاہ ذرات نکال کر ان کی جگہ چھوٹے چھوٹے ٹائٹینیم آکسائڈ کے ذرات شامل کر کے تیار کیا گیا ہے۔ یوں اس رنگ میں گرمی کی شدت کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت بڑھ گئی ہے جیسا کہ عام استعمال ہونے والے سفید رنگ میں ہوتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹویوٹا پرایوس میں دلچسپی رکھنے والوں کے لیے اہم معلومات!

پرایوس کا یہ خوبصورت اور منفرد رنگ جاپان میں 350 ڈالر کی اضافی قیمت پر دستیاب ہوگا۔ ٹویوٹا پرایوس میں اس رنگ کے استعمال کی وجہ بالکل سادی ہے کہ اس کے درجہ حرارت کو بڑھنے سے روکا جاسکے۔ یوں مسافروں کو گرمی کم محسوس ہوگی اور گاڑی میں A/C کا استعمال بھی کم ہوجائے گا۔ اس سے گاڑی میں ایندھن بچانے کی صلاحیت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔

Toyota Prius Lime Green Paint

اس حوالے سے ٹویوٹا کے ترجمان تاکاشی اوگاوا نے بتایا کہ وہ اس رنگ کے استعمال سے درجہ حرارت پر 5 ڈگری سنٹی گریڈ (9 ڈگری فارن ہائیٹ) تک قابو رکھنے کی امید کر رہے ہیں۔ ٹویوٹا نے اب تک ایندھن کی بچت کے حوالے سے کوئی بیان تو نہیں دیا تھا تاہم انہوں نے اس حوالے سے چند ایک سرگرمیاں ضرور انجام دی ہیں جن میں کئی ایک مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ سب سے قابل ذکر پریشانی تو رنگ میں موجود سورج کی شدت کو برداشت کرنے کی صلاحیت اور وقت کے ساتھ اسے برقرار رکھنے میں پیش آئی۔ فی الحال اس رنگ کو صرف جاپان ہی میں متعارف کروایا جا رہا ہے تاکہ ٹویوٹا اس کی کارکردگی کا اچھی طرح جائزہ لے۔ اگر یہ تجربہ کامیاب رہا تو پھر اسے دیگر ممالک میں پیش کرنے کا نہ کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا۔

پاکستان میں ٹویوٹا پرایوس کی قیمت (اوسطاً) 25 لاکھ روپے ہے۔ اگر آپ اس منفرد رنگ میں جاپان سے پرایوس درآمد کرنا چاہیں تو پاک ویلز کے ذریعے منگوا سکتے ہیں۔

سورج کی تپش سے مقابلے کرنے کی کوششیں 1950 کی دہائی سے جاری ہیں۔ امریکا کی بحری افواج میں بھورے رنگ کا استعمال اسی مقصد کے حصول کی ایک کوشش تھا۔ امریکا کی قومی ہوا پیمائی اور خلائی انتظامیہ (ناسا) بھی اپنے خلائی شٹل کے اس حصے میں ایسے ہی رنگوں کا استعمال کرتی ہے کہ جنہیں دنیا میں داخل ہونے کے دوران شدید گرمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کار ساز ادارے اسے اب تک استعمال کیوں نہیں کر رہے تھے؟ اس کا جواب ہے: پائیداری۔ رنگ میں گرمی جذب کرنے کی صلاحیت کو بڑھانا یا گھٹانا کسی چیلنج سے کم نہیں اور اب ٹویوٹا نے اس چیلنج کو قبول کر کے بہت بڑا قدم اٹھایا ہے۔ دیکھتے ہیں کہ وہ اس میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں اور پھر دیگر کار ساز ادارے اس سلسلے میں کیا پیش رفت دکھاتے ہیں۔

Top