نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی کے خلاف پٹیشن دائر


ایک مقامی ڈیلر نے نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر عائد کی گئی پابندی کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی ہے۔

تفصیلات کے مطابق درخواست گزار کے وکیل کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے سیکشن 227 A اور B میں فائنانس بل کے ذریعے کی گئی ترمیم ملک کے آئین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی غیر آئینی ہے اور پارلیمنٹ عوام کی خواہشات کے برعکس اس طرح کے قانون نہیں بنا سکتی، انہوں نے مزید کہا۔

عدالت نے اٹارنی جنرل انور منصور خان کو اس معاملے پر اتھارٹی کی مدد کے لیے طلب کیا؛ مزید برآں، ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام جیسا کہ ڈائریکٹر FBR کو بھی جوابدہی کے لیے طلب کیا ہے۔

عدالت کی اگلی سماعت دو ہفتے کے بعد ہوگی۔

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کی حکومت نے نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر پابندی عائد کردی تھی، جسے پاکستان تحریکِ انصاف کی موجودہ حکومت نے اٹھا دیا تھا البتہ 3 اکتوبر 2018ء کو قومی اسمبلی نے فائنانس بل میں ترمیم کی منظوری دی جس کی وجہ سے نان-فائلرز کے گاڑیاں خریدنے پر ایک مرتبہ پھر پابندی لگ گئی۔ لیکن اب بھی نان-فائلرز کو حکومت کی جانب سے کچھ چھوٹ ضرور دی گئی ہے جیسا کہ بیرون ملک مقیم نان-فائلرز گاڑی خرید سکتے ہیں، نان-فائلرز 200cc سے کم انجن گنجائش رکھنے والی گاڑی اب بھی خرید سکتے ہیں۔

پابندی کے بعد صنعت نے اس خبر کو ملے جلے انداز میں لیا، کچھ کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کی جانب سے کیا گیا یہ اچھا فیصلہ ہے، لیکن دوسری جانب چند حلقوں کا کہنا تھا کہ یہ مقامی آٹو انڈسٹری کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

ہماری طرف سے اتنا ہی، اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Top