یاماہا بھی سوزوکی اور ہونڈا کی روش اختیار کرے گا یا اپنی انفرادیت برقرار رکھے گا؟

YAMAHA YBR 125 PAKISTAN

یاماہا جاپان نے گزشتہ سال 2015 میں YBR 125 متعارف کروائی جسے حسب توقع کافی پزیرائی حاصل ہوئی۔ یاماہا طویل عرصے سے پاکستان میں قدم رکھنے کی کوششوں میں مصروف تھا تاہم اسے کامیاب تب نصیب ہوئی کہ جب وزیر خزانہ ملک اسحاق ڈار نے یاماہا کو پاکستان میں کارخانہ لگانے کی اجازت دی۔

یاماہا YBR 125 اپنی پیشکش کے بعد کئی ماہ تک بڑی تعداد میں فروخت ہوتی رہی۔ اس کی عوامی پسندیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یاماہا کی جانب سے YBR 125 کی قیمت 1,29,400 (ایک لاکھ، انتیس ہزار چار سو) روپے مقرر کی گئی تھی تاہم کراچی میں موٹر سائیکل فروخت کرنے والوں نے اسے 1,35,000 (ایک لاکھ پینتیس ہزار) روپے میں فروخت کیا۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن کی مد میں 4 ہزار روپے علیحدہ وصول کیے گئے۔ یوں اس کی کُل قیمت تقریباً 1,40,000 (ایک لاکھ چالیس ہزار) روپے تک جاپہنچی۔ گو کہ اب صورتحال چند ماہ قبل جیسی نہیں لیکن بہرحال، یاماہا YBR 125 نے انتہائی پرجوش استقبال وصول کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاک ویلز کے ذریعے موٹر بائیکس کی خرید و فروخت اور بھی آسان!

ماضی قریب پر نظر ڈالیں تو یاماہا جاپان کے لیے شروعات زیادہ حوصلہ افزا نہ نظر نہیں آتیں۔ ابتداء میں یاماہا تقریباً 15 ارب یَن کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی تھی۔ ادارے کے جنرل منیجر آیتو یاسوشی نے پاکستان کو برآمدات کا مرکز بنانے میں ادارے کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ اس منصوبے کی شروعات تین مراحل میں ہونا تھی جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
پہلا مرحلہ: 4.3 ارب یَن سرمایہ کاری (عملے کی تربیت اور تیاری)
دوسرا مرحلہ: 7.4 ارب یَن سرمایہ کاری
تیسرا مرحلہ: 3.3 ارب یَن کی سرمایہ کاری (مقامی سطح پر 90 فیصد موٹر سائیکل کی تیاری)

یہ سرمایہ کاری پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشی (پاما) کی وجہ سے بھی تاخیر کا شکار رہی۔ ان کا موقف تھا کہ یاماہا کو خصوصی مراعات دی جارہی ہیں جس کی وجہ سے مقامی سطح پر موٹر سائیکل تیار کرنے والے اداروں (ایٹلس ہونڈا، سوزوکی اوردیگر 70 سی سی بائیک ساز) کو نقصان کا خدشہ ہے۔ پاما کے ڈائریکٹر جنرل عبدالوحید خان نے اس وقت کے وزیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ کو بذریعہ خط یاماہا کی پیش رفت اور سرمایہ کاری روکنے کا کہا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقامی سطح پر بائیک تیار کرنے والے ادارے سرمایہ کاری کے ذریعے اپنی استعداد بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں جس سے ہر سال 25 لاکھ موٹر سائیکلیں تیار و پیش کی جائیں گی۔ یہ صورتحال یاماہا کے لیے انتہائی مایوس کن تھی اسی وجہ سے انہوں نے پاکستان میں سرمایہ کاری سے ہاتھ کھینچ لیا۔ موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے اور نئے وزیر خزانہ کی تقرری کے بعد یاماہا نے ایک بار پھر پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی تیاری و پیشکش کے حوالے سے سعی کی اور خوش قسمتی سےیہ کوشش بارآور ثابت ہوئی۔

Yamaha Bikes in Pakistan (2) Yamaha Bikes in Pakistan (3) Yamaha Bikes in Pakistan (4) Yamaha Bikes in Pakistan (5) Yamaha Bikes in Pakistan (6) Yamaha Bikes in Pakistan (12)

Yamaha Bikes in Pakistan (13) Yamaha Bikes in Pakistan (14) Yamaha Bikes in Pakistan (15) Yamaha Bikes in Pakistan (16) Yamaha Bikes in Pakistan (17) Yamaha Bikes in Pakistan (10)

میرے ذاتی خیال میں پاما کے سربراہ شاید یہ بات لکھنا بھول گئے کہ سالانہ 25 لاکھ تیار ہونے والی موٹر سائیکلوں کی ٹیکنالوجی اور ڈیزائن 40 سال پرانی ہی رہے گی۔ یاماہا کی آمد پر روکنے والوں نے اس بات کا بھی خیال نہ کیا کہ نئے ادارے کی ملک میں آمد سے نہ صرف عوام کا فائدہ ہوگا بلکہ ملک کی معاشی صورتحال پر بھی اسکے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ انہوں نے صرف اپنے مفاد کو ملک و عوام کے فائدے پر ترجیح دی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں دستیاب 125 سی سی موٹرسائیکلوں کی قیمتوں کا تقابل

یہ بات بالکل واضح ہے کہ پاکستان کی مارکیٹ پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے موجودہ اداروں نے یاماہا کے رستے میں روڑے اٹکانے کی کوشش کی جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہے۔ جولائی 2014 سے دسمبر 2014 تک 414,920 موٹر سائیکلیں فروخت کی گئیں جبکہ جولائی 2015 سے دسمبر 2015 تک بکنے والی موٹر سائیکلوں کی تعداد 517,894 رہی تھی۔ یعنی صرف ایک سال کے فرق سے 1 لاکھ سے زائد موٹر سائیکلیں فروخت ہوئیں۔ سال 2015 میں مشہور اور قابل بھروسہ نام کی وجہ سے یاماہا نے موٹر سائیکل کی مارکیٹ میں قدم رکھنے والوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوا۔

ہمیں پاکستان میں یاماہا کی آمد اور مقامی سطح پر موٹر سائیکلوں کی تیاری پر سراہنا چاہیے۔ مجھے یقین ہے کہ جتنی مشکلات یاماہا کو یہاں پیش آئیں، اگر وہ کسی اور ادارے کو پیش آتیں تو وہ کب کا اس ملک پر تین حرف بھیج کر کسی اور ملک میں سرمایہ کرچکا ہوتا یا کم از کم ایک بار غیر معمولی مخالفت سہنے کے بعد دوبارہ ادھر کا رخ نہ کرتا۔

پاکستان میں موٹر سائیکلوں کی فروخت کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ہونڈا سر فہرست نظر آتا ہے۔ یاماہا کو ایٹلس ہونڈا کا مقابلہ کرنے کے لیے طویل اور صبر آزما سفر کرنا ہوگا۔ یہ بات عیاں ہے کہ اس وقت ایٹلس ہونڈا کا کوئی بھی مقابل پاکستانی مارکیٹ میں موجود نہیں اس لیے فی الحال اسے ایک طرف رکھتے ہوئے اور دیگر اداروں کا تقابلی جائزہ لیتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں: یاماہا YBR 125 بمقابلہ روڈ پرنس ویگو 150 سی سی

اس وقت موٹر سائیکل کے شعبے میں سوزوکی اور یاماہا ایک دوسرے کے مدمقابل ہیں۔ ذیل میں موٹر سائیکل تیار کرنے والے تین بڑے اداروں کی فروخت سے متعلق ششماہی اعداد و شمار سے بھی اس بات کا بخوبی انداز لگایا جاسکتا ہے۔

Motorcycle-Sales-Infographics-Sales-&-Figures

سوزوکی ایک طویل عرصے سے پاکستان میں موٹر سائیکلیں پیش کر رہا ہے جبکہ یاماہا نے صرف ایک سال قبل ہی اس میدان میں قدم رکھا ہے۔ یہ بات درست ہے کہ یاماہا کا نام عالمی سطح پر کافی جانا پہچانا ہے اور پاکستان میں بھی لوگ اس برانڈ کو پسند کرتے آئے ہیں۔ لیکن ایک نئے ادارے کے طور پر انہوں نے صرف 2 ہی موٹر سائیکلیں اب تک پیش کی ہیں جنہیں YBR 125 اور YBR 125G کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ دونوں موٹر سائیکلیں عام گھریلو بائیک سے مختلف اور اسپورٹی انداز کی حامل ہیں۔ اب قابل توجہ امر یہ ہے کہ اگر یاماہا اپنی 2 موٹر سائیکلوں کی مدد سے سوزوکی کو مات دے سکتا ہے تو پھر 5 موٹر سائیکلوں کی پیشکش کے بعد پاکستان کی موٹر سائیکل مارکیٹ میں کیا انقلاب رونما ہوگا۔

لیکن سب سے اہم بات جو ایک بائیک کے شوقین افراد بشمول راقم کے ذہن میں ہے وہ یہ کہ آیا یاماہا پاکستان میں واقعی اپنی موٹر سائیکل پیش کرتی رہے گی؟ مجھے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آنے والے وقت میں یاماہا کی فروخت مزید بڑھے گی اور وہ ایٹلس ہونڈا کو پیچھے نہ بھی چھوڑ سکیں تو ہم پلہ ضرور ہوجائیں گے۔ لیکن مجھے یہ خوف بھی ہے کہ یامایا اپنی روایت سے ہٹ کر پاکستان میں صرف چند ماڈلز تک خود کو محدود کرلے گی۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ یامایا گھریلو موٹر سائیکل کے زمرے میں YBR 125Z پیش کرنے جا رہا ہے جو براہ راست ہونڈا CG125 کو ٹکر دے گی۔ اس موٹر سائیکل پر مختصر خاندان باآسانی سفر کرسکے گا۔

Yamaha YBR125-Z

یاماہا کی پیش کردہ YBR 125 اور YBR 125G کے ظاہری انداز پر پلاسٹک سے بہت خوبصورت کام کیا گیا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ اسے اسے دیہاتی علاقوں میں ویسی پزیرائی حاصل نہیں ہوگی جیسا کہ بڑے شہروں میں حاصل ہوئی۔ شاید اس بات پر کسی کو یقین نہ آئے لیکن یہ حقیقت ہے کہ چھوٹے شہروں اور گاؤں میں رہنے والے موٹر سائیکل کاشوق رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہاں کافی تعداد میں موٹر سائیکلیں فروخت ہوتی ہیں۔ لیکن وہاں ایسی موٹر سائیکلیں پسند نہیں کی جائیں گی کہ جو اونچے نیچے رستوں پر سفر کے بعد اپنی خوبصورتی کھو دیں۔

ایٹلس ہونڈا کئی دہائیوں سے ایک ہی موٹر سائیکل فروخت کرتی آ رہی ہے۔ ما سوائے نئی 5 -اسپیڈ ڈیلکس ان کی تمام بائیکس پر سالوں سے یہی تنقید کی جاتی رہی ہے۔ اس وقت یاماہا کے پاس ہونڈا کا مقابلہ کرنے کی مکمل سکت ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یاماہا موٹر سائیکل کے شعبے میں کام کرنے والے کسی بھی ادارے کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے لیکن اس کے لیے انہیں مستقل مزاجی سے کام لیتے ہوئے مقامی سطح پر بائیک تیار کرنے والے اداروں کی ضعیف روایات کو توڑنا ہوگا۔

Top