‘آن’ کلچر گاڑیوں کے بعد موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی آ گیا

0 7 475

پاکستان کی کار مارکیٹ میں ‘آن’ کلچر بہت عرصے سے موجود ہے، لیکن اب یہ موٹر سائیکلوں کی فروخت میں بھی داخل آ گیا ہے۔ پاک ویلز کی ریسرچ کے مطابق ڈیلرز اب موٹر سائیکلوں کے لیے بھی ‘آن’ مانگ رہے ہیں۔ یہ ذرا حیرت انگیز لگتا ہے کیونکہ اس سے پہلے لوکل مارکیٹ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا گیا۔

ہماری ریسرچ نے ظاہر کیا ہے کہ ڈیلرز یاماہا YBR G اور ہونڈا CG125 کے لیے ‘آن’ مانگ رہے ہیں۔ YBR G پر 7,000 روپے سے 15,000 روپے تک کا ‘آن’ مانگا جا رہا ہے۔ یوں 1,84,000 روپے کی قیمت موٹر سائیکل 2,01,000 روپے تک میں بیچی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ ہونڈا CG125 پر ‘پریمیم’ کی ڈیمانڈ 5,000 روپے تک جاتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ 1,29,900 کی موٹر سائیکل 1,34,000 روپے کی پڑ رہی ہے۔

لیکن یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ہونڈا CG125 کچھ ڈیلرشپس پر اصل قیمت پر دستیاب ہے، لیکن تمام یاماہا کے ‘پریمیم’ ڈیلرز مانگ رہے ہیں۔

موٹر سائیکلوں پر ‘آن کلچر’ کی وجہ:

ہمارے ذرائع کے مطابق مارکیٹ میں اس مسئلے کی دو بنیادی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ ذرائع نے ہمیں بتایا ہے کہ اٹلس ہونڈا نے CG125 کی پیداوار کم کر دی ہے۔ کمپنی نے موٹر سائیکل ڈیلرز کے لیے کوٹا گھٹا دیا ہے۔

دوسرا بڑی وجہ عوام کی بے صبری ہے۔ ذرائع کے مطابق ڈیلرز عموماً ڈلیوری کے لیے کچھ وقت مانگتے ہیں، جو کہ 2 ہفتے تک ہو سکتا ہے۔ لیکن کسٹمرز اس انتظار کے لیے تیار نہیں ہوتے اور وہ فوراً موٹرسائیکل حاصل کرنے کے لیے ‘پریمیم’ ادا کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں، جو موٹر سائیکل سیگمنٹ میں بھی ‘آن کلچر’ آنے کی وجہ بنا ہے۔

موٹر سائیکل سیگمنٹ کے لیے ایک خطرناک رحجان:

موٹر سائیکل ملک بھر میں مڈل کلاس خاندانوں کی ضرورت ہے۔ اس لیے اس کا مطلب ہے کہ یہ کلچر عوام کی قوتِ خرید کو بہت نقصان پہنچائے گا کیونکہ یہ ‘آن’ منی عام لوگوں کے لیے بڑی رقم ہو سکتی ہے۔

اس لیے حکومت اور عوام کو مل جل کر اس لعنت سے جلد چھٹکارا حاصل کرنا ہوگا، کیونکہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ کار مارکیٹ کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ اگر یہ رحجان موجود رہا تو اس سے عام آدمی متاثر ہوگا، جو کہ ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا۔

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.