پاکستان کا الیکٹرک رکشہ: ایک ریویو

0 1 748

پاک ویلز آپ کے لیے پاکستان میں تیار ہونے والے ایک الیکٹرک رکشہ کا دلچسپ اور انوکھا ریویو لا رہا ہے۔ موجودہ حکومت اور وزیر اعظم عمران خان الیکٹرک گاڑیاں متعارف کروانے میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں۔ وزیر اعظم 2030ء تک پبلک ٹرانسپورٹ کو الیکٹرک پر منتقل کرنے کے خواہشمند ہیں۔

یہ رکشہ سازگار انجینئرنگ نے بنایا ہے اور پاکستان میں اپنی نوعیت کاپہلا رکشہ ہے۔

پاور ٹرین اور چارجنگ:

سازگار انجینئرنگ نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ رکشہ 3-کلوواٹ (KW) موٹر اور 6.5KW لیتھیم-آیون بیٹری کے ساتھ آتا ہے۔ یہ بیٹری 5 گھنٹوں میں مکمل چارج ہو جاتی ہے اور ایک مرتبہ چارج ہونے پر 120 سے 160 کلومیٹرز تک چل سکتی ہے، جس کا انحصار ڈرائیونگ کرنے کے انداز پر ہے۔

چارجنگ لاگت:

آپ اس گاڑی کو 5 سے 6 الیکٹرک یونٹس میں چارج کر سکتے ہیں جو آپ کو 1 روپیہ فی کلومیٹرز پڑ رہی ہے۔ دوسری جانب پٹرول سے چلنے والا رکشہ آپ کو 5 سے 6 روپے فی کلومیٹرز کا پڑتا ہے، اگر اس کا ایوریج 25 کلومیٹرز فی لیٹرز ہوتو۔ یوں یہ گاڑی اس شخص کے لیے بہترین ہے کہ جو رکشے سے کمانا چاہتا ہو۔

مرمت:

اس رکشے کی مرمت اور دیکھ بھال کی لاگت پٹرول سے چلنے والے رکشے کے مقابلے میں بہت معمولی سی ہے۔ آپ کو صرف اس کے متحرک پارٹس کی مرمت کروانا ہوگی جیسا کہ بریک پیڈ کیونکہ آپ کو نہ انجن آئل تبدیل کروانے کی ضرورت ہے، نہ ایئرفلٹر، اور نہ ہی آئل فلٹر۔

الیکٹرک رکشے کا پک:

دلچسپ بات یہ ہے کہ ان رکشوں کا پک پٹرول رکشوں کے مقابلے میں بہت اچھا ہے۔ اس سے ڈرائیور کو رش کے علاقوں سے بچنے اور ہموار ڈرائیو میں مدد ملے گی۔

الیکٹرک رکشے کی قیمت:

سازگار کے مالک کے مطابق اس رکشے کی آزمائشی قیمت 4.5 سے5 لاکھ روپے  تک جا سکتی ہے۔ اس کی وجہ  لیتھیم-آیون بیٹری اور الیکٹرک پارٹس کا نسبتاً مہنگا ہونا ہے ، جو کمپنی امپورٹ کرتی ہے۔ البتہ اس بیٹری کی 5 سے 7 سال کی وارنٹی ہے، جو خوش آئند بات ہے۔

اس کے علاوہ maintenance کی کم لاگت کی وجہ سے مالک 5 سے 6 مہینوں میں ہی اس کی پوری رقم نکال سکتا ہے۔

بیٹری اور موٹر کی placement:

بیٹری ڈرائیور کی سیٹ کے نیچے لگی ہوئی ہے، جبکہ موٹر مسافر کی سیٹ کے نیچے ہے۔

الیکٹرک رکشہ کیسے چارج کریں:

کمپنی نے گاڑی کے اندر ایک چارجر انسٹال کیا ہے۔ آپ اسے کسی بھی جگہ پر اسٹینڈرڈ ساکٹ کے ذریعے چارج کر سکتے ہیں۔ یہ گاڑی کا بڑا مثبت پہلو ہے۔

آخری فیصلہ:

یہ رکشہ ایک زبردست جدت ہے اور پاکستان میں مقبولیت حاصل کرنے میں کچھ وقت لے گا۔ لیکن لوگوں کو اسے فوراً قبول کرنا چاہیے کیونکہ اس سے آلودگی میں کمی ہوگی اور یہ مالکان کے لیے زبردست بچت رکھتا ہے۔

وڈیو دیکھیں:

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.