مٹسوبشی پجیرو 1993: ایک ریویو مالک کی نظر سے

0 1 288

آج ہم آپ کے لیے مٹسوبشی پجیرو 1993 ماڈل کا ریویو لا رہے ہیں، وہ بھی خود اس کے ایک مالک کی نظر سے۔ یہ ماڈل 90 کی دہائی میں پاکستان میں بہت مشہور تھا۔ جس گاڑی کا ریویو کیا جا رہا ہے وہ تین دروازوں والی پجیرو ہے۔

انجن اور ویرینٹ:

مالک نے ہمیں بتایا کہ ‏1992-93 ماڈل کی یہ گاڑی 2500cc کا انجن رکھتی ہے۔ اصل میں اس گاڑی میں 2.5L ڈیزل انجن تھا۔

Engine

مٹسوبشی پجیرو کی اپگریڈیشن:

مالک نے بتایا کہ «میں نے اس گاڑی کا ایکسٹیریئر، انٹیریئر اور انجن 2009 میں چمن، بلوچستان سے اپگریڈ کروایا تھا۔» اس پروسس کے بارے میں مالک نے بتایا کہ انہوں نے ایک نیلامی سے ‏96-97 پجیرو خریدی اور اسے اس گاڑی کے فریم پر لگوایا۔

مالک کا کہنا ہے کہ «دلچسپ بات یہ ہے کہ جس مکینک نے یہ گاڑی اپگریڈ کی، وہی اسے چمن سے لاہور ڈرائیو کرکے لایا۔» انہوں نے کہا کہ مکینک نے بہت اچھا کام کیا تھا کیونکہ پچھلے 11 سالوں میں اس گاڑی میں کوئی مسئلہ سامنے نہیں آیا۔

یہاں ہم اپنے قارئین کو بتاتے چلیں کہ گاڑی کا انٹیریئر اور ایکسٹیریئر تبدیل کروانا لیگل یعنی قانونی ہے، لیکن گاڑی کا مکمل فریم تبدیل کروانے کی قانون اجازت نہیں دیتا۔ اس کے علاوہ اگر آپ اپنی گاڑی کا انجن تبدیل کرواتے ہیں تو ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو اس کی اطلاع دیں اور گاڑی کی بُک میں اسے اپڈیٹ کریں۔

قیمت: مالک نے کہا کہ اس گاڑی کی خریداری اور اپگریڈیشن انہیں تقریباً 12 لاکھ روپے کی پڑی۔

کیا یہ آپ کے قیمتی پیسے کا اچھا نعم البدل ہے؟

مالک کا کہنا ہے کہ یہ واقعی خرچ کیے گئے پیسوں کا بہترین نعم البدل ہے کیونکہ آپ ان خصوصیات اور فیچرز کی گاڑی اس بجٹ میں نہیں خرید سکتے۔ مالک کا کہنا ہے کہ وہ اس گاڑی کو فروخت کرنے کا سوچ بھی نہیں رہے کیونکہ انہیں یہ بہت پسند ہے۔

فیول ایوریج:

مالک کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کا فیول ایوریج 4.5 کلومیٹرز فی لیٹر تھا۔ «پھر میں نے اسے ٹیون کروایا، اور اب یہ شہر کے اندر AC کے ساتھ 6.6 کلومیٹرز فی لیٹر کا ایوریج دیتی ہے۔»

مٹسوبشی پجیرو کا انٹیریئر:

یہ کار جاپانی کار کلائمٹ کنٹرول سسٹم رکھتی ہے جو 92 پجیرو میں انسٹال کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ یہ گاڑی ڈوئل وینٹ AC رکھتی ہے جس میں سے دوسرا پچھلی سیٹوں کے نیچے ہے، جبکہ اس کے کنٹرول آرم ریسٹ کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔

اگلی سیٹوں پر بیٹھنے کی گنجائش کافی ہے، البتہ پچھلی سیٹیں ذرا سیدھی ہیں اور کم لیگ اسپیس رکھتی ہیں، اس لیے یہ 4 سے 5افراد کے لمبے سفر پر جانے کے لیے مناسب نہیں۔ مالک نے کہا کہ «تین لوگ بہت آسانی کے ساتھ اس میں لمبے سفر پر جا سکتے ہیں، جبکہ پانچ لوگ چھوٹے سفر میں آسانی سے بیٹھ سکتے ہیں۔»

اس کے علاوہ اس گاڑی میں ایئربیگز بھی ہیں جو اصل میں اس ماڈل میں انسٹال نہیں تھے۔

Interior AC Airbag

ڈِگی کی گنجائش:

مالک کے مطابق آپ اس کی ڈِگی میں تین بڑے سوٹ کیس آسانی سے رکھ سکتے ہیں، اور آپ مزید سامان رکھنے کے لیے چھت پر کیریئر بھی لگا سکتے ہیں۔

Boot space

ری سیل ویلیو:

مالک نے ہمیں بتایا کہ ویسے تو یہ گاڑی عام مارکیٹ کے لیے نہیں ہے، لیکن جو اسے پسند کرتے ہیں وہ اس کی اچھی رقم دیں گے۔ مالک نے کہا کہ «میں نے پچھلے مہینے اسے 18 لاکھ روپے کی ڈیمانڈ کے ساتھ فروخت کرنے کا منصوبہ بنایا اور مجھے 17 لاکھ روپے تک کی آفر ملی، لیکن پھر میں نے اسے بیچنے کا ارادہ تبدیل کر دیا۔» انہوں نے مزید کہا کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ گاڑی ایک اچھی ری سیل ویلیو رکھتی ہے، لیکن اس گاڑی کے چاہنے والے خاص حلقے میں۔

پارٹس کی دستیابی:

مالک کا کہنا ہے کہ اس گاڑی کے پارٹس آسانی سے مل جاتے ہیں، لیکن ذرا مہنگے ہوتے ہیں۔ ان کے خیال میں اس کی وجہ ماڈل کا پرانا ہونا اور لوکل مارکیٹ میں ان گاڑیوں کی موجودگی کم ہونا ہے۔

بریکس کی بھروسہ مندی:

مالک کے مطابق اس گاڑی میں ABS تو نہیں ہے، لیکن اگر زیادہ رفتار پر بریکس لگائے جائیں تو یہ جم جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ «ایک مرتبہ پھر ایسا ہوا کہ مجھے 145 کلومیٹرز فی گھنٹے کی اسپیڈ پر ایمرجنسی بریک لگانے پڑے، لیکن یہ گاڑی کنٹرول سے باہر نہیں ہوئی، جو اس گاڑی کا زبردست پازیٹو پوائنٹ ہے۔»

مٹسوبشی پجیرو کی معلوم خامیاں:

مالک کو جس واحد مسئلے کا سامنا ہے وہ اسٹیئرنگ کا ہے، لیکن وہ اسے ورکشاپ لے جانا نہیں چاہتے کیونکہ انہیں خطرہ ہے کہ اس سے گاڑی میں نئے مسئلے پیدا ہو سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ اس گاڑی کا ڈیزل انجن بھی ہائی وے پر مستقل زیادہ رفتار پر seize ہو جانے کی شہرت رکھتا ہے، البتہ پٹرول انجن زیادہ قابلِ بھروسہ ہے۔

آئل چینج پر لاگت:

مالک 4,000 کلومیٹرز کے بعد اپنا موبل آئل چینج کرواتے ہیں اور یہ انہیں 6,000 روپے کا پڑتا ہے۔ مالک نے کہا کہ «اگر میں اس کا آئل اور فلٹر چینج کرواؤں تو تقریباً 7,500 روپے لگیں گے۔»

کسٹمز/لیگل ایشوز:

‏1992-96 ماڈل پجیرو کسٹمز اور دوسرے لیگل مسائل کا سامنا کرنے کے حوالے سے بدنام ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک زمانے میں پاکستان میں کسٹمز فیس ادا نہ کرنے والی ایسی گاڑیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ لیکن مالک کا کہنا ہے کہ انہیں کبھی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا کیونکہ ان کے پاس گاڑی کے تمام کاغذات ہیں۔

مٹسوبشی پجیرو کے حوالے سے آخری رائے:

مٹسوبشی پجیرو اب بھی پاکستان میں فین فالووِنگ رکھتی ہے، ایک خاص حلقہ اب بھی اس گاڑی کو چلاتا ہے اور اسے پسند بھی کرتا ہے۔ اگر آپ اس گاڑی کو اچھی طرح maintain رکھ سکتے ہیں تو یہ ایک زبردست گاڑی ہے اپنے طاقتور انجن، چھوٹے سائز اور بھروسہ مندی کی وجہ سے۔ اس گاڑی کا ڈیزل انجن لمبے روٹس پر مسئلے پیدا کر سکتا ہے، لیکن پٹرول انجن نسبتاً بھروسہ مند ہے۔

وڈیو دیکھیں:

آپ پاک ویلز کے استعمال شدہ گاڑیوں کے سیکشن سے مٹسوبشی پجیرو خرید سکتے ہیں۔

Recommended For You:

Toyota Hilux Vigo: Review By The Owner 

 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.