پاکستان کی تیز ترین کار: نسان جی ٹی-آر کا ریویو، اس کے مالک کی نظر سے

0 3 481

آج پاک ویلز آپ کے لیے پاکستان کی تیز ترین کار نسان ‏GT-R R35 کا ایک ریویو لا رہا ہے، وہ بھی خود اس کے ایک مالک کی نظر سے۔ موٹو اسپورٹس کے شائقین اس کار کے بارے میں پہلے سے جانتے ہیں اور یہ تیز رفتار کاریں پسند کرنے والوں کے لیے بہت خاص گاڑی ہے۔

یہ مخصوص کار 2007 میں لانچ کی گئی تھی اور اب بھی اسی shape میں آتی ہے۔

خرید اور قیمت:

مالک نے پاک ویلز کو بتایا کہ انہوں نے یہ کار 2017 میں بہت اچھی اسٹاک کنڈیشن میں خریدی تھی۔ مالک نے کہا کہ «یہ 2008 ماڈل ہے اور خریدنےکے بعد ہی سے میں اس کی انجن پاور اور ایکسٹیریئر کو اپگریڈ کرواتا رہا ہوں۔»

یہ کار خریدنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے مالک نے کہا کہ وہ یہ مخصوص کار اس لیے خریدنا چاہتے تھے کہ ان کے پاس ایوولیوشن اور کورویٹ تھی؛ اس لیے وہ ایک قدم مزید آگے بڑھنا چاہتے تھے۔ «میں نے یہ کار 178 ملین روپے میں خریدی لیکن اب پاکستان میں دوسری کاروں کی طرح اس گاڑی کی قیمت بھی بڑھ چکی ہے۔»

کار اپگریڈیشن اور انجن پاور اضافہ:

مالک کا کہنا ہے کہ 400bhp سے اپگریڈ کروانے کے بعد انجن اب ‏1300-1350bhp پیدا کرتا ہے۔

انجن پاور میں اضافے کے پروسس پر بات کرتے ہوئے مالک نے کہا کہ وہ ہمیشہ لاہور کی میکس پاور موٹر اسپورٹس ورکشاپ سے کام کرواتے ہیں۔ «وہ بہت پروفیشنل اور محنت کرنے والے لوگ ہیں اور میں اپنے کار کے تمام کاموں کے لیے ان پر بھروسہ کرتا ہوں۔» انہوں نے مزید کہا کہ وہ امپورٹ، انسٹالیشن سے ڈائنو ٹیون تک سب میں مہارت رکھتے ہیں۔

مالک کا کہنا ہے کہ وہ پہلے مرحلے میں bhp کو 400 سے 600 تک لے گئے، پھر اسے 800bhp کیا اور پھر 100bhp، اور آخر میں 1300bhp تک لے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ «اس میں کافی وقت لگتا ہے، لیکن اگر آپ کے پاس بہترین ٹیم ہو تو یہ اتنا بڑا مسئلہ نہیں۔»

Nisan G-TR

انہوں نے مزید کہا کہ کار کا ایکسٹیریئر بھی کاربن فائبر کے ساتھ اپگریڈ کیا گیا ہے۔ «انٹیریئر کے سوا ہر پارٹ تبدیل یا اپگریڈ کیا گیا ہے۔»

مالک کا یہ بھی کہنا ہے کہ انہوں نے اس کار کے بریکس بھی اپگریڈ کروائے ہیں کیونکہ یہ گاڑی کی اپگریڈیشن کے اہم ترین پہلوؤں میں سےایک ہے۔ «میں اس کار میں کاربن سیرامکس بریکس لگواؤں گا کیونکہ وہ ہائی اسپیڈ کے لیے بہت اچھے ہیں۔»

Nissan G-TR

فیول کوالٹی:

مالک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فیول کی کوالٹی اچھی نہیں ہے۔ «میں اس کار میں ایتھانول E85 استعمال کر رہا ہوں کیونکہ میں پمپ گیس استعمال نہیں کر رہا۔» انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ایتھانول کی قیمت بہت زیادہ ہے، حالانکہ دنیا میں خصوصی E85 پمپ اسٹیشنز ہیں، لیکن ہمارے ملک میں ایسا نہیں ہے۔

فیول ایوریج:

مالک کا کہنا ہے کہ اسٹاک کنڈیشن میں اس کا مائلیج ایوریج 5 سے 6 کلومیٹرز فی لیٹر ہے جبکہ ایتھانول پر یہ 3 سے 3.5 کلومیٹرز دے رہی ہے۔

ٹریک کار یا روزانہ استعمال کی گاڑی:

مالک کا کہنا ہے کہ ویسے تو یہ ایک ٹریک کار ہے لیکن وہ اسے روزانہ استعمال میں لاتے ہیں اور انہیں کبھی کسی مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ یہ گاڑی ڈوئل کلچ سہولت کے ساتھ آٹومیٹک ٹیکنالوجی رکھتی ہے اور اس کا کمفرٹ لیول بھی شاندار ہے۔ مالک نے کہا کہ «میں اس کار کو مری لے گیا، اور پہاڑوں میں کوئی مسئلہ نہیں ہوا۔» ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں ڈرائیونگ کے دوران لاہور میں اسپیڈ بریکرز کا کبھی کوئی مسئلہ نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ «عام طور پر ڈرائیور اسپورٹس کار چلاتے ہوئے گھنٹہ ڈیڑھ میں تھک جاتے ہیں، لیکن اس کار کا انٹیریئر بہت آرام دہ اور کشادہ ہے۔» ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ کار دونوں لحاظ سے بہترین ہے کیونکہ یہ طاقت بھی رکھتی ہے اور آرام بھی۔

Nissan G-TR

اس ماڈل کی reliability بھی اتنی اچھی ہے کہ نسان پچھلے 13 سالوں سے اس shape کو برقرار رکھے ہوئے ہیں اور اگلے ماڈل کے لیے بھی اسی شکل میں رکھنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

فیچرز اور ایکسیسریز:

کار پیڈل شفٹرز رکھتی ہے اور اس کی انفوٹینمنٹ اسکرین کار کے انجن اور پرفارمنس کے بارے میں ہر تفصیل بتاتی ہے جس میں پانی کا ٹمپریچر، انجن پاور، اسپیڈ، رینج، یہاں تک کہ جی-فورس بھی شامل ہے۔

کار ‏BOSE پریمیم ساؤنڈ سسٹم، الیکٹرک اور heated سیٹیں اور تمام ماڈرن سہولیات رکھتی ہے۔

Nissan G-TR

معلوم خامیاں:

نسان کے اس ماڈل نے ‏2008-09 میں گیئر ٹرانسمیشن میں سافٹ ویئر کے مسئلے کا سامنا کیا۔ مالک نے بتایا کہ «ٹرانسمیشن کا لانچ کنٹرول بہت سخت تھا اور یہ ٹرانسمیشن کو خراب کر رہا تھا۔ 2010 کے بعد کمپنی نے اس مسئلے کو مکمل طور پر حل کر دیا۔

مالک نے مزید کہا کہ انہوں نے اس کار میں دنیا کی بہترین Sheptrans ٹرانسمیشن انسٹال کروائی، اور یہی وجہ ہے کہ یہ اتنی زیادہ ہارس پاور کو ہینڈل کر رہی ہے۔

شور کا مسئلہ:

ان کا کہنا ہے کہ اس کار کی اپنی خاص requirement ہے کیونکہ اسے فری-فلو ایگزاسٹ کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ «اس میں شور کا مسئلہ ہے، لیکن ہم اس کا ایگزاسٹ بند نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے بعد انجن پاور بڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا۔»

بہترین فیچرز:

اگر آپ کے ساتھ بجٹ کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، تو اس کار کے ٹاپ 3 فیچرز یہ ہیں:

  • آپ جہاں تک چاہیں اس کی پاور بڑھا سکتے ہیں، اس حوالے سے کوئی حد نہیں ہے۔
  • گاڑی بہترین بھروسہ مندی رکھتی ہے
  • یہ ایک آٹومیٹک کار ہے، جو اسے بہت آرام دہ بناتی ہے

‏0-60 اور ‏0-100:

مالک کا کہنا ہے کہ یہ کار ‏0-60 کلومیٹرز کی رفتار ‏2.3-2.4 سیکنڈز میں حاصل کر لیتی ہے، جبکہ چوتھائی میل 9 سیکنڈوں میں کرتی ہے، جو ایک بہترین رفتار ہے۔ انہوں نے کہا کہ «میرا ہدف ہے کہ اس سال اسے 8 سیکنڈ تک لے آؤں۔»

Nissan G-TR

پاکستان میں ڈریگ اسٹرپس کی موجودگی:

انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس ڈریگ اسٹرپس نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ «حکومت کو ہمیں سہولت دینی چاہیے کیونکہ اس سے زبردست آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے۔» انہوں نے مزید کہا کہ یہ دنیا بھر میں ایک سنجیدہ کھیل بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑک پر ایسی کاریں ڈرائیو کرنا سب کے لیے خطرناک ہے، لیکن ڈریگ اسٹرپس کی موجودگی اسے مکمل محفوظ بنائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ «پاکستان میں لوگ ڈریگ ریس کے حوالے سے بہت جوش رکھتے ہیں، اور حکومت کو اس کھیل کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھانے چاہئیں۔»

Nissan G-TR

ٹائرز:

مالک کا کہنا ہے کہ وہ اس وقت ٹویو R ٹائپ ٹرپل-اے ٹائرز استعمال کر رہے ہیں، جو ڈریگ ریڈیل ہیں، لیکن کار کی موجودہ پاور کے لحاظ سے یہ ٹائر بھی مناسب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ «میں کوارٹر-مائل ریس کے لیے خصوصی ڈریگ ٹائرز استعمال کرتا ہے، جو زبردست اسٹریٹ گرپ رکھتے ہیں۔»

زیادہ سے زیادہ اسپیڈ:

کار کی ٹاپ اسپیڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مالک نے کہا کہ وہ اس کار کو موجودہ پاور پر 400 کلومیٹرز فی گھنٹہ تک لے جا سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ «البتہ میں ریس میں اسے 330 سے 340 کلومیٹرز فی گھنٹہ تک لے گیا ہوں۔»

وڈیو یہاں دیکھیں:

For more review, blogs and updates on auto industry, keep visiting PakWheels Blogs.

Recommended For You: KIA Sportage FWD Review By The Owner 

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.