کیا ہونڈا ایچ آر-وی ایک مرتبہ پھر پاکستان آ رہی ہے؟

0 5 519

سوچ تو کاش والی ہی ہے لیکن ایک افواہ اُڑی ہوئی ہے اور جہاں دھواں اٹھتا نظر آتا ہے تو اس کا
مطلب ہے آگ ضرور لگی ہوئی ہے، اور افواہ یہ ہے کہ یہ ہونڈا ‏HR-V پاکستان میں واپس آ سکتی
ہے۔
چند مہینے پہلے میں نے ہونڈا CR-V کے حوالے سے اپنی رائے پیش کی تھی اور یہ بھی کہ اسے
مقامی طور پر اسمبل کی گئی گاڑی کی حیثیت سے متعارف کروانے کا موقع کس طرح ضائع کیا گیا
ہے۔
گزشتہ سال ڈیڑھ میں ہونڈا اٹلس کے معاملات اچھے نہیں رہے گو کہ وہ کسی حد تک اپنی سیلز کو
برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ لیکن گزشتہ 8 سے 12 مہینوں کے دوران مقابلہ بہت بڑھ گیا
ہے۔ اسپورٹیج اور ٹوسان جیسی کراس اوورز سامنے آنے اور گلوری اور MG-HS جیسی متعارف
کردہ چند نئی گاڑیاں ہونڈا سوِک کی سیلز کھا گئی ہیں۔ عین اسی دوران ایک CBU کے لحاظ سے
پُرکشش قیمت رکھنے والی آئندہ CKD پروٹون X70 نے بھی خریداروں کو ایک اور آپشن دے دیا
ہے۔
سٹی کا معاملہ دیکھیں تو وہ بھی بہتر نہیں ہے، جو دہائی بھر سے چند فیس لفٹسکے ساتھ مارکیٹ
میں موجود ہے۔ یارِس کی آمد نے اس کی سیلز کو بُری طرح دھچکا پہنچایا ہے۔ بلاشبہ اب ہونڈا اٹلس
کے کیمپ میں تشویش ضرور پائی جاتی ہوگی۔

‏2016 میں ہونڈا ‏HR-V کی لانچ:

اَن-آفیشل اور غیر تصدیق شدہ رپورٹس کے مطابق ہونڈا اٹلس ایسی گاڑی پر کام کر رہا ہے جسے
پانچ سال پہلے متعارف کروایا گیا تھا لیکن وہ مارکیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی۔ تب یہ کسٹمرز کی
توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کروا پائی تھی۔ ہونڈا اٹلس نے ‏HR-V جنوری 2016 میں ایک
CBU/امپورٹڈ یونٹ کی حیثیت سے 36 لاکھ روپے کی قیمت میں پیش کی گئی تھی۔ تب جاپانی
امپورٹڈ گاڑیاں مارکیٹ میں خوب چل رہی تھیں، اور جاپانی ڈومیسٹک ماڈل ہونڈا ویزل پاکستانی
مارکیٹ میں ہائبرڈ صورت میں ایک پُرکشش انتخاب تھا۔ جاپان سے باہر ویزل کو چند معمولی تبدیلیوں
کے ساتھ ‏HR-V کا نام سے ری برانڈ کیا گیا تھا۔

مارکیٹ اور ‏HR-V میں تبدیلی:

اب ‏‏2020/2021 میں آئیں، مارکیٹ بدل چکی ہے اور خریداروں کی ترجیحات بھی۔ کراس اوور
یوٹیلٹی گاڑیوں/CUV اور اسپورٹس یوٹیلٹی گاڑیوں/SUV کا شوق وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا جا رہا
ہے۔ ہر دوسرا مینوفیکچرر اپنے SUV اور کراس اوورز کے ورژنز لا رہا ہے کیونکہ ان کی بہت
ڈیمانڈ ہے۔ عالمی سطح پر بھی روایتی سیڈانز کی فروخت پر منفی اثر پڑا ہے۔

پاکستان میں نئے آنے والے اداروں نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسپورٹیج متعارف ہونے
سے ہماری مارکیٹ میں ایک نئے رحجان کی بنیاد پڑی ہے۔ ٹوسان نے اس رحجان کو اور تقویت دی
اور پاکستانی مارکیٹ کے صارفین ایسے نئے سیگمنٹ کی جانب جا رہے ہیں جس کے بارے میں وہ
نہیں جانتے تھے۔ کرولا اور سوِک کی فروخت میں کمی نے بھی تصدیق کی ہے کہ خریداروں کا
رحجان اس وقت مارکیٹ میں موجود کراس اوورز کی طرف ہے۔

ہونڈا ‏HR-V کی موجودہ جنریشن اور انجن:

‏HR-V کی موجودہ جنریشن دراصل دوسری جنریشن ہے جو جاپان میں 2013 میں ویزل کے نام
سے متعارف کروائی گئی تھی اور ‏2015-16 میں دوسری مارکیٹوں میں ‏HR-V کے نام سے۔
دوسری جنریشن اپنی لائف سائیکل کے تقریباً اختتام پر ہے، اور انٹرنیشنل مارکیٹ میں نئی تیسری
جنریشن اِس سال میں کسی بھی وقت عوام کے سامنے آ جائے گی۔ لیکن دوسری جنریشن اب بھی
پروڈکشن میں ہے اور عالمی مارکیٹ میں تقریباً ایک سال تک اس کی پیداوار ہوتی رہے گی۔
‏HR-V/ویزل ہونڈا کے گلوبل کومپیکٹ پلیٹ فارم پر بنی ہوئی ہے اور GM سیریز (پانچویں/چھٹی)
ہونڈا سٹی، ہونڈا فِٹ/جیز کے ساتھ شیئر کرتی ہے۔ اس میں ہونڈا ‏BR-V کے مکینیکل حصے بھی
شامل ہیں۔ ہونڈا ماڈل لائن اپ کے مطابق ‏HR-V/ویزل ‏CR-V سے نیچے آتی ہے۔
ہونڈا ‏HR-V ہونڈا سٹی کے جیسے 1.5L NA انجن اور 1.8L انجن میں آتی ہے جیسا کہ سوِک میں
ہے۔ یہ 1.5L ہائبرڈ میں بھی دستیاب ہے جسے ہم ویزل کے طور پر جانتے ہیں۔ ہونڈا اٹلس ممکنہ
طور پر 1.8L انجن لائے گا، گو کہ 1.5L کا امکان بھی موجود ہے۔ CVT ٹرانسمیشن کی بھی توقع
رکھیں۔

ہونڈا کے دیگر ممکنہ لانچ:

مزید بات آگے بڑھانے سے پہلے کچھ بات دیگر گاڑیوں کی بھی کر لیں، جیسا کہ ہونڈا سٹی۔ آئندہ
ہونڈا سٹی کے بارے میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے اور چاہے BMW ایک X7 متعارف کروائے یا
چنگان ایلسوِن اور یونائیٹڈ الفا یا MG اپنی HS کی رونمائی کرے، اس میں کوئی شک نہیں کہ سب
آنے والی سٹی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، وہ بھی جنہوں نے ٹویوٹا یارِس خرید لی ہے یا ایلسوِن
بُک کروا چکے ہیں۔
پاکستان میں موجودہ ہونڈا سٹی کے بارے میں کتنا بھی بُرا بھلا کہہ لیں، لیکن ہمیں معلوم ہے کہ یہ
ہونڈا سٹی ہی ہے جس نے کومپیکٹ سیڈان کے سیگمنٹ کو رُوپ دیا اور ہم اسے پاکستان میں اسے
اس سیگمنٹ کا بانی کہہ سکتے ہیں۔ اسے بہت عرصے تک بلامقابلہ بے تاج بادشاہ ہونے کا اعزاز
حاصل رہا ہے۔
تو اس وقت سوال یہ ہے کہ ہمیں چھٹی جنریشن کی GM6 ہونڈا سٹی ملے گی یا 7 ویں جنریشن کی
GN1 سٹی۔ سٹی کے بارے میں میری تحریر پڑھ لیں، چاہے آپ اس سے اتفاق کریں یا نہ کریں،

لیکن میرے خیال میں ہونڈا GM6/چھٹی جنریشن کی سٹی لائے گا اور اسی آرکی ٹیکچر کا استعمال
کرتے ہوئے ‏HR-V کی صورت میں ایک دوسری پروڈکٹ بنائے گا۔ جیسا کہ میں نے کہا تھا کہ ان
کے پلیٹ فارمز اور کئی مکینیکل کمپوننٹس ایک جیسے ہیں۔ اس طرح ہونڈا اٹلس لاگت کو بہت حد
تک کم کرے گا اور دو پروڈکٹس مارکیٹ میں لا پائے گا۔ میرے ذاتی خیال میں ہونڈا اٹلس 2016
جتنی ہی قیمت پر ‏HR-V لائے گا یعنی 35 لاکھ روپے کے لگ بھگ۔

ہونڈا کے لیے قیمت کے آپشنز:

ہونڈا اٹلس آئندہ ہونڈا سٹی لگ بھگ 30 لاکھ روپے کی قیمت پر لائے گا جس کا انحصار ویرینٹ پر
ہوگا۔ اس طرح ہونڈا اٹلس ایک ہی تیر سے کئی شکار کرے گا۔ 35 لاکھ روپے کی قیمت پر ایک
کومپیکٹ کراس اوور کی موجودگی ٹویوٹا کے صارفین کی توجہ حاصل کرے گی کہ جو ٹویوٹا
کرولا، خاص طور پر 1.6L آلٹس کے لیے مارکیٹ میں موجود ہیں۔
‏HR-V ان صارفین کی توجہ بھی حاصل کر سکتی ہے یا کرے گی کہ جو ہیونڈائی ایلانٹرا کے لیے
مارکیٹ میں موجود ہیں کہ جو تقریباً 35 لاکھ روپے کی قیمت پر ہی ہوگی۔ اور یہ ممکنہ MG ZS
کے کا بھی مقابلہ کر سکتی ہے کہ جو رواں سال کے اواخر یا اس سے بھی پہلے آ سکتی ہے اور
تقریباً 40 لاکھ روپے کی قیمت رکھے گی۔ ہونڈا ایک ڈیڑھ سال میں 11 ویں جنریشن کی سوِک کے
ساتھ 40 لاکھ روپے کی قیمت کے بریکٹ کو بھی پُر کر سکتی ہے۔
جہاں تک ممکنہ لانچ کے وقت کا تعلق ہے تو افواہ یہی ہے کہ ‏HR-V 2021 کے اواخر یا 2022
کے اوائل جبکہ سٹی کی جگہ لینے والی گاڑی رواں سال اگست یا اس سے بھی پہلے متوقع ہے۔ ایک
مرتبہ پھر بتاتے چلیں کہ یہ ساری معلومات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ
حقیقت کا رُوپ بھی نہ دھار سکے۔ بہرحال، جتنی تاخیر کریں گے، اتنا ہی مارکیٹ شیئر میں نقصان
اٹھائیں گے اور پھر ہمیں رواں سال کے اواخر میں انٹرنیشنل مارکیٹ میں ‏HR-V کی نئی جنریشن
متوقع ہے۔ ہونڈا اٹلس انٹرنیشنل ریلیز کے ساتھ نئی جنریشن لانچ کرنے میں اتنا تیز نہیں ہے۔ اس کا
مطلب ہے کہ اگر اٹلس 2022 میں ‏HR-V لاتا ہے تو ایک مرتبہ پھر یہ پرانی جنریشن ہی کی ہوگی۔
بہرحال مستقبل میں جو بھی سننے اور دیکھنے کو ملے گا، اس کے لیے اپنے کان اور آنکھیں کھلی
رکھیں اور مت بھولیے گا کہ آپ یہ سب 14 جنوری 2021 کو پڑھ چکے ہیں اور کہیں اور نہیں
صرف پاک ویلز پر۔

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.