بارش اور سیلاب کے دنوں میں نئی گاڑی کی خریداری – پاک ویلز ٹپس!

0 8 114

ملک کے جنوبی علاقے میں طوفانی بارشوں نے تباہی پھیلا رکھی ہے خاص طور پر کراچی اربن فلڈنگ سے بری طرح متاثر ہوا ہے۔ بدقسمتی سے ان بارشوں میں کئی جانیں گئیں اور کئی لوگوں کو اپنی املاک، کاروبار، مال اسباب اور دوسری چیزوں کا نقصان سہنا پڑا۔ اللہ اس آفت سے متاثر ہونے والوں کو صبر عطا فرمائے۔

سیلاب اور گاڑی کی ڈلیوری:

اس تحریر میں اربن فلڈنگ کے دنوں میں گاڑی خریدنے کے بارے میں بات کروں گا۔ ایک ایسے وقت میں جب کئی علاقے بارش کے پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، خدشہ ہے کہ سیلابی پانی نے کار ڈیلرز کو بھی متاثر کیا ہو۔

اگر آپ آج کل اپنی نئی گاڑی کی ڈلیوری کا انتظار کر رہے تھے تو گاڑی پک کرتے ہوئے آپ کو کافی ہوشیاری سے کام لینا ہوگا۔ امکان ہے کہ سیلابی پانی ڈیلرشپ کی پارکنگ یا کسی بھی اسٹوریج میں داخل ہوا ہے اور برانڈ نیو گاڑیوں کو نقصان پہنچایا ہو۔

جب گاڑیاں ایک بار ڈیلرشپ کے پاس پہنچ جاتی ہیں تو اُن کی حفاظت اور ڈلیوری سے پہلے انشورنس اسی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ہمیں کچھ ایسی خبریں ملی ہیں کہ ڈیلرشپ نے ٹرانسپورٹیشن کے دوران یا پارکنگ میں کوئی نقصان پہنچنے کی صورت میں گاڑی کی مرمت کروائی جبکہ یہ بات گاڑی کے مالک کو پتہ ہی نہیں چلتی۔ ڈلیوری سے پہلے گاڑی کی مرمت کروانا یا اس کے باڈی پینل پر رنگ کروانا تو بہت عام ہے۔

اربن فلڈنگ کے گاڑی پر اثرات:

سیلاب گاڑی کو وقت سے پہلے ہی کسی نقصان سے دوچار کر سکتا ہے، کسی الیکٹرک مسئلے کے علاوہ خاص طور پر اس میں زنگ بھی لگ سکتا ہے۔ اصل میں پانی میں ڈوبے ہوئے پہیے بھی وقت سے پہلے نقصان سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ نمی اور دیگر موسمی حالات کی وجہ سے جنوبی علاقوں میں ویسے ہی گاڑی میں زنگ لگنے کا آغاز جلدی ہو جاتا ہے۔ اگر گاڑی کے اندر نمی موجود ہے تو وہ اس عمل کو مزید تیز کر دے گی۔ کیونکہ ویسے لگنے کا عمل بظاہر دیر سے شروع ہوتا ہے، اس لیے  گاڑی بالکل پرفیکٹ لگے گی، لیکن اصل میں اس کے اندر ایک مسئلہ چھپا ہوگا۔

ان حالات میں ڈیلرشپ کیسے کام کرتی ہے:

ہو سکتا ہے کہ ڈیلرز ایسی کسی بھی صورت حال میں گاڑی ڈلیور کرنے سے پہلے اُن کا انٹیریئر خشک کریں اور پھر کسٹمر کو ڈلیور کریں۔ اگر پانی گاڑی کے انٹیریئر تک پہنچ گیا ہے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ اس گاڑی کو سیلاب سے نقصان زدہ شمار کرنا چاہیے، خاص طور پر اگر یہ ڈلیوری سے پہلے کی برانڈ نیو گاڑی ہو، ہر جگہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اسمبل ہونے والی گاڑیاں زنگ سے محفوظ رہنے کی وارنٹی نہیں دیتیں ]سوائے کِیا پاکستان کے، البتہ اس کی تصدیق کی ضرورت ہے[۔ پھر اس معاملے میں ڈیلرشپس بھی ایمانداری کا مظاہرہ نہیں کرتیں۔

اربن فلڈنگ کے موسم میں گاڑی خریدنے سے پہلے احتیاطی تدابیر:

صارف کی حیثیت سے گاڑی لینے کے لیے ڈیلرشپ کے پاس جائیں تو یقینی بنائیں کہ اُس کا پورا انٹیریئر اچھی چیک کیا جائے۔ رنگ میں کوئی بھی خرابی نظر آئے، کارپٹ، ڈور پینلز، سیٹوں میں کوئی بھی مسئلہ ہو یا کسی بھی بدبو یا ایئر فریشنرکی خوشبو کا احساس ہو تو اس کا مطلب ہے کہ ڈیلرشپ نے گاڑی کے ساتھ کچھ چھیڑ چھاڑ ہے۔ سیلن اور نمی  کی ایک خاص بُو ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گاڑی کے اندر کونوں کھدروں میں خشک ریت  اور کیچڑ کے ٹکڑے  بھی تلاش کریں، ان سے بھی پتہ چلانے میں مدد مل سکتی ہے۔

یہ ڈیلر کی ذمہ داری ہے کہ وہ گاڑی بغیر کسی ڈھکے چھپے نقصان کے آپ کے حوالے کرے۔ آپ نے ایک برانڈ نئی کار کے پیسے دیے ہیں اور آپ کو ایک برانڈ نیو  گاڑی ہی ملنی چاہیے۔ اس میں پانی سے نقصان زدہ گاڑی بھی شامل ہے، چاہے اسے خشک کر لیا گیا ہو تب بھی۔

جیسا کہ میں نے کہا کہ گاڑی کے اندر نمی ہو سکتی ہے۔ جب پانی انٹیریئر میں داخل ہوتا ہے تو اس کے بعد سب کچھ خشک کرنا ناممکن ہے اور ڈیلر گاڑی کو خشک کرنے کے لیے سارے ٹرمز اور انٹیریئر کو کیوں کھولے؟ آپ کو گاڑی پک کرتے ہوئے معیار پر کوئی سودے بازی نہیں کرنی چاہیے۔ اگر ایک مرتبہ گاڑی آپ نے لے لی تو یہ آپ کی ہوگئی۔ کیونکہ زنگ کی کوئی وارنٹی نہیں ہے اس لیے  وہ لگا بھی تو آپ کے گلے ہی پڑے گا۔

اس لیے ہوشیار رہیں اور ڈلیور ہونے والی گاڑی کی اچھی طرح جانچ کریں۔

ویسے استعمال شدہ گاڑی خریدنے سے پہلے بھی اس کی اچھی طرح جانچ کرنی چاہیے، تاکہ کہیں آپ کوئی سیلاب سے متاثرہ گاڑی نہ خرید لیں۔

کراچی کے رہنے والے اس حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کریں۔

Recommended For You:

5 Must-Have Products For Rainy And Foggy Weather

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.