موٹر سائیکل سیفٹی کی 12 ٹپس جو ہر سوار کو معلوم ہونی چاہئیں


موٹر سائیکل چلانا ایک دلیرانہ اور سنسنی خیز تجربہ ہے، البتہ سڑک پر سیفٹی اقدامات سے غفلت کرنا بدترین نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک موٹر سائیکل چلانا گاڑی ڈرائیو کرنے سے بیس گنا سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ تمام گاڑیاں چاہے وہ موٹر سائیکلیں ہوں، کار یا پھر بس ہر روز ایک ہی سڑک استعمال کرتی ہیں۔ اس تجربے کو محفوظ تر بنانے کے لیے سڑک پر موجود ہر فرد کو احتیاط کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے۔ دو پہیوں کی اس سواری پر سفر کے دوران حاضر دماغی بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں جہاں کراچی اور لاہور جیسے بڑے شہروں میں حادثات کی روزانہ کی بنیاد پر بڑھتی ہوئی تعداد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی اور سڑک پر موجود دیگر افراد کی حفاظت سے غفلت برتنے کا سبب ہے۔ پاکستان کی گنجان سڑکوں پر حادثات کے خطرے کو کم کرنے کے لیے سڑک پر موجود ہر شخص کو کچھ سیفٹی اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ موٹر سائیکلیں رکھنے والی آبادی کا بڑا حصہ نچلی مڈل کلاس سے تعلق رکھتا ہے، اس لیے سیفٹی قوانین کے حوالے سے ان میں شعور کی کمی کی وجہ سے حادثات کا خطرہ کہیں بڑھ جاتا ہے۔ چاہے آپ 70cc جیسی سادہ سی موٹر سائیکل چلا رہے ہوں یا ہیوی بائیک کا سنسنی خیز تجربہ اٹھانے جا رہے ہوں، سیفٹی سب سے پہلے ہے اور قوانین وہی رہتے ہیں۔ پاکستان میں آبادی کی اکثریت اپنی سیفٹی پر بہت کم توجہ دے کر موٹر سائیکل چلاتی ہے جبکہ باقی دنیا میں ایسا نہیں ہوتا۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے اپنی حفاظت سے کیا مراد ہے؟ ٹریفک قوانین کی پیروی، چلانے سے پہلے موٹر سائیکل کی جانچ، اچھی رفتار پر چلانا، درست گیئر پہننا اور سڑک پر 100 فیصد توجہ سوار کی اپنی حفاظت کے لیے ہیں۔ روزمرہ کے سفر یا کسی لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے تمام رائیڈرز کے لیے سیفٹی ٹپس میں سب سے اہم یہ ہیں:

سفر سے پہلے بنیادی جانچ:

موٹر سائیکل سیفٹی کی سب سے ضروری ٹپ سفر سے پہلے اس کی جانچ ہے۔ کئی افراد، جو ایک نئی موٹر سائیکل خریدتے ہیں، اسے بغیر کسی دیکھ بھال اور مرمت کے چلاتے رہتے ہیں۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ جانچ بہت ضروی ہے چاہے آپ کے پاس نئی موٹر سائیکل ہو یا پرانی۔ موٹر سائیکل کے گرد گھوم کر ایک نظر ڈالنا آپ کو ایئر پریشر جیسی کچھ جیسی بتائے گا۔ ہارن، ہیڈلائٹ، پچھلی بریک لائٹ یا انڈیکیٹر کے سگنل وغیرہ دیکھیں کہ وہ ٹھیک کام کر رہے ہیں۔ چین اور اگلے اور پچھلے بریکس کو اچھی طرح دیکھیں کہ کہیں ضرورت پڑنے پر اچانک کام کرنا نہ چھوڑ جائیں۔ بنیادی جانچ کی یہ ٹپس آپ کو اطمینان کی وجہ سے پرسکون رکھیں گی۔

موزوں لباس:

موٹر سائیکل چلاتے ہوئے جسم کی مکمل حفاظت ضروری ہے۔ کھلے ڈلے کپڑے ہو سکتا ہے آپ کو آرام دہ لگیں لیکن پھسلنے کی صورت میں آپ کو بری طرح زخمی کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔ اس لیے موٹر سائیکل پر سوار ہونے سے پہلے درست رائیڈنگ گیئر پہنا ضروری ہے۔ پاکستان میں لوگ اس کی بالکل پروا نہیں کرتے کہ وہ کیا پہنے ہوئے ہیں لیکن یہ سیفٹی پر بہت بڑی سودے بازی ثابت ہو سکتا ہے۔ لباس آپ کو محفوظ رکھے بجائے اس کے کہ آپ کی توجہ اس کی جانب مبذول ہو۔ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سینڈل ہرگز نہیں پہننے چاہئیں کیونکہ ان سے آپ کا باہر ظاہر ہوتا ہے اور حادثے کی صورت میں اسے بہت نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ایک مناسب آؤٹ فٹ ایک پر اعتماد سفر کی بنیاد ہے۔ بدلتے ہوئے موسم پر بھی نظر رکھتے ہوئے اس کے مطابق تبدیلی کرنی چاہیے۔

ہمیشہ ہیلمٹ پہنیں:

ہیلمٹ پہننا موٹر سائیکل چلاتے ہوئے سب سے بڑی حفاظت ہے۔ عموماً اس حوالے سے لوگوں میں جھجک دیکھی جاتی ہے، البتہ حال ہی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے لاہور جیسے بڑے شہر میں ہیلمٹ نہ پہنے پر 1000 روپے کا جرمانہ عائد کردیا ہے۔ عوام کو ہیلمٹ پہننے کی اہمیت کو سمجھنا چاہیے اور کسی بھی دوسری چیز پر اپنی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔ مارکیٹ میں ہلکے وزن کے کئی جدید ہیلمٹ موجود ہیں جو آپ خرید سکتے ہیں اور سڑک پر اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔ کوئی سیفٹی گیئر آپ کی زندگی سے زیادہ قیمتی نہیں ہے اس لیے موٹر سائیکل پر ہمیشہ ہیلمٹ پہن کر سوار ہوں۔

فون کال کبھی نہ سنیں:

پوری دنیا کے مقابلے میں ہمارے لوگ موٹر سائیکل چلاتے ہوئے فون کالز سننے یا میسیج بھیجنے کا رحجان زیادہ رکھتے ہیں۔ تھوڑی دیر کے لیے کنارے پر رکنے اور اپنے علاوہ سڑک پر موجود دیگر افراد کی زندگی کے تحفظ کو بھی یقینی بنانے میں زیادہ وقت نہیں لگتا۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے موبائل فون کے استعمال پر بھاری جرمانہ لگانہ لگانا چاہیے تاکہ عوام میں اس حوالے سے شعور اجاگر ہو سکے۔ تھوڑی سی غفلت آپ کی زندگی کو اچانک سنگین خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔

اپنی مہارت کے مطابق چلائیں:

اپنی مہارت اور صلاحیت کے مطابق مو ٹرسائیکل چلانا بہت اہم ہے۔ کچھ موٹر سائیکل سوار زیادہ رفتار پر موٹر سائیکل کو سنبھالنا زیادہ آسان سمجھتے ہیں جبکہ دوسرے پریشان ہوتے ہیں۔ اس لیے اس کا انحصار مکمل طور پر آپ کی صلاحیتوں اور تجربے پر ہے کہ خطرناک روڈ پر آپ کس طرح بحفاظت حرکت کرتے ہیں۔ کسی کے ساتھ رفتار ملانے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ حرکت آپ کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

محفوظ رفتار پر چلائیں اور کرتب دکھانے سے پرہیز کریں:

بہت زیادہ رفتار پر موٹر سائیکل چلانے میں ہو سکتا ہے بڑا مزا آتا ہے لیکن یہ بہت زیادہ خطرناک ہو سکتا ہے۔ ملک کے سارے روڈ اس رفتار پر چلانے کی اجازت نہیں دیتے۔ ہر سڑک کی اپنی حدِ رفتار ہے اور تمام رائیڈرز کے لیے اس کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ بالخصوص جب آپ اس روڈ سے مانوس نہ ہوں، تب رفتار بڑھانے اور ساتھ ہی خطرے کے امکانات پیدا کرنے کی بھی ہرگز ضرورت نہیں۔ زیادہ رفتا رپر اچانک بریک لگانا موٹر سائیکل کا توازن بگڑنے کا سبب بن سکتا ہے۔ مزید یہ کہ سڑک پر کسی بھی قسم کا کرتب جیسا کہ ویلنگ یا اچانک موڑ کاٹتے ہوئے ڈریگنگ سے کوئی خوش نہیں ہوتا۔ اس کے بجائے آپ زیادہ ٹریفک میں اپنی زندگی کو خطرے میں ڈالیں گے۔

خراب موسم سے بچیں:

کسی لمبے سفر کے لیے نکلنے سے پہلے ہمیشہ موسم کا حال ضرور دیکھیں تاکہ کسی بھی ایسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں جس کے لیے آپ تیار نہ ہوں۔ بارش کی صورت میں شہر کے اندر بھی سفر نہ کرنے کی کوشش کریں کیونکہ یہ آپ کی صحت کے ساتھ ساتھ پھسلنے کا خطرہ بھی رکھتی ہے۔ خراب موسم میں موٹر سائیکل چلانا خطرناک اور مشکل کام ہے جس سے اپنی حفاظت کی خاطر اجتناب کرنا چاہیے۔

نامانوس سڑکوں پر توجہ رکھیں:

جب آپ ایک مخصوص شہر میں رہتے ہیں تو آپ سڑکوں کی حالت سے اچھی طرح واقف ہوتے ہیں۔ لیکن روز بروز ہونے والے ترقیاتی و تعمیراتی کام کے دوران آپ کو کسی بھی گڑھے یا ناہموار حصے کے لیے تیار رہنا چاہیے جو سوار کے لیے خطرناک بن سکتا ہے۔ خاص طور پر چھوٹے شہروں میں کہ جہاں سڑکوں کا معیار اچھا نہیں ہے، وہاں موٹر سائیکل کو بہت زیادہ توجہ اور کنٹرول کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے۔

ٹریفک قوانین کی پیروی کریں:

پاکستان میں حادثات کی سب سے بڑی وجہ ٹریفک اشاروں اور قوانین کے حوالے سے لاعلمی ہے۔ سڑک پر موجود ہر فرد کی حفاظت کے لیے ٹریفک قوانین کی پیروی کرنا اپنے ساتھ دوسروں کی زندگی خطرے میں ڈالنے سے کہیں زیادہ آسان ہے۔ کہا جاتا ہے نا کہ “کبھی نہ پہنچنے سے زیادہ بہتر ہے تاخیر سے پہنچا جائے۔” سڑکوں پر ٹریفک کے آزادانہ اور محفوظ بہاؤ کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک قوانین کی سختی سے پابندی کریں اور دوسروں کو بھی اس کا شعور دیں۔

اپنے اردگرد توجہ رکھیں:

شہر میں کہیں بھی موٹر سائیکل چلاتے ہوئے حاضر دماغی بہت اہم ہے۔ ٹریفک کا بہاؤ ہر سیکنڈ میں تبدیل ہوتا رہتا ہے اور آپ کو صورت حال کے مطابق دماغ حاضر رکھنے اور اپنی رفتار کو درست کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ ایسے کئی لمحات آتے ہیں کہ جب سڑک کھلی ہوتی ہے اور آپ حدِ رفتار کے اندر رہتے ہوئے آگے بڑھ سکتے ہیں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں رہتا۔ اگر آپ کی توجہ اردگرد نہ ہو تو ہو سکتا ہے آپ کو اندازہ ہین نہ ہو کہ پلک جھپکتے میں کوئی گاڑی کراس کرتی یا یو-ٹرن لیتی سامنے آ جائے۔ اس لیے حفاظت کے لیے اپنے اردگرد موجود ہر گاڑی کی ہر حرکت پر نظر رکھیں۔

مسافر کے ساتھ گفتگو سے پرہیز کریں:

ہمارے لوگوں میں ایک چیز جو بہت عام ہے کہ وہ پیچھے بیٹھے فرد کے ساتھ گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اس سے نہ صرف آپ کی توجہ سڑک سے ہٹتی ہے بلکہ آپ کسی سے ٹکر یا راستے میں کسی کو ٹکر مارنے کے خطرے سے دوچار ہو جاتے ہیں۔ موٹر سائیکل پر سفر کرتے ہوئے گفتگو سے پرہیز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے سفر میں جارحانہ پن بھی آ جاتا ہے۔

محفوظ فاصلہ رکھیں اور انڈیکیٹرز کا استعمال کریں:

موڑ کاٹتے ہوئے ہمیشہ انڈیکیٹرز کا استعمال کریں تاکہ آپ کے پیچھے آنے والے ٹریفک کو آپ کے اگلے قدم کا اندازہ ہو سکے۔ پاکستان میں یہ بہت عام ہے کہ انڈیکیٹرز کا استعمال نہیں کیا جاتا۔ عوام کو ٹریفک قوانین کو سیکھنا اور سڑک پر موجود ہر فرد کی حفاظت کو یقینی بنانا چاہیے۔ اپنی لین تبدیل کرتے ہوئے بھی انڈیکیٹرز کا استعمال کریں۔ آگے چلنے والی گاڑی سے محفوظ حد تک فاصلہ رکھیں۔ ہو سکتا ہے سڑک پر کوئی گڑھا ہے اور آگے جانے والی گاڑی کے درمیان سے گزر جائے، اگر آپ بہت قریب چلا رہے ہوں گے تو اچانک بریک لگانے کی وجہ سے کسی مصیبت سے دوچار ہو سکتے ہیں اور گر بھی سکتے ہیں۔

سڑک پر اپنی حفاظت کو یقینی بنائیں اور دوسروں کی بھی۔ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں اور ٹریفک کے بہاؤ کو بہتر بنائیں۔ آپ کی حفاظت کسی بھی چیز سے زیادہ اہم ہے اس لیے ان اقدامات پر کبھی کوئی سودا نہ کریں۔ اگر آپ مزید کوئی تجویز دینا چاہتے ہیں تو نیچے تبصروں میں کیجیے۔

مزید ٹپس اور رہنمائی کے لیے PakWheels.com پر آتے رہیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who loves to write content related to the automotive industry and a photographer by passion!

Top