موسم گرما میں گاڑی کے ٹائرز پریشر پر خصوصی نظر رکھیں

Tyre Pressure In Summers

گو کہ ملک کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت نے ابھی 40 کا ہندسہ ہی پار کیا ہے لیکن کچھ جگہیں ایسی بھی ہیں کہ جہاں یہ نصف سنچری عبور کرنے میں بھی کامیاب ہوا ہے۔ اس شدت کی گرمی نے جہاں عام لوگوں کو پسینے سے شرابور کیا ہے وہیں تارکول سے بنی سڑک بھی توے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اکثر لوگ حیران ہوتے ہیں کہ موسم گرما میں گاڑی کے ٹائر پھٹنے سے ہونے والے حادثات کی شرح کیوں بڑھ جاتی ہے؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ جب لوگ غیر معیاری ٹائرز استعمال کرتے ہیں یا پھر اپنے ٹائر میں بھری جانے والی ہوا پر نظر نہیں رکھتے تو تارکوں کی حدت انہیں شدید نقصان پہنچاتی ہے جس سے گاڑی کے ٹائرز پھٹنے کا امکان بھی بڑھ جاتا ہے۔

ٹائرز کا شمار ان پرزوں میں کیا جاتا ہے کہ جو گاڑی چلتے ہوئے سب سے زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے یہ سب سے زیادہ نظر انداز کیے جانے والے حصوں میں بھی شامل ہے۔ جتنی توجہ اور محنت سے لوگ گاڑی کے دیگر حصوں کا خیال رکھتے ہیں اس سے کہیں زیادہ توجہ ٹائرز پر رکھنی چاہیے کیوں کہ اگر یہ رک جائیں تو آپ گاڑی چلا نہیں سکتے اور اگر خدانخواستہ دوران سفر ان میں کوئی خرابی آجائے تو یہ گاڑی اور اس میں سوار مسافروں کے لیے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: موسم گرما کا استقبال: ٹویوٹا پرایوس سبز لیمو کے رنگ میں دستیاب!

گرمی کے موسم میں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ٹائرز کا خیال رکھنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے۔ ان ٹائرز کے اندر موجود ہوا کا انحصار باہری درجہ حرارت اور سڑک کی گرمائی پر ہوتا ہے۔ اگر باہری درجہ حرارت میں اضافہ ہوگا تو ٹائرز کے اندر موجود ہوا بھی مزید پھیلتی چلی جائے گی۔ اس سے گاڑی پر گرفت پر گرفت کمزور پڑنے کے ساتھ گاڑی کی کارکردگی پر بھی منفی اثر پڑسکتا ہے۔

اس کا بہترین اور آسان ترین حل یہ ہے کہ ٹائرز میں اتنی ہی ہوا بھروائی جائے کہ جتنی اس کے ساتھ موجود ہدایت نامہ پر بیان کی گئی ہے۔ اب اگر آپ کسی بھی ناگہانی صورتحال سے بچنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے تھوڑا سا دماغ استعمال کریں اور مستقبل کی منصوبہ بندی کے مطابق ٹائرز میں ہوا بھروائیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ لمبے سفر پر نکل رہے ہیں کہ جس دوران آپ کو موٹروے پر تیز رفتاری بھی درکار ہے تو اس کے لیے ٹائرز میں تھوڑی کم ہوا بھروائیں۔ اس سے باہری درجہ حرارت میں اضافہ ہونے کے بعد ٹائرز میں موجود ہوا کو پھیلنے کے لیے مناسب جگہ دستیاب ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر آپ کی گاڑی کے ٹائرز پرانے اور گھسے ہوئے ہیں تو انہیں پہلی فرصت میں تبدیل کروائیں، لیکن اگر فوری تبدیلیل ممکن نہ ہو تو ان کے لیے بھی یہی طریقہ کار اختیار کریں۔ ٹائرز میں ہوا تھوڑی کم رکھنے کا طریقہ کار ان لوگوں کے لیے بھی کارآمد ہے جو اندرون شہر ہی سہی لیکن اکثر اپنی گاڑی ہی میں سفر کرتے ہیں۔

Tyre-Pressure-Door-Placard

شدید گرمی میں اگر گاڑی چند کلومیٹر چلی ہو تو بھی ٹائرکا پریشر ضروری چیک کرلینا چاہیے۔ اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ٹائر کو باہری درجہ حرارت میں چیک کیا جائے تاکہ بالکل درست نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ ان نتائج کی روشنی میں آپ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ آپ کو ٹائر میں مزید ہوا بھروانے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ موسم گرما میں گاڑی کے ٹائرز کا بخوبی خیال رکھیں کیوں کہ تیز رفتاری کے دوران ٹائر پھٹ جانے کی صورت میں نہ صرف آپ بلکہ شاہراہ پر موجود دیگر لوگوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑسکتا ہے۔

Top