گاڑیوں کے شعبے کی ترقی کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات

pakistan suzuki plant

سال 2016 پاکستان میں گاڑیوں کے شعبے کی ترقی کا سال ثابت ہورہا ہے۔ گزشتہ مالی سال کے دوران گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی بڑھتی ہوئی فروخت سے مقامی سطح پر کام کرنے والے اداروں کو خاطر خواہ فوائد حاصل ہوا ہیں نیز بہتر ہوتی صورتحال دیکھتے ہوئے دیگر غیر ملکی ادارے بھی پاکستان میں کام کرنے اور سرمایہ کاری کے لیے اپنی دلچسپی بھی کا اظہار کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے تیار و منظور کردہ پنچ سالہ آٹو پالیسی سے بھی بہت سی امیدیں وابستہ ہیں جن میں غیر ملکی اداروں کی آمد اور نت نئی گاڑیوں کی تیاری کا آغاز ہونا بھی شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: نئی آٹو پالیسی کے ثمرات: ووکس ویگن کی پاکستان آمد کے امکانات مزید روشن

ذیل میں اس حوالے سے چند کوششوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو گزشتہ چند ماہ کے دوران کی جارہی ہیں۔

٭ مقامی تیار شدہ پرزوں کی برآمدات میں اضافے کی کوشش

پاکستان میں گاڑیوں کے مختلف پرزہ جات بنانے والے تقریباً 14 اداروں نے رواں سال امریکی ریاست مشی گن میں ایک نمائش میں حصہ لیا۔ اس کا مقصد بین الاقوامی مارکیٹ میں پرزوں کے خریداروں کو یہ باور کرانا تھا کہ پاکستان میں کس قدر سستے اور کم قیمت پرزے تیار کیے جارہے ہیں۔ بین الاقوامی نمائنش میں شرکت سے مقامی اداروں کی عالمی سطح پر مقام بنانے اور غیر ملکی اداروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی امید کی جارہی ہے۔ اس طرح نہ صرف مقامی اداروں کو دیگر مارکیٹوں تک رسائی ملنے کے روشن امکانات ہیں بلکہ ملکی برآمدات سے معاشی فوائد کا حصول بھی ممکن ہوسکے گا۔

٭ مزدوروں کو تکنیکی تعلیم اور تربیت کی فراہمی

پاکستان کے دو ادارے ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی (VTA) اور پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموبائلز (PAA) کی جانب سے ملک میں بھر گاڑیوں کے شعبے سے وابستہ مزدوروں کی تکنیکی تربیت کے مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ اس طرح مقامی اداروں کو بہتر، تعلیم یافتہ اور ہنرمند مزدور فراہم کیے جاسکیں گے جس سے مصنوعات کی عالمی معیار پر تیاری ممکن ہوسکے گی۔ ان مزدوروں کو مختلف چیزوں کی تربیت دی جائے گی جن میں میٹل شیٹ کی ڈھلائی، بناوٹ اور سانچے سازی وغیرہ بھی شامل ہیں۔ علاوہ ازیں انجینئرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ (EBD) نے بھی گاڑیوں، ٹرکس اور موٹر سائیکلوں کی تیاری کا معیار جانچنے اور تلف شدہ ٹیکنالوجی کا استعمال روکنے کے لیے مراکز کے قیام کا عندیہ دیا ہے۔

٭ غیر ملکی اداروں کے لیے بے شمار کاروباری مواقع

رواں ماہ کے آغاز پر حکومت نے ٹیکس پالیسی میں نرمی کرتے ہوئے نئے کار ساز اداروں کو بھاری مشینری اور دیگر پرزہ جات کی درآمد پر 75 فیصد رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسرے لفظوں میں رواں مالی سال کے دوران تمام نوآموز ادارے صرف 25 فیصد ٹیکس کے عوض بیرون ممالک سے مطلوبہ اشیا درآمد کرسکیں گے۔ علاوہ ازیں کارخانوں میں استعمال کی جانے والی مشینری بھی بغیر کسی ڈیوٹی کے خریدی جاسکے گی۔ اس اقدام سے حکومت نے متعدد غیر ملکی اداروں کے لیے پاکستان میں کام کرنے کے مواقع پیدا کردیئے ہیں۔

My name is M. Ali Laghari, a fellow living in Lahore, recently completed my Baccalaureate from Forman Christian College University in Mass communication. Love to read and write about Cars.

Top