ایف بی آر نے 19 لگژری کاریں ضبط کر لیں

0 1 322

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے مشتبہ ڈاکیومنٹس پر 19 لگژری کاریں ضبط کر لی ہیں۔ ایف بی آر کا بے نامی زون غیر درج شدہ دولت اور بے نامی اکاؤنٹس کی تحقیقات کرتا ہے۔

پکڑی گئی گاڑیوں میں ‏BMW اور مرسڈیز شامل ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گاڑیاں بے نامی اکاؤنٹس کے حوالے سے جاری تحقیقات کے دوران ضبط کی گئی ہیں۔ ‏FBR کا کہنا ہے کہ «ان گاڑیوں کی اصلی ملکیت کے ڈاکیومنٹس موجود نہیں ہیں۔»

بورڈ نے مزید کہا کہ یہ کاریں لوگوں کے ناموں پر رجسٹرڈ تھیں، اور اصل مالکان کے لیے کام کر رہی تھیں۔ ضبط کی گئی گاڑیوں میں 2 مرسڈیز، 2 بی ایم ڈبلیو اور دیگر لگژری کاریں  شامل ہیں۔ باڈی کا کہنا ہے کہ «ان کاریوں کی مالیت 120 سے 150 ملین روپے کے درمیان ہے۔»

باڈی نے مزید کہا کہ اصل مالکان کو الزامات کے جواب دینے کے لیے سات دن کا وقت دیا گیا ہے۔ «ورنہ حکومت ان کے خلاف قانونی کارروائی کرے گی۔»

ایسا پہلی بار نہیں ہوا:

جولائی 2020ء میں پاکستان کسٹمز نے 9 لگژری کاریں ضبط کی تھیں، جو غیر ملکی سفارت کاروں کی جانب سے درآمد کی گئی تھیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ گاڑیاں ان سفارت کاروں اور ایک سفیر کے نام سے امپورٹ کی گئی تھی، لیکن پرائیوٹ لوگوں کے زیرِ استعمال تھیں۔

قومی خزانے کو نقصان:

رپورٹس بتاتی ہیں کہ اس سے سفارت کاروں کے لیے سکیورٹی رِسک پیدا ہوا اور قومی خزانے کو 250 ملین روپے کا نقصان پہنچا۔ دفترِ خارجہ پاکستان کو اس پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور اس نے غیر ملکی سفارت خانوں سے اس کی وضاحت طلب کی۔

ضبط کی گئی لگژری کاریں:

ضبط کی گئی کاروں میں ٹویوٹا لینڈ کروزر ZX، بی ایم ڈبلیو 7-سیریز، مرسڈیز بینز ماڈلز، نسان ایکس-ٹریل اور ٹویوٹا کراؤن سمیت دیگر گاڑیاں شامل تھیں۔ ان غیر ملکی سفارت کاروں نے سفارتی استحقاق کا استعمال کرتے ہوئے یہ گاڑیاں ڈیوٹی فری منگوائیں۔ لیکن بعد میں ان گاڑیوں کو غیر قانونی طور پر مقامی کاروباری افراد کو بیچ دیا۔

یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایسی گاڑیاں ضبط ہوئی ہوں اور دفترِ خارجہ کو اس بارے میں آگاہ کیا گیا ہو۔ میڈیا رپورٹس بتاتی ہیں کہ گزشتہ سال بھی ایسی 16 گاڑیاں ضبط کی گئی تھیں۔

 

Recommended For You:

2021 Mercedes-Benz E Class Revealed

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.