گاڑیوں کے مسائل پر ڈی جی ایکسائز پنجاب کا انٹرویو

0 2 332

پاک ویلز ڈی جی ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پنجاب مسعود الحق کا انٹرویو لایا ہے۔ اس انٹرویو کے دوران ہم نے ان تمام سوالات کے جواب ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے جو قارئین ہم سے پوچھتے ہیں۔ ہم نے گاڑیوں کے مختلف مسائل پر گفتگو کی، جن میں ٹوکن ٹیکس رجسٹریشن، گاڑی کے ٹرانسفر اور دیگر مسائل شامل ہیں۔

پاک ویلز: ایکسائز ڈپارٹمنٹ کا دائرہ اختیار کیا ہے؟

ڈی جی ایکسائز: یہ ایک صوبائی ادارہ ہے، اور ریونیو اکٹھا کرنے والے تین اداروں میں سے ایک ہے۔ مختصر یہ کہ ریونیو کلیکشن کے حوالے سے ڈپارٹمنٹ کے تین مختلف کام ہیں: موٹرز، پراپرٹی ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی۔

پاک ویلز: گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں جاری نہ ہونا ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ اس کی وجہ کیا ہے؟ اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایکسائز کیا اقدامات اٹھا رہا ہے؟

ڈی جی ایکسائز: یہ ایک جائز مسئلہ ہے، لیکن میں لوگوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ پروکیورمنٹ کا ایک باقاعدہ عمل ہے جسے ایک سرکاری ادارہ ہونے کی حیثیت سے ہمیں فالو کرنا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی قانونی یا ٹیکنیکل مسئلے آ جاتے ہیں، جو اس پروسس کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی 2019 میں ہوا تھا جب ہمیں پلیٹ مینوفیکچرر کے ساتھ دوبارہ کانٹریکٹ کرنا تھا، لیکن کچھ تکنیکی اور قانونی مسائل کی وجہ سے ہم نہیں کر پائے۔

اب ہم ایک نئے کانٹریکٹ پر دستخط کرنے اورا س کا ہوم ورک مکمل کرنے جا رہے ہیں۔ ہمیں مختلف اداروں کی جانب سے منظوری لینی ہے، اور اس میں وقت لگتا ہے، لیکن اس پر کام ہو رہا ہے۔ ہمارے نئے وینڈر نے اپنی سپلائی چَین فائنلائز کر لی ہے، اور اگلے 3 سے 4 مہینوں میں ہم نمبر پلیٹیں صارفین کو دینے کے قابل ہو جائیں گے۔

نئی پلیٹیں ذرا مختلف ڈیزائن کی ہے، جبکہ یہ سائز میں بھی بڑی ہیں تاکہ انہیں پڑھنے میں آسانی ہو۔

پاک ویلز: صارفین کی ایک بڑی تعداد کے پاس اس بیک لاگ کی وجہ سے نمبر پلیٹیں نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ پولیس انہیں روکتی ہے؛ اس معاملے پر آپ کی رائے کیا ہے؟

ڈی جی ایکسائز: ہمیں معلوم ہے کہ یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ اس سے صارفین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ لاہور ہائی کورٹ نے پولیس کو شہریوں سے نہ روکنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے DIG پنجاب پولیس سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ سرکاری نمبر پلیٹیں نہ رکھنے والی گاڑیوں کو روک کر ان کی تلاش نہ لیں۔

اس وقت پولیس صرف ان گاڑیوں کو روک رہی ہے جو غیر قانونی یا چھوٹی نمبر پلیٹیں لگا کر گھوم رہی ہیں کیونکہ اس سے سیف سٹیز کے کیمرے ان نمبر پلیٹوں کو پڑھ نہیں پاتے۔ ہم صارفین کو ہونے والی تکلیف پر معذرت خواہ ہیں۔ البتہ صارفین پرائیوٹ وینڈرز سے ایسی نمبر پلیٹیں حاصل کر سکتے ہیں جو فینسی نہ ہو اور نہ چھوٹے سائز کی ہوں۔

حل کی بات کریں تو یہ بیک لاگ نئے وینڈر کے ساتھ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی تین مہینوں میں ختم ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ ہم کوریئر سروس کے ذریعے گاڑیوں کے مالکان کو ان کے پتے پر نمبر پلیٹیں بھیجیں گے، اس لیے لوگ لازماً درست پتہ لکھوائیں، تاکہ انہیں مزید کسی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اس کے علاوہ سیکنڈ ہینڈ گاڑیاں خریدنے والے افراد کو اپنے پتے پر نمبر پلیٹیں لینے کے لیے پورے قانونی عمل کے ذریعے ان گاڑیوں کو ٹرانسفر کروانا ہوگا۔

پاک ویلز: کچھ صارفین اپنی گاڑیاں بیچ دیتے ہیں، لیکن وہ پھر بھی ان کے نام پر رہتی ہیں۔ کیا اس حوالے سے ایکسائز کا کیا مشورہ ہے؟

ڈی جی ایکسائز: ہمیں شہریوں کی جانب سے بہت سی شکایتیں ملتی ہیں، لیکن ڈپارٹمنٹ کی حیثیت سے ہمارے پاس ایسا کوئی ثبوت نہیں کہ آیا اس نے یہ گاڑی فروخت کر دی ہے یا نہیں یا اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے۔ اس لیے فروخت کرنے والے کے لیے بہترین حل یہی ہے کہ وہ فروخت کرتے وقت گاڑی نئے خریدار کے نام پر ٹرانسفر کروائے تاکہ مستقبل میں کسی بھی قانونی مسئلے سے بچ سکے۔

اس کے علاوہ ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بایومیٹرک سسٹم بھی نافذ کر رہے ہیں۔ اس سسٹم کے ذریعے خریدار فروخت کرنے والے کے انگوٹھے کے نشان حاصل کرکے ہی گاڑی کو اپنے نام پر ٹرانسفر کروا سکے گا۔ اس سے دونوں یعنی خریدار اور بیچنے والا کسی بھی ممکنہ پریشانی سے بچیں گے۔

وہ لوگ جو گاڑی خرید چکے ہیں لیکن ابھی تک اپنے نام پر ٹرانسفر نہیں کروائی، انہیں بتاتا چلوں کہ اس سسٹم کے نافذ ہونے کے بعد انہیں بہت مسئلوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس لیے انہیں بناء کسی تاخیر کے گاڑی کو اپنے نام پر ٹرانسفر کروا لینا چاہیے۔ اس کے علاوہ اگر فروخت کی گئی گاڑی کسی جرم میں استعمال ہوتی ہے تو اس کے اصل مالک کو قانونی کارروائی کا سامنا ہوگا کیونکہ قانوناً وہ گاڑی اب بھی اس کی ملکیت ہے۔

پاک ویلز: اس وقت بیچنے والے اور خریدار دونوں کے لیے گاڑی کے ٹرانسفر کے وقت موجود ہونا ضروری ہے، کیا ایکسائز میں کوئی ون وِنڈو آپریشن ہے کہ جہاں صارفین گاڑی کی ملکیت ٹرانسفر کروا سکیں، اور کسی بھی فراڈ کے خوف کے بغیر محفوظ ماحول میں پیمنٹ کر سکیں؟

ڈی جی ایکسائز: سب سے پہلے تو اس غلط فہمی کو دُور کر دوں کہ موجودہ ایکسائز قوانین کے تحت خریدار اور فروخت کرنے والے دونوں کا ٹرانسفر کے لیے ایکسائز آفس میں موجود ہونا ضروری نہیں۔ اس کے علاوہ بایومیٹرک کے نفاذ کے بعد ہم نادرا کے تعاون کے ذریعے مختلف سہولت مرکز (facility centers) بنائیں گے۔ خریدار اور فروخت کرنے والا دونوں اپنے قریبی ترین مرکز پر انگوٹھوں کے نشان لگا کر محفوظ انداز میں ٹرانسفر کر سکتے ہیں۔

پاک ویلز: کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ گاڑی فروخت کرنے والا باہر چلا جاتا ہے۔ اب اس صورت میں گاڑی کو ٹرانسفر کرنے کا کیا پروسس ہوگا؟

ڈی جی ایکسائز: اس حوالے سے دو آپشنز ہوں گے۔ پہلا یہ کہ نادرا مختلف ملکوں میں پاکستانی سفارت خانوں میں اپنے مراکز بنا رہا ہے اور فروخت کرنے والا اپنے انگوٹھوں کے نشان وہاں جمع کروا سکتا ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرض کریں کہ اس ملک میں یہ سہولت موجود نہیں ہے۔ اس صورت میں فروخت کرنے والے کو پاکستان میں کسی بھی شخص کو پاور آف اٹارنی دینا ہوگی کہ جو ان کی جانب سے انگوٹھے کو نشان دے سکے۔

فروخت کرنے والے کے انتقال کی صورت میں اتھارٹی اس کے بچوں کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کرے گی۔ اگر ایک سے زیادہ بچے ہوں تو پھر وہ سب اس سرٹیفکیٹ کے مالک ہوں گے، یا کورٹ فیصلہ کر سکتی ہے کہ سرٹیفکیٹ کا اصل مالک کون ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق وہ شخص انگوٹھوں کے نشان دے سکتا ہے اور گاڑی ٹرانسفر کر سکتا ہے۔

پاک ویلز: وہیکل رجسٹریشن کارڈ کے حوالے سے بڑےا مسئلہ ہے، کیونکہ حکومت وہ جاری نہیں کر رہی۔ ایکسائز اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے کیا منصوبہ بندی کر رہا ہے؟

ڈی جی ایکسائز: بطور ڈی جی ایکسائز پنجاب مجھے معلوم ہے کہ یہ صارفین کے لیے ایک بڑا مسئلہ ہے، اور رجسٹریشن کارڈز جاری نہ ہونے کی وجہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں۔ ہم نے کارڈ پروڈکشن دسمبر 2018 میں شروع کی تھی اور اگست 2019 تک یہ پروسس بالکل رواں انداز میں چلتا رہا، اور وینڈر 48 گھنٹوں کی ڈیڈلائن پر کارڈ صارفین کو ڈلیور کر رہا تھا۔

پھر کووِڈ-19 آ گیا اور کیونکہ ہم چین سے خام مال امپورٹ کر رہے تھے، اس لیے معاشی سرگرمیاں تھم جانے کی وجہ سے ہم بھی رُک گئے۔ البتہ موجودہ صورت حال کنٹرول میں ہے۔ جولائی 2020 میں بیک لاگ تقریباً 8 لاکھ کارڈز تک تھا، اور ان میں سے تقریباً 5 لاکھ کارڈز پرنٹ کر دیے گئے ہیں اور جلد ہی سپلائی چَین میں آ جائیں گے۔

ہم نے کارڈز کوریئر سروس کے حوالے کر دیے ہیں اور انہوں نے صارفین کو ڈلیور کرنا بھی شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء، ہم نئے خریداروں کے لیے خریداری کے وقت رجسٹریشن کارڈ جاری کر رہے ہیں۔ اس لیے بیک لاگ جلد ختم ہو جائے گا، اور یہ پورا پروسس جلد ہی بالکل رواں انداز میں کام کرے گا۔

ہم SMS سروس بھی شروع کر رہے ہیں، جو صارفین کو رجسٹریشن کارڈ کے موجودہ اسٹیٹس کے بارے میں بتائے گی۔

پاک ویلز: دنیا ڈجیٹائزیشن کی طرف جا رہی ہے، ہم اب بھی فائل سسٹم پر اٹکے ہوئے ہیں اور بغیر فائل کے گاڑی کو فروخت نہیں کر سکتے۔ کیا اس پرانے نظام کا کوئی متبادل ہے؟ کیونکہ ہم میں سے کئی لوگوں کی فائلیں کھو گئی ہیں، اور کسی سرکاری ادارے سے ڈپلی کیٹ نکلوانا تقریباً ناممکن ہے۔

ڈی جی ایکسائز: ڈی جی ایکسائز پنجاب کی حیثیت میں یہ واضح کردوں کا ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے قوانین کے تحت گاڑی کے ٹرانسفر کے لیے فائل ضروری نہیں ہے۔ البتہ ہم اس کی ڈیمانڈ احتیاطاً اور کسی بھی فراڈ سے بچنے کے لیے کرتے ہیں، کیونکہ کچھ ایسے کیسز ہوئے ہیں کہ جن میں فروخت کرنے والا ہمارے پاس فائل لے کر آیا اور دعویٰ کیا کہ اس نے گاڑی فروخت نہیں کی اور وہ اب بھی اس کی ملکیت ہے۔ اس سے بڑے مسائل پیدا ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے بایومیٹرک سسٹم لا رہے ہیں۔

جہاں تک ڈپلی کیٹ فائل اور گاڑی کی ویلیو کم ہونے کی بات ہے تو ایکسائز ڈپارٹمنٹ اس کا ذمہ دار نہیں ہے؛ بلکہ اس کی وجہ مارکیٹ کے عوامل ہیں۔ بایومیٹرک سسٹم کے ساتھ یہ مسائل حل ہو جائیں گے، خاص طور پر فراڈ اور کرپشن کا۔

اس کے علاوہ خریدار اور بیچنے والا دو مختلف شہروں یا صوبوں میں ہوں تو انہیں ایک جگہ پر آنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ گاڑی کی فروخت کے بعد ایک مہینے کے اندر اپنے شہروں میں موجود کسی سہولت مرکز پر جا کر انگوٹھوں کے نشانات دے دیں، بس۔

پاک ویلز: حکومت کو رجسٹریشن فیس اور کار ٹون ٹکسن گاڑی کے cc کے لحاظ سے ملتا ہے، لیکن نئی الیکٹرک گاڑیوں میں تو cc کا چکر ہی نہیں۔ ایکسائز اس مسئلے کو کیسے حل کرے گا؟

ڈی جی ایکسائز: اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے پنجاب ایکسائز نے ایک ترمیم کی ہے، جس کے تحت ہم گاڑی کے کلووواٹس کو cc کے برابر کر رہے ہیں۔ حالانکہ KW اور CC کے برابر ہونے کا کوئی ڈائریکٹ فارمولا نہیں ہے لیکن ہم ماہرین سے بات کرنے کے بعد ہم نے ایک بالواسطہ تعلق پایا۔ جس میں KWs کا ٹرانسفر hp اور پھر hp کا ٹرانسفر cc میں کیا گیا۔ ہم نے اپنی رجسٹریشن فیس اور ٹوکن ٹیکس کا فیصلہ کرنے کے لیے EV کی ویلیو اور اس کی cc شامل کی ہے۔

پاک ویلز: ایک صوبے سے دوسرے صوبے میں گاڑیوں کی خریداری، ٹوکن ٹیکس اور ٹرانسفرنگ کے حوالے سے ایک سنجیدہ مسئلہ موجود ہے۔ ایکسائز اس بین الصوبائی رکاوٹوں کو کیسے دُور کرے گا؟

ڈی جی ایکسائز: ہم نے ایک نیا قانون لا رہے ہیں، مثلاً اگر ایک گاڑی سندھ سے پنجاب آتی ہے اور ایک سال تک صوبے میں رہتی ہے تو اس کا مالک پنجاب نمبر پلیٹ حاصل کر سکتا ہے۔ یوں، اس سے بین الصوبائی ٹرانسفر اور ٹوکن ٹیکس والا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ ہم اس قانون کو اِس سال نومبر، دسمبر میں لاگو کریں گے۔

پاک ویلز: کیا حکومت نئی یونیورسل پلیٹیں جاری کرنے کے بعد پرانی نمبر پلیٹوں کو تبدیل کرے گی؟

ڈی جی ایکسائز: نہیں، ہم پرانی نمبر پلیٹوں کو فی الحال تبدیل نہیں کر رہے کیونکہ اس سے صارفین کے لیے بہت پیچیدہ اور چیلنجنگ مسائل سامنے آئیں گے۔ اس وقت ہم نئی گاڑیوں کو نئی نمبر پلیٹیں جاری کر رہے ہیں۔ اگر ہم نے پرانی نمبر پلیٹیں تبدیل کرنے کا منصوبہ بھی بنایا تو ہم اسے مختلف مراحل میں کریں گے، یہ یکدم تبدیل نہیں ہوں گی۔ صرف اُن صارفین کو نئی نمبر پلیٹیں خریدنا ہوں گی، جو اصل پلیٹ کے بغیر گاڑیاں ڈرائیو کر رہے ہیں۔

پاک ویلز: ڈجیٹلائزیشن بڑھنے سے ریونیو کلیکشن اور ایکسائز ڈپارٹمنٹ کی کارکردگی میں بہتری آئے گی؟

ڈی جی ایکسائز پنجاب:ایکسائز کی پرفارمنس اور مؤثریت کو بڑھانے کے لیے ہم گاڑی کے لیے ایک تیسری نمبر پلیٹ لانچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ اتھارٹیز وِنڈ اسکرین کے اندر ایک نمبر پلیٹ انسٹال کریں گے۔ یہ ریڈایبل، ایکٹِو اور RFID-بیسڈ ہوگی، اور محض اسکین کرنے پر اتھارٹیز کو ٹوکن ٹیکس کا اسٹیٹس ظاہر کرے گی۔ اس سے صارفین اور حکومت دونوں کی پریشانی میں کمی آئے گی۔ ہم اس وقت اس کے پروپوزل پر کام کر رہے ہیں، اور ممکن ہے کہ اس پروجیکٹ کی مؤثریت جانچنے کے لیے جلد ہی پائلٹ پروجیکٹ لانچ کر دیں۔

وڈیو دیکھیں:

Recommended For You:

Know How Many E-Challans Punjab Issued In 2 Years!

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.