بالآخر! لاہور ہائی کورٹ نے گاڑیوں کی بڑھتی قیمتوں کا نوٹس لے لیا

0 20 868

گزشتہ چند ماہ سے پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں کہیں زیادہ بڑھی ہیں۔ ہر دوسرے دن ہمیں کسی حد سے زیادہ مہنگی گاڑی کی لانچ یا پھر چند پرانے ماڈلز کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں ملتی ہیں۔ عوام بہت عرصے سے گاڑیوں کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے پر کھلے اور دبے الفاظ میں احتجاج کرتی آئے ہیں اور بالآخر کسی نے ان کی آواز پر کان دھر لیے ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس عبد العزیز شیخ نے گاڑیوں کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتوں پر وفاقی حکومت اور دیگر مدعا علیہان کو ایک نوٹس جاری کیا ہے اور اس معاملے پر ان سے فوری جواب طلب کیا ہے۔

میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کو پاکستان میں گاڑیوں کی نامناسب قیمتوں کے خلاف ایک تحریری پٹیشن موصول ہوئی۔ درخواست گزار اظہر صدیق نے وہی سوال پوچھا ہے جو ہم سب پوچھ رہے ہیں: اگر ڈالر کے ریٹ نیچے جا رہے ہیں تو گاڑیوں کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟ درخواست گزار نے عدالت سے کہا ہے کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں جس کی وجہ یہ عام آدمی پہنچ سے دُور ہیں۔

درآمد شدہ گاڑیوں پر پابندی

اس درخواست میں اظہر صدیق نے امپورٹڈ یعنی درآمد شدہ گاڑیوں پر پابندیوں کو ملک میں گاڑیوں کی قیمتوں میں نامعقول حد تک اضافے کی وجہ قرار دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اس پابندی نے مقامی آٹو کمپنیز کو اپنی گاڑیاں غیر معمولی زیادہ قیمت پر فروخت کرنے کا حوصلہ دیا اور یہ کہ پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتیں ملک میں گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دے کر مناسب حد تک کم کی جا سکتی ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت کو تجویز کیا کہ وہ حکومت کو حکم دے کہ وہ ملک میں گاڑیوں کی درآمد پر عائد پابندی کا خاتمہ کرے۔ اس طرح عوام کے پاس گاڑیوں کے انتخاب کے مزید مواقع ہوں گے اور گاڑیاں بنانے والے مقامی اداروں کو مقابلے کی فضا ملے گی۔ نتیجتاً مقامی آٹو میکرز اپنی گاڑیوں کی قیمتوں کو محدود رکھنے پر مجبور ہوں گے۔

کیا آپ اظہر صدیق کی پٹیشن اور عدالت کے اقدام سے اتفاق کرتے ہیں؟ کیا آپ کے خیال میں پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں اضافے کا تعلق ان کی درآمد پر پابندی سے ہے؟

Google App Store App Store

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.