سوزکی آلٹو 600cc پر ایک ماہر کی رائے


گاڑیوں کے خاص اور تفصیلی جائزے پیش کرنے کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے PakWheels.com اِس بار اپنے قارئین کے لیے سوزوکی آلٹو 660cc کا تفصیلی جائزہ پیش کر رہا ہے۔ 

سوزوکی آلٹو 660cc ایک بہترین گاڑی ہے، جسے سوزوکی نے اِس سال لیجنڈری مہران کی جگہ متعارف کروایا۔ آٹو گیئر شفٹ VXL ویرینٹ کو مارکیٹ میں بہت سراہا گیا۔ یہ پاکستان میں مقامی طور پر بننے والی پہلی 660cc گاڑی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی لانچنگ آٹو انڈسٹری کا ایسا ایونٹ کیوں تھا کہ جس کا شدت سے انتظار کیا جارہا تھا۔ 

سوزوکی پاکستان کی مقبول ترین کار کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ ان کی گاڑیاں درآمد شدہ بھی ہوتی ہیں اور مقامی سطح پر بھی بنائی جاتی ہیں۔ یہ گاڑیاں قابلِ بھروسہ، کفایتی اور ایندھن کی بچت کے حوالے سے مؤثر ہوتی ہیں۔ 

660cc آلٹو تین ویرینٹس میں دستیاب ہے: 

سوزوکی آلٹو VX

سوزوکی آلٹو VXR

سوزوکی آلٹو VXL

آج ہم جس ورژن کا جائزہ لے رہے ہیں وہ آلٹو 660cc VXL ویرینٹ ہے۔ 

بین الاقوامی سطح پر آلٹو 660cc کی 8 ویں جنریشن متعارف ہونے والی ہے، اور پاکستان میں لانچ ہونے والی چوتھی جنریشن ہے۔ 1989ء سے پہلے سوزوکی FX بناتا تھا۔ 1989ء کے بعد FX مہران کے طور پر متعارف کروائی گئی۔ 2000ء سے 2011ء کے درمیان انہوں نے 1000cc آلٹو متعارف کروائی۔ واضح رہے کہ جاپان کے علاوہ پاکستان واحد ملک ہے کہ جہاں یہ گاڑی مقامی طور پر بنائی جاتی ہے۔ 

پاکستان میں کئی قسم کی 660cc گاڑیاں سڑکوں پر عام دکھائی دیتی ہیں۔ ان میں سے بیشتر JDM گاڑیاں یعنی جاپانی ڈومیسٹک ماڈلز ہیں اور جاپان میں استعمال کے لیے بنائی گئی ہیں۔ یہ گاڑیاں مقامی آٹو مارکیٹ کے لیے پاکستان میں درآمد کی گئیں۔ ان گاڑیوں کو اپنی آسان نقل و حرکت اور بہترین فیول اکانمی کی وجہ سے عموماً Kei کارز کہا جاتا ہے۔ 

ان تمام 660cc گاڑیوں کا مایوس کن پہلو یہ ہے کہ ان کے ساتھ کوئی وارنٹی نہیں دی جاتی۔ یہیں پر آلٹو 660cc نمایاں ہوکر سامنے آتی ہیں۔ سوزوکی 3 سال یا 60 ہزار کلومیٹر کی وارنٹی دیتی ہے، جو قابلِ تعریف ہے۔ 

ایکسٹیریئر

آلٹو 660cc کو دیکھیں تو اس کا ایکسٹیریئر امپورٹڈ گاڑیوں جیسا ہی ہے ۔ فرنٹ پر خوبصورت ہیڈلائٹس ہیں جن کے اندر انڈیکیٹرز کو بھی بہت خوبی سے شامل کیا گیا ہے۔ فرنٹ گرِل بھی متاثر کن ہے۔ JDM ورژن سے تقابل کریں تو فرنٹ لگ بھگ ویساہی ہے۔ 

البتہ اس میں فوگ لائٹس نہیں ہیں جو ضروری ہیں، خاص طور پر لاہور اور اردگرد کے رہنے والوں کے لیے کہ جہاں سردیوں کے موسم میں دھند کا مسئلہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔ فروخت کے بعد فوگ لائٹس فراہم کرنے کا بھی کوئی سلسلہ نہیں ہے۔ 

اکانمی سیکٹر کی کاروں میں شکل و صورت بہت زیادہ اہمیت نہیں رکھتی۔ سامنے کے دو فینڈز دھات کے بنے ہیں، جبکہ JDM گاڑیوں میں یہ پلاسٹک کے ہوتے ہیں۔ اگر فینڈرز فائبر یا پلاسٹک کے بنے ہوتے تو اُن کے ٹوٹنے کا امکان زیادہ ہوتا کیونکہ سڑک پر موٹر سائیکلیں ان سے ٹکراتی ہیں۔ 

گاڑی کی سائیڈز بھی ایروڈائنامک صورت کو سپورٹ کرتی ہیں تاکہ ایندھن کی بچت میں مدد ملے۔ آلٹو جنرل ٹائیکون 185/80 R13 ٹائرز مع 13 انچ رِمز رکھتی ہے۔ 

سائیڈ مررز اور ڈور ہینڈلز گاڑی کے رنگ کے ہی ہیں کیونکہ یہ آلٹو بہترین ویرینٹ VXL ہے۔ دیگر ویرینٹس میں ان کے رنگ مختلف ہو سکتے ہیں۔ پینٹ کوالٹی میں بہتری کی گنجائش ہے، لیکن مجموعی طور پر یہ قابلِ قبول ہے۔ اس آلٹو کے لیے سوزوکی نے سات رنگ متعارف کروائے ہیں، جن میں میٹالک رنگ بھی شامل ہیں: 

سلور گرے

گریفائٹ گرے

پرل بلیک

سفید

آسمانی نیلا 

سینڈ بیج

پرل ریڈ 

گاڑی کی پشت پر دیکھیں تو ڈگی بڑی اور خوبصورت لگتی ہے۔ یہ آلٹو روف ماؤنٹڈ بریک لیمپس اور ڈی فوگر سے لیس ہے۔ 

ایک فیچر جو عام طور پر مقامی ہیچ بیکس میں نہیں ہوتا اور آلٹو میں بھی غائب ہے، وہ بیک اسکرین وائپر ہے۔ ایک عام گاڑی میں بیک مرر ترچھا ہوتا ہے اِس لیے گرد یا پانی اس پر جمع نہیں ہوتا لیکن جب ہیچ بیک میں ہوا آنے لگے تو اس پر گرد اور پانی جمع ہو سکتا ہے جو دیکھنے کو متاثر کر سکتا ہے۔ 

مقامی مینوفیکچررز اب بھی بیک اسکرین پر وائپرز کی ضرورت سے آگاہ نہیں ہے لیکن وقت کے ساتھ یہ مسئلہ بھی یقیناً حل ہو جائے گا۔ 

بیک لائٹس بڑی عجیب جگہ پر ہیں۔ بنیادی خطرہ یہ ہے کہ اگر کوئی موٹر سائیکل ٹریفک جام کے دوران گاڑی کی پشت پر لگ جائے تو اپنی جگہ کی وجہ سے بیک لائٹس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ 

مجموعی شکل و صورت کو دیکھیں تو امپورٹڈ اور مقامی طور پر بننے والی آلٹو میں کچھ خاص فرق نہیں ہے، علاوہ پہلے سے شامل mud flaps کے۔ 

عام طور پر ہیچ بیک کی ڈِگی میں کم جگہ ہوتی ہے۔ البتہ آلٹو VXL کی ڈگی میں کافی جگہ لگتی ہے۔ یہ بڑے سامان اور کے لیے کافی کشادہ جگہ کی حامل ہے اور جگہ بڑھانے کے لیے پچھلی نشستوں کو آگے کی طرف موڑنے کا آپشن بھی موجود ہے۔ البتہ اس سے مسافروں کی جگہ اور کم ہو جائے گی۔ گاڑی کی ٹُول کٹ، پنکچر رپیئرنگ کٹ اور ایئر پمپ پچھلے حصے میں تختے نیچے رکھے جا سکتے ہیں۔ 

یہ گاڑی کی-لیس انٹری کے ساتھ اموبیلائزر کی بھی رکھتی ہے۔ 

انٹیریئر 

انٹیریئر بہت متاثر کن ہے، خاص طور پر اگر اس کا مقابلہ پہلے سے موجود سوزوکی گاڑیوں سے کیا جائے۔ ڈیش بورڈ گہرے اور ہلکے سرمئی رنگ کا امتزاج ہے۔ رنگوں کا یہی ملاپ دروازوں میں بھی استعمال کیا گیا ہے۔ 

اسپیڈومیٹر تمام ضروری معلومات رکھتا ہے: فیول ایوریج، فوری فیول ایوریج، آخر تک فاصلہ اور فیول انڈی کیٹر۔ 

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ اس میں ٹمپریچر انڈی کیٹر نہیں ہے۔ گاڑی اسٹارٹ کرنے پر ایک نیلے رنگ کا سائن آتا ہے جو گاڑی کا موجودہ درجہ حرارت ظاہر کرتا ہے کہ آیا وہ گرم ہے یا ٹھنڈا۔ اس کے بعد گاڑی کے درجہ حرارت کا کوئی اشارہ نہیں ہے یہاں تک کہ گاڑی اپنی زیادہ سے زیادہ تک گرم حد تک پہنچ جائے۔ یہ پرانے لوگوں کے لیے کچھ مسائل کا باعث بن سکتا ہے کہ جو ٹمپریچر انڈی کیٹر پر ہر وقت نظر رکھتے ہیں۔ جب گاڑی کا درجہ حرارت بڑھنا شروع ہو جاتا ہے تو وہ AC بند کر دیتے ہیں یا درجہ حرارت کو زیادہ سے زیادہ حد تک پہنچنے سے قبل کم کرنے کے لیے گاڑی روک دیتے ہیں۔ البتہ آلٹو VXL میں یہ اشارہ تبھی آتا ہے جب گاڑی پہلے ہی زیادہ سے زیادہ گرم حد تک پہنچ چکی ہو۔ یہ فیچر نئی قسم کی تمام گاڑیوں میں موجود ہے۔ 

گیئر باکس کافی غیر روایتی قسم کا ہے۔ عام گاڑیوں میں یہ فرش پر ہوتا ہے۔ نئی آلٹو میں مینوئل گیئر تو فرش پر ہی ہے لیکن آٹومیٹک گیئر شفٹ اسٹیئرنگ ویل کے ساتھ ہی لگا ہوا ہے۔ اب ڈرائیورز کو نیچے ہاتھ رکھنے کی ضرورت ہی نہیں۔ 

گاڑی میں اینالوگ کلائمٹ کنٹرول ہے، جبکہ JDM میں یہ ڈیجیٹل ہوتا ہے۔ آلٹو میں فرنٹ اور بیک دونوں پر دو کپ ہولڈرز ہیں۔ ڈیش بورڈ ایک کونسول بکس کا حامل ہے۔ 

انفوٹینمنٹ یونٹ متاثر کن ہے۔ یہ اسکرین مررنگ، SD کارڈ اور تمام جدید فیچرز کے ساتھ آتا ہے۔ ٹچ اسکرین بخوبی کام کرتی ہے اور میوزک کی کوالٹی بہت اچھی ہے۔ بلوٹوتھ کنیکٹیوٹی آسان ہے، سوائے کالز کے۔ جب فون پر بات کی جاتی ہے تو لوگ کہی ہوئی بات سمجھ نہیں پاتے۔ ویسے یہ اچھا ہی ہے کیونکہ اس سے ڈرائیونگ کے دوران فون کے استعمال کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ ریورس کیمروں کی بھی کمی ہے۔ البتہ صارفین چاہیں تو لگوا سکتے ہیں۔ 

JDM گاڑیوں میں فرنٹ انٹیریئر کا دایاں حصہ بہت آپشنز رکھتا ہے۔ لیکن اس آلٹو میں یہاں خالی سوئچ لگا دیے گئے ہیں۔ درحقیقت JDM گاڑیوں میں موجود سوئچ کا پاکستان میں کوئی استعمال ہی نہیں جیسا کہ ایکو کنٹرول سوئچ، ٹریکشن کنٹرول، ہیڈلائٹ ایڈجسٹمنٹ اور ریڈار۔ 

آلٹو VXL کام کے فیچرز رکھتی ہیں۔ تمام چاروں کھڑکیاں پاور ونڈوز ہیں، جن میں ڈرائیور کی سیٹ پر آٹو فنکشن ہے۔ ری ٹریکٹ ایبل مررز، ڈوئل ایئر بیگز اور الیکٹرک پاور اسٹیئرنگ موجود ہے۔ JDM میں موجود تمام کام کے آپشنز آلٹو میں موجود ہیں۔ ہم نے تو 29 لاکھ روپے سے زیادہ مالیت کی گاڑیاں بھی دیکھی ہیں کہ جو ایئر بیگز نہیں رکھتیں یا ان میں ری ٹریکٹ ایبل جیسے کام کے فیچرز نہیں ہیں۔ 

پچھلے دروازوں سے داخل ہونا اور نکلنا آسان ہے۔ آلٹو 2019ء کا لیگ اسپیس بہت عمدہ ہے اور فرنٹ سیٹ بالکل پیچھے ہونے کے بعد بھی کافی جگہ محسوس ہوتی ہے۔ پیچھے دو سے تین افراد باآسانی بیٹھ سکتے ہیں۔ سیٹ بیلٹ پچھلی سیٹوں میں بھی ہیں، جو ایک اہم سیفٹی فیچر ہے جسے ہمیشہ استعمال کرنا چاہیے۔ 

البتہ ایک کمی ہے کہ اس میں کوئی اسپیئر ٹائر نہیں ہے، اسی وجہ سے پچھلی نشستوں پر گنجائش زیادہ نظر آتی ہے۔ البتہ گاڑی ایک پنکچر رپیئر کٹ کے ساتھ ضرور آتی ہے۔ پاکستان میں یہ قدم بھی کافی نیا اور جارحانہ ہے۔ پاکستان میں سڑکوں کی حالت سب کو معلوم ہے کہ جن کا نتیجہ پنکچر کی صورت میں بھی نکلتا ہے۔ 

AC 

AC کی کارکردگی عمدہ ہے، بالخصوص آگے بیٹھے دو افراد کے لیے۔ البتہ کسی گرم دن میں پیچھے بیٹھے افراد پریشان ہو سکتے ہیں۔ اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ آگے والی سیٹیں اچھی طرح کشن کی گئی ہیں اور بہت آرام دہ لیکن ساتھ ساتھ سائز میں بھی بڑی ہیں، جو ہوا کے پیچھے کی جانب بہاؤ کو متاثر کر سکتی ہیں۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ 660cc کاروں میں بسا اوقات بہت طاقتور AC نہیں ہوتے۔پھر بھی یہ گاڑی کئی درآمد شدہ 660cc کاروں کے مقابلے میں بہتر AC سسٹم رکھتی ہے۔ 

فیول ایوریج 

گاڑی کی سب سے زیادہ توجہ ایندھن کے حوالے سے مؤثر ہونے پر ہے۔ میں نے یہ گاڑی تقریباً 1500 کلومیٹرز چلائی۔ میرا ماننا ہے کہ یہ گاڑی شہر کے اندر AC آن کرکے ساڑھے 17 سے 18 کلومیٹر فی لیٹر دیتی ہے۔ یہ بھی ذرا بھاری قدم رکھ کر چلانے پر ہے۔ اگر آپ ہلکے پیر کے ساتھ گاڑی چلاتے ہیں تو فیول ایوریج 19 کلومیٹر تک بھی جا سکتا ہے۔ 

ان گاڑیوں کے انجن چھوٹے ہیں، جس میں ایندھن کی بچت کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے میرا ماننا ہے کہ یہ گاڑیاں شہر کے اندر ڈرائیونگ کے لیے بہترین ہیں۔ 

پاور، سسپنشن اور بریکنگ

بونٹ میں تمام حصے اچھی طرح ٹھونسے گئے ہیں۔ آلٹو 2019ء ایک 3-سلنڈر R سیریز 660cc انجن رکھتی ہے جو 39 hp اور 56 Nm ٹارک پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں AGS (آٹو گیئر شفٹ) اور ABS (بریک) یونٹ بھی ہے۔ 

بہت سے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑی کم طاقت رکھتی ہے۔ یہ بات یاد رکھیں کہ آپ راکٹ نہیں چلا رہے۔ آلٹو 2019ء 660cc کی کافی طاقت رکھتی ہے۔ اس کا پِک اپ اچھا ہے چاہے، چاہے اندر چار لوگ کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ جب آپ اسے چلاتے ہیں تو یہ بخوبی ردعمل ظاہر کرتی ہے۔ 

کار میں AGS (آٹو گیئر شفٹ) ہے۔ AGS کار ڈرائیو کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ اگر آپ غلط طریقے سے گیئر شفٹ کرتے ہیں تو آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ گاڑی گیئر شفٹ میں دھیمی ہے۔ اگر آپ گیئر تبدیل کرنا جانتے ہیں تو پھر ایکسلریشن متاثر نہیں ہوگی اور گاڑی ہموار رہے گی۔ 

کار میں آٹو گیئر شفٹ ہے جہاں ایک آٹو موٹو مینوئل گیئر بکس سے منسلک ہے جو گیئر تبدیل کرتا ہے۔ البتہ اسے مینوئلی بھی چلایا جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں شہروں میں بہت ٹریفک جام ہوتے ہیں، اس لیے AGS پر چلانا زیادہ بہتر ہے۔ گیئر بکس میں پانچ گیئرز ہیں۔ گیئرز بہت کم RPM پر تبدیل ہوتے ہیں، جو ایندھن کھپت کے حوالے سے بہت اچھی بات ہے۔ 

دوسری گاڑی کو اوور ٹیک کرتے ہوئے گاڑی کو پوری رفتار دینے کے لیے AC خودکار طور پر بند ہو جاتا ہے تاکہ کار کو زیادہ سے زیادہ طاقت ملے۔ جب آپ اپنا پیر ہٹاتے ہیں تو کمپریسر خود بخود دوبارہ آن ہو جاتا ہے۔ 

گاڑی کی سسپنشن اور بریکنگ کی صلاحیت اونچے نیچے راستوں پر بھی بہترین ہے۔ کار زبردست آرام اور ہینڈلنگ رکھتی ہے بالخصوص پرانی سوزوکی گاڑیوں کے مقابلے میں۔ 

کسی بھی گاڑی کے دو اہم ترین فیچرز ایکسلریشن اور بریکنگ ہیں۔ ایک 660cc کار کی حیثیت سے اس کی ایکسلریشن اچھی ہے۔ گاڑی 19.19 سیکنڈز میں 0 سے 100 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار حاصل کر لیتی ہے۔ 

بریکنگ کے لیے یہ 4.37 سیکنڈز میں 100 سے 0 کلومیٹر فی گھنٹے تک پہنچ جاتی ہے۔ 

نتیجہ 

یہ واقعی نئی جنریشن کی کار ہے۔ میں نے اسے تقریباً 1500 کلومیٹرز چلایا۔ دو لحاظ سے یہ متاثر کن گاڑی ہے۔ پہلے یہ کہ گاڑی کا انجن ایندھن بچانے کے حوالے سے نئی ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ یہ زبردست چیز ہے، خاص طور پر مستقبل کے لیے۔ 

دوسری بات کہ گاڑی کی پیمائش سوزوکی مہران سے بہت زیادہ مختلف نہیں ہے۔ البتہ ڈیزائن کہیں زیادہ جدید ہے۔ اندر بیٹھے ہوئے ایک چھوٹی گاڑی کا احساس نہیں ہوتا؛ اس میں کافی لیگ روم اور ہیڈ اسپیس ہے۔ ڈرائیور کی سیٹ پر بیٹھے ہوں تو ڈیش بورڈ پر ہر چیز آپ کی پہنچ میں ہے۔ 

یہ گاڑی آٹو مارکیٹ میں ایک زبردست اضافہ ہے۔ ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں، پارکنگ کے لیے محدود مقامات، بڑھتے ہوئے ٹریفک جام کی وجہ سے اس گاڑی کا سائز اور ایندھن بچت شہر میں استعمال کے لیے اسے بہترین گاڑی بناتے ہیں۔ 

لوگ گاڑیوں کی قیمتوں کی وجہ سے بھی پریشان ہیں کہ جو ہماری کرنسی کی قدر گھٹنے اور آٹوموبائل انڈسٹری میں 17 فیصد GST کی وجہ سے بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ 

پاکستان میں سوزوکی آلٹو کی قیمت 9,90,000 سے 12,95,000 روپے تک ہے۔ اس میں تین سال کی وارنٹی بھی شامل ہے۔ جس خاص ویرینٹ کا یہاں جائزہ لیا گیا ہے وہ 12,95,000 روپے کا پڑے گا۔ جبکہ امپورٹ کی گئی 660cc کی کاریں جو دو سے تین سال استعمال شدہ ہوتی ہیں اور ممکن ہے کہ کسی حادثے کا شکار بھی رہی ہوں، تقریباً 15 سے 16 لاکھ کی پڑتی ہیں۔ اس سے مقابلہ کریں تو مقامی طور پر بنائی جانے والی آلٹو ایک اچھا سودا ہے، جس کا بیک اپ، پرزے اور سروسز بھی ملک بھر میں دستیاب ہیں۔ 

دستیابی اور پرزوں کی لاگت کا جاپانی امپورٹڈ گاڑیوں سے تقابل کریں تو استعمال شدہ آلٹو کی ہیڈلائٹس تقریباً 40 ہزار روپے کی آتی ہیں۔ نئی آلٹو کی ہیڈلائٹس سوزوکی کے آؤٹ لیٹس پر 13 ہزار روپے میں دستیاب ہیں۔ سوزوکی نے پاکستان بھر میں آؤٹ لیٹس پر پرزوں کی دستیابی کو یقینی بنایا ہے۔ 

مہران تقریباً 7500 ڈالرز کی تھی اور آلٹو 8000 ڈالرز کی ہے جو کہیں زیادہ خوبصورت شکل و صورت اور زیادہ جدید فیچرز کے ساتھ ساتھ سیفٹی اور آرام بھی رکھتی ہے۔ اگر کوئی مجھے لوکل ڈرائیونگ کے لیے اچھی کار کا پوچھے تو میں آلٹو 660cc VXL تجویزکروں گا۔


Google App Store App Store

Top