چیلنجز جو پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کو درپیش ہوں گے


ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی بڑی تعداد کی وجہ سے بڑھتی ہوئی آلودگی نے دنیا کو بطور متبادل ماحول دوست گاڑیوں کی جانب منتقل ہونے پر مجبور کیا۔ دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے ارتقاء کے ساتھ روایتی ایندھن کی ضرورت بھی کم ہوتی گئی۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی طلب اپنی ماحول دوست خوبیوں کی وجہ سے گزشتہ چند سالوں میں بہت بڑھ چکی ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے عالمی مارکیٹ میں راہ بنانے کے لیے فضائی آلودگی میں کمی ایک اہم ترین نقطہ تھا۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیاں ایندھن سے چلنے والی روایتی گاڑیوں کے مقابلے میں الیکٹرک بیٹریوں کی مدد سے طاقت حاصل کرتی ہیں جو ایندھن جلانے کے عمل کو ختم کرتا ہے۔ دنیا بھر کے کئی معروف آٹومیکرز نے آٹوموبائل صنعت کے مستقبل کے طور پر الیکٹرک گاڑیاں پیدا کرنا شروع کردی ہیں۔ دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت گزشتہ سال 30 لاکھ یونٹس کو عبور کرگئی جو عالمی رحجان کو واضح طور پر ظاہر کرتی ہے۔ پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے حوالے سے کوئی قابل تحسین قدم اب تک نہیں اٹھایا گیا۔ دنیا آگے بڑھ چکی ہے جبکہ پاکستان اب بھی روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی فروخت پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ماحول کو صاف اور شفاف رکھنے کے لیے پاکستان کی آٹو انڈسٹری کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب منتقل ہونا ہوگا۔ اس امر کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان میں، ایک مرتبہ اجراء کے بعد، بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت کو برقرار رکھنا ایک رولر کوسٹر کے سفر جیسا ہو سکتا ہے۔ پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو جن بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا وہ کچھ یوں ہیں:

بجلی کی کمی:

پاکستان میں بجلی کی کمی کے بڑھتے ہوئے بحران کے ساتھ ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو متعارف کروانا اور ان کی مقبولیت برقرار رکھنا آسان نہیں ہے۔ ملک پہلے ہی کمرشل اور صنعتی شعبے میں اپنی بجلی کی ضروریات پورا کرنے کے قابل نہیں ہے۔ نئی حکومت نے اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کرنا شروع کردیا ہے اور توانائی کے بحران سے نمٹنے کے لیے مستقبل قریب میں ڈیموں کی تعمیر کا وعدہ کرتی ہے۔ موجودہ صورت حال میں پاکستان کے عوام میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو مقبول کرنا لگ بھگ ناممکن ہے۔ اس تناظر میں حکومت پاکستان کو مستقبل میں الیکٹرک کاروں کے صارفین کو بجلی فراہم کرنے کے لیے درکار اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کو درپیش بڑے چیلنجز سے کسی طرح کم نہیں۔

EC1

بگ تھری آٹومیکرز:

تین مقامی آٹو اسمبلرز (ہونڈا، ٹویوٹا، سوزوکی) پاکستان میں آٹو انڈسٹری میں سب سے بڑی سرمایہ کاری رکھتے ہیں۔ اگر بجلی سے چلنے والی گاڑیاں پاکستان میں مقبول ہوتی ہیں تو ان آٹومینوفیکچررز کی فروخت پر بڑا اثر پڑے گا۔ اس تناظر میں یہ مقامی آٹو مینوفیکچررز الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ اور پاکستان میں ترویج کی اجازت نہیں دیں گے۔ حکومت کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کے لیے ضروری سہولیات دینی چاہیے کہ وہ اپنی آمد کا راستہ بنائیں۔ یہ فضائی آلودگی سے ماحول کو بچانے کا ایک عالمی مقصد ہے جو عالمی حدّت کو ایک خطرناک حد تک لے جا رہی ہے۔

Pakistan-rejects-Toyota-Honda-and-Suzuki-after-decades-640x360

مہنگی اور طویل بیٹری چارجنگ:

ان گاڑیوں کی الیکٹرک بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے کافی وقت کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کا ایک منفی پہلو ہے۔ ان بیٹریوں کو چارج کرنے کی لاگت بھی ایسی گاڑیاں خریدنے والے افراد کے لیے حوصلہ شکن ہو سکتی ہے۔ کم خرچ چارجنگ اسٹیشنز دنیا بھر میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت کا ذریعہ ہیں۔ اعداد و شمار نے ظاہر کیا کہ کم خرچ چارجنگ اسٹیشنز کے حامل ممالک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی سب سے زیادہ تعداد فروخت ہوتی ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی ترویج کے لیے چند ممالک نے مفت چارجنگ اسٹیشنز بھی شروع کر رکھے ہیں۔ پاکستان میں جہاں بجلی گھریلو و کمرشل استعمال کے لیے ویسے ہی کافی مہنگی ہے؛ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے لیے کم خرچ چارجنگ اسٹیشنز فراہم کرنا ناممکن ہے۔ مزید برآں پاکستان میں آبادی کی بڑی اکثریت چارجنگ پر آنے والی بھاری لاگت ادا نہیں کر سکتی۔ اس لیے پاکستان کے موجودہ حالات میں کسی کو بجلی سے چلنے والی گاڑی خریدنے کے لیے قائل کرنا آسان ہیں ہورگا۔ حکومت پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیاں لانے کے لیے صارفین کی توجہ حاصل کرنے کی خاطر سازگار ماحول بنانا ہوگا۔ کیونکہ ایندھن کی قیمتیں پہلے ہی بلندیوں پر ہیں تو صارف دوست اور سستے چارجنگ اسٹیشن بنائے جائیں تو اس صورت میں لوگوں کو الیکٹرک گاڑیوں کی طرف مائل کیا جا سکتا ہے۔

July 23, 2012 - The parking structure on NREL's South Table Mountain campus features electric charging stations for employees. (Photo by Dennis Schroeder / NREL)

ہر چارج پر ڈرائیونگ رینج:

ایک اور چیلنج جو پاکستان میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی مقبولیت کے حوالے سے ہے وہ ایک مرتبہ بیٹری چارجنگ کے بعد ڈرائیونگ رینج ہے۔ مختلف گاڑیوں کی رینج ان کی گنجائش کی اعتبار سے تبدیل ہوتی ہے لیکن اب بھی یہ فیول ٹینک اور کمبسشن انجن رکھنے والی روایتی گاڑیوں کی رینج سے کہیں پیچھے ہے۔ بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی صنعت کے لیے یہ بہت اہم ہے کہ وہ پاکستان میں صارفین کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی ڈرائیونگ رینج پیش کریں۔ کئی لوگ اس حوالے سے پریشان ہیں کہ بجلی سے چلنے والی گاڑی ایک مرتبہ چارج ہونے پر طویل فاصلے تک جانے کی ان کی روزمرہ ضروریات کو پورا نہیں کریں گی جو پاکستان میں متعارف کروائے جانے سے قبل ہی الیکٹرک گاڑیوں کی صنعت کو حل کرنے کی ضرورت ہے۔

ccse-survey-range-620

غیر مستقل سرکاری حکمت عملیاں:

آٹو انڈسٹری کے حوالے سے حکومت کی غیر مستقل اور بارہا تبدیل ہونے والی حکمت عملیاں بھی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیوں کے لیے موجود مواقع کے خلاف جا سکتی ہیں۔ حکومت نے ملک میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فروغ کے لیے کوئی قابل تحسین اقدامات نہیں اٹھائے۔ اس کے برخلاف ہر حکومت کی جانب سے پالیسی تبدیل کیے جانے سے پاکستان میں الیکٹرک کاروں کے لیے آسان راستہ بنانے کی راہ مسدود ہوئی ہے۔ دریں اثناء، باقی دنیا عام ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی جگہ ماحول دوست الیکٹرک گاڑیوں کو دینے پر نظریں جمائے ہوئے ہے۔ ہماری حکومت کو بھی پاکستان میں ماحول دوست متبادل کی ترویج کے حوالے سے اپنی حکمت عملی ہموار کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کو روایات کو تبدیل کرنے اور ماحول کو بچانے میں مدد کے لیے ماحول دوست بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کو ترویج دینی چاہیے۔ پاکستان میں گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب کے ساتھ کمبسشن انج ن ماحول کو بری طرح آلودہ کر چکے ہیں۔ مزید برآں، پاکستان میں ایندھن کی آسمان سے باتیں کرتی قیمتیں بھی لوگوں کو بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کی جانب منتقل ہونے کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ کسی بھی اخراج کے بغیر بجلی سے چلنے والی گاڑیاں توانائی ایک حقیقی صاف ذریعہ ہیں۔ پاکستان میں فضاء کے معیار کو بہتر بنانے اور آلودگی کو کم کرنے کا یہ واحد ذریعہ ہے۔ عوام میں روایتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں بجلی سے چلنے والی گاڑیوں کے فوائد کے بارے میں شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام کی بڑی تعداد الیکٹرک گاڑیوں کے بارے میں بنیادی معلومات نہیں رکھتی۔ یہ ایک زبردست قدم ہے کہ الحاج جیسے چند مقامی آٹو مینوفیکچررز ملائیشین آٹومیکر پروٹون کے ساتھ معاہدے کے ذریعے پاکستان میں الیکٹرک کارز پیش کرنے کے لیے پہلے سے تیار ہیں۔ یہ پاکستان میں الیکٹرک کاروں کو پیش کرنے میں سرمایہ کاری کرنے کے لیے دیگر مقامی آٹو مینوفیکچررز کی راہیں کھولے گا۔ پاکستان میں الیکٹرک کاروں کی گنجائش کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کرنا مت بھولیے۔


Ahmad Shehryar

An Electrical Engineer by profession who writes automotive content at Pakwheels and a photographer.

Top