ٹویوٹا ایکوا تفصیلی جائزہ: وہ سب کچھ جو آپ جاننا چاہتے ہیں


ٹویوٹا ایکوا (Toyota Aqua) ایک 4-ویل-ڈرائیو اور  پانچ دروازے رکھنے والی ہائبرڈ ہیچ بیک ہے۔ اسے ٹویوٹا جاپان نے دسمبر 2011ء میں پیش کیا تھا۔ ایکوا مغربی مارکیٹوں میں پرائیس C کے نام سے جانی جاتی ہے اور یہ ہونڈا فٹ ہائبرڈ کے مقابلے کے لیے پیش کی گئی۔ دونوں گاڑیوں کی پیمائش لگ بھگ ایک جیسی ہی ہے۔ یہ کار 1500cc انٹرنل کمبسشن انجن کی حامل ہے، جسے CVT گیئربکس سے منسلک کیا گیا ہےاور یہ ایک فل-ٹائم ہائبرڈ گاڑی ہے۔ جو گاڑی میرے پاس ہے وہ 2013ء ماڈل S پیکیج ہے۔ ابتدائی طور پر ایکوا 3 پیکیجز میں جاری کی گئی تھی جنہیں L، S اور G کا نام دیا گیا ہے۔

بعد ازاں، ٹویوٹا نے فہرست میں مزید پیکیجز بھی شامل کیے، جیسا کہ بلیک سافٹ لیدر سلیکشن پیکیج، X اربن اور G GS وغیرہ۔ ہمارے پاس پاکستان میں موجود بیشتر کاریں یا تو L، S یا G پیکیج کی ہیں۔ اور ان تینوں میں Sپیکیج باقی دو کے مقابلے میں سب سے زیادہ اور G باقیوں کے مقابلے میں سب سے کم ہیں۔ G اس سلسلے کی سرفہرست گاڑی ہے اور کروز کنٹرول سمیت چند ایسی خصوصیات رکھتی ہیں جو باقی دونوں اقسام میں موجود نہیں۔

ٹویوٹا ایکوا اپنے اجراء کے بعد گزشتہ 20 سال کی سب سے کامیاب گاڑی بنی۔ ٹویوٹا پرائیس کے بعد ایکوا کسی بھی جاپانی ادارے کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی ہائبرڈ گاڑی ہے۔ 2013ء سے 2015ء تک ٹویوٹا ایکوا جاپان میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والی نئی گاڑی بنی۔

شروعات سے پہلے میں ایگزیکٹو کار بینک، جی 8 مرکز، اسلام آباد کالازمی شکریہ ادا کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے یہ 2013ء ٹویوٹا ایکوا فراہم کی۔ وہ اتنے مہربان تھے کہ ٹیسٹ رائیڈ کے لیے 17 لاکھ روپے کی یہ گاڑی دینے پر تیار ہوئے۔ اگر آپ جڑواں شہروں میں رہتے ہیں اور استعمال شدہ و درآمد شدہ جاپانی گاڑیوں کی تلاش میں ہیں تو ان کے شو روم پر ضرور تشریف لائیں۔ مجھے یقین ہے کہ آپ کو اپنی پسند کی گاڑی مل جائے گی۔ اور میں ایگزیکٹو کار بینک  (ECB) کے محمد افتخار کا بھی شکریہ ادا کروں گا جو گاڑی کی ٹیسٹ ڈرائیو کے دوران میرے ساتھ تھے۔

باہری حصہ(Exterior)

ایکوا دیکھنے میں کچھ بڑے سائز کی سیکنڈ جنریشن ٹویوٹا وِٹز لگتی ہے۔ لیکن بحثیت مجموعی ٹویوٹا کے انوکھے انداز کی حامل ہے۔ کار تھرڈ جنریشن پرائیس اور سکینڈ جنرشن وِٹز جیسی نظر آتی ہے۔ البتہ یہ دوسری جنریشن کی وِٹز سے کچھ لمبی ہے۔ ایکوا کی ویل بیس وِٹز کی 2460 mm کے مقابلے میں 2550 mm کی ہے۔ ویسے گاڑی 3995 mm لمبی، 1695 mm چوڑی اور 1445 mm بلند ہے۔ اس کے مقابلے میں ٹویوٹا وٹز 3785 mm لمبی ہے۔ بالفاظِ دیگر ایکوا دوسری جنریشن کی وِٹز سے تقریباً 8.25 انچ لمبی ہے۔ دوسری جانب ہونڈا فِٹ ہائبرڈ 3955 mm لمبی ہے، یعنی ایکوا سے تھوڑی سی چھوٹی اور اس کی ویل بیس ایکوا کے 2550 mm کے مقابلے میں 2530 mm ہے۔

سامنے کے ابھرے ہوئے بمپر اور بڑی تراش اور کناروں کے ساتھ ایکوا آپ کو جدید ٹویوٹا کا روایتی منظر دیتی ہے۔ زیریں اور بالائی حصے میں سیاہ جالیوں کی وجہ سے سامنے کے حصے کے بڑے ہونے کا تاثر ملتا ہے۔ اسی طرح فرنٹ بمپر کے دونوں طرف فوگ لائٹس کے لیے بھی بڑی جگہ رکھی گئی ہے۔ فرنٹ ہیڈلائٹس بڑی ہیں اور ٹویوٹا کی دیگر کاروں جیسی ہی لگتی ہیں۔ میرے خیال میں اگر سامنے ٹویوٹا کا مونوگرام نہ بھی ہو تو آپ سمجھ جائیں گے کہ یہ گاڑی ٹویوٹا کی ہے۔ گاڑی کا ہُڈ دوسری جنریشن کی وِٹز کے ہڈ سے مماثلت رکھتا ہے۔ سامنے کا پورا حصہ مع فینڈرز وہی ببل ٹائپ منظر دیتے ہیں جو سیکنڈ جنریشن وِٹز کا ہے، خاص طور پر ٹویوٹا کے نشان کے عین اوپر موجود اُبھار۔

لیکن اس ڈرامائی شکل و صورت کا خاتمہ ہوتا ہے جب آپ گاڑی کو اس کی سائیڈز یعنی پہلوؤں سے دیکھتے ہیں۔ اگلے دروازے پر ایسا کچھ خاص نہیں اور محسوس ہوتا ہے کہ ڈیزائنر کو اس حصے میں کوئی دلچسپی تھی ہی نہیں۔ یہاں تک کہ سائیڈ مررز بھی کافی سادہ ہیں۔ البتہ آپ کو سائیڈ مررز پر ٹرن سگنلز ضرور ملتے ہیں۔ جب آپ گاڑی کے پچھلے حصے کی طرف جاتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز پھر ہو جاتا ہے۔ پچھلے دروازوں پر خوبصورت اور ہموار خم ہیں جو گاڑی کے نظارے کو مؤثر بناتے ہیں۔ یہ سب خم اور کنارے پیچھے جا کر پشت پر گاڑی کے ڈیزائن کو مکمل کرتے ہیں۔ پشت پر ایک مرتبہ پھر بڑی لائٹیں نظر آتی ہیں اور بمپر بھی جو دونوں طرف فینڈرز کے لگ بھگ نصف حصے پر ہیں (یہ بھی گاڑی میں دھات کے استعمال کو بچانے کا ایک طریقہ ہے)۔

سائیڈ سے دیکھنے پر گاڑی کا پچھلا حصہ ایک طرف سے خمیدہ ہے۔ اور جھکی ہوئی چھت کا گاڑی کے پچھلے دروازوں کی کھڑکیوں پر بھی اثر نظر آتا ہے۔ اگر آپ غور کریں تو اگلے دروازوں سے شروع ہوکر پچھلے دروازوں کے اختتام تک ونڈو فریم لائنیں بومیرینگ کی شکل بناتی ہیں۔ پچھلے خم پر آپ کو ایک چھوٹی سی وِنڈشیلڈ ملتی ہے اور ڈرائیونگ کے دوران میں نے اسے کافی نہیں پایا۔ آپ کو پیچھے بہت کچھ نظر نہیں آتا اور اس میں بہت سے تاریک مقامات (blind spots) ہیں۔ گاڑی 175/65R15 ٹائروں کے ساتھ آتی ہے جو میرے خیال میں اس گاڑی کے لیے مناسب ہیں۔ ٹائروں کے سائز میں اضافہ یا ٹائر پروفائل میں کمی آپ کی ڈرائیو اور گاڑی کے آرام کو نقصان پہنچائے گی۔ کیونکہ گاڑی سادہ اسٹارٹ-اسٹاپ بٹن کے ساتھ آتی ہے اس لیے اس کی کوئی چابی نہیں ہے۔ آپ کو ایک چابی فیتہ (key fob) ملتا ہے اور جب تک یہ آپ کے پاس ہے گاڑی اسٹارٹ ہو جائے گی۔ آپ کو گاڑی کے ریموٹ پر سینٹرل لاکنگ بٹنز (لاک/اَن لاک) ملتے ہیں۔

اندرونی حصہ  (Interior)

کار کے انٹیریئر کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ جہاں ڈیش بورڈ بالکل سادہ ہے اور یہ سستا سی چیز ہے۔ ڈیش بورڈ کی تیاری میں استعمال کیے گئے مواد کا معیار اتنا اچھا نہیں ہے۔ گھٹیا اور باآواز پلاسٹک محسوس ہوتا ہے۔ ٹیسٹ کے اختتام پر میں نے پایا کہ اسٹیئرنگ ویل پر موجود پلاسٹک کور جسے آپ ہارن بجاتے ہوئے دباتے ہیں گرمی کی وجہ سے پگھلنا شروع ہو گیا تھا۔ اس پر لہریہ ڈیزائن تھا اور مجھے نہیں معلوم کہ اس ڈیزائن کی تُک کیا ہے۔ پلاسٹک چپچپا سا محسوس ہوا۔ ڈیش بورڈ پر سرمئی اور دیگر رنگوں کا استعمال کیا گیا تاکہ کم از کم یہ اچھا تو نظر آئے۔ یہ بالکل سادہ سا ہے اور ایکسٹیریئر کے ڈیزائن فلسفے کے برعکس ہے۔ آپ کو سادہ کنارے، خم اور کٹ ملتے ہیں۔ البتہ یہ ڈرائیور کو ذہن میں رکھ کر تیار کیا گیا ہے۔ ایک ڈرائیور کی حیثیت سے ہر چیز کی آپ کی پہنچ میں ہے۔ مسافر کی طرف آپ کو دستانے رکھنے کا خانہ ملتا ہے اور ایک گہری جیب تاکہ آپ اس میں چیزیں محفوظ رکھ سکیں۔ درمیان میں آپ کے پاس ملٹی میڈیا یونٹ ہے جو ممکنہ طور پر کام نہیں کرے گا کیونکہ یہ جاپانی میں ہے اور آپ کو اسے ایکٹیویٹ کرنے کے لیے کسی قسم کی سی ڈی کی ضرورت پڑے گی۔ یہ میری ٹیسٹ کار میں بھی کام نہیں کر رہا تھا۔ ہیڈیونٹ کے نیچے آپ کو ایئرکنڈیشننگ کا کنٹرول ملتا ہے۔ یہ پینل مکمل طور پر ڈجیٹل اور بالکل سادہ ہے۔ آپ کو EV موڈ کے انتباہ، بیٹری چارجنگ، ٹرپ میٹر، فیول اوسط وغیرہ کے ساتھ تمام بنیادی معلومات یہیں ملتی ہے۔

آپ کو ہینڈبریک کے نیچے ECO اور EV کے بٹن ملیں گے۔ جب آپ ECO کو دبائیں گے تو آپ کی گاڑی ہر چیز پر ایندھن کی بچت کو ترجیح دے گی۔ آپ کا ریس پیڈل کی طاقت گھٹ جاتی ہے، ایئرکنڈیشنر دھیما ہو جاتا ہے اور کار مینجمنٹ سسٹم اپنی بہترین ایندھن بچت پر کام کرتا ہے۔ سادہ الفاظ میں کہ گاڑی خودکار طور پر ایندھن کے اِن پُٹ کو سنبھالتی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ بچت کے لیے ایئر کنڈیشننگ سسٹم کو بہتر بناتی ہے۔

جب ECO اور EV بٹن نہیں دبائے جاتے تو آپ کا نارمل موڈ کھل جاتا ہے اور آپ گاڑی میں جو چاہیں کر سکتے ہیں، اور گاڑی آپ کے مقابلے پر کوئی مزاحمت نہیں کرے گی۔

جب آپ EV بٹن دباتے ہیں تو کم رفتار پر گاڑی انٹرنل کمبسشن انجن (ICE) کو مکمل طور پر بند کردیتی ہے اور صرف الیکٹرک موٹر پر چلتی ہے۔ اگر مجھ سے پوچھیں تو یہ ڈراؤنا سا لگتا ہے۔ گاڑی EV موڈ پر ایک بھوت بن جاتی ہے، اور درحقیقت کوئی آواز ہی نہیں آتی جو آپ کو یہ احساس دے کہ گاڑی کے اندر کچھ چل بھی رہا ہے۔ EV موڈ آپ کو رات گئے والدین سے چوری چھپے ایکوا گھر سے نکالنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تھروٹل دبائیں اور ICE اپنا کام کرے گا۔

گیئرشفٹ میں آپ کے پاس سادہ P، R، N، D اور B ہیں۔ B صرف اس وقت استعمال کریں جب آپ کو کسی پہاڑی سڑک پر نیچے اترتے ہوئے انجن بریکنگ کی ضرورت ہو۔ تیز رفتار پر B پر منتقل نہ ہوں۔ آپ کے پاس گاڑی میں سادہ ہینڈ بریک ہے اور مجھے خوشی ہے کہ یہ ہے۔ مجھے ہونڈا ویزل کے دمکتے ہوئے P بٹنز پسند نہیں ہے۔ یہ پریشان کرتے ہیں۔ ایکوا میں آپ کے پاس ایک لیور ہے، اسے دبائیے اور آپ پارکنگ بریک لے چکے ہیں – بالکل سادہ۔

جو گاڑی میں نے چلائی اس میں ہلکے رنگ کی نشستیں تھیں اور دروازوں کے پینلز میں بھی اسی رنگ کا استعمال کیا گیا تھا۔ یہ دِکھنے اور چھونے میں اچھا نظر آتا ہے۔ لیکن جہاں تک گاڑی کے اندر شور کی بات ہے، یہ کار کافی حد تک خاموش ہے۔ آپ کو انجن کا کوئی شور سنائی نہیں دیتا جب تک کہ گاڑی پر زیادہ دباؤ نہیں ڈالا جاتا۔ لیکن جیسے ہی آپ رفتار پر زور دیتے ہیں آپ کو انجن کے چنگھاڑنے کی آواز آ سکتی ہے۔ میں مانتا ہوں کہ انجن کے شور کی آواز بہت اچھی لگتی ہے۔ اس کے علاوہ کیبن کافی حد تک ساؤنڈ پروف ہے۔

جاپانی، اور خاص طور پر ٹویوٹا والے گاڑی کے اندرونی حصوں میں سامان رکھنے کی ممکنہ حد تک بڑی جگہ فراہم کرتے ہیں۔ سیکنڈ جنریشن ٹویوٹا وِٹز میں یہ بات کافی حد تک واضح تھی۔ ایکوا میں اتنی زیادہ جگہ نہیں ہے، لیکن پھر بھی کافی ہے۔ اس گاڑی میں آپ کو کئی جیبیں ملتی ہیں، اگلی دونوں نشستوں کے پیچھے اور درمیانی کونسول میں۔ آپ کو یہاں پر گیئر لیور کے بالکل سامنے دو کپ ہولڈرز بھی ملتے ہیں۔ گیئر لیور گاڑی کے اندر کا واحد حصہ ہے جس پر کچھ کروم لگا ہوا ہے۔

engine1

کارکردگی (Performance)

یہ ہے وہ پہلو جس حوالے سے ایکوا واقعی برتری لے جاتی ہے۔ یہ گاڑی 1.5 لیٹر 4 سلیکنڈر DOHC انٹرنل کمبسشن 1NZ-FXE انجن اور ٹویوٹا CVT ٹرانسمیشن کے ساتھ ملاپ کے ساتھ آتی ہے۔ انٹرنل کمبسشن انجن 74 ہارس پاور اور 111Nm ٹارک پیدا کرتا ہے اور الیکٹرک موٹر 61 HP (مشترکہ طاقت بقول ٹویوٹا موٹرز کے 100 HP) پیدا کرتی ہے۔ واضح رہے کہ ایکوا کا انجن گزشتہ 1NZ-FXE کا اپڈیٹ شدہ ورژن ہے جو سیکنڈ جنریشن ٹویوٹا پرائیس میں استعمال کیا گیا تھا۔ کیونکہ گاڑی کا وزن 1080 کلو گرام ہے اس لیے الیکٹرک موٹر کے ساتھ انجن میں اتنی طاقت ضرور ہے کہ جب آپ تھروٹل کو زور سے دبائیں تو آپ کے چہرے پر مسکراہٹ آ جائے گی۔ لیکن جب آپ اسے زور سے دباتے ہیں تو ایک ربر بینڈ افیکٹ آئے گا۔ آپ تھروٹل کو دباتے ہیں اور گاڑی چند لمحے لیتی ہے یہ سوچنے میں کہ آپ کر کیا رہے ہیں اور پھر اچانک آپ کو طاقت آنے کا احساس ہوتا ہے۔ ایکسلریٹر اِن پٹ اور انجن آؤٹ پُٹ میں تھوڑا سا وقفہ ہے۔ اور یہ CVT میں عام رویّہ ہے اور آپ کو مسلسل ویری ایبل ٹرانسمیشن گیئربکس رکھنے والی زیادہ تر کاروں میں ایسا ملے گا۔

انجن عام ڈرائیونگ حالات میں بالکل خاموش رہتا ہے، لیکن جب آپ ریس پیڈل کو زور سے دباتے ہیں تو وہ یکدم زندہ ہو جاتا ہے اور اس کے چنگھاڑنے کی آواز اچھی لگتی ہے۔ اپنے قدموں پر گاڑی کا ردعمل دکھانا مجھے بڑا پسند آیا۔ ابتداء میں میں سمجھا تھا کہ یہ تیز نہیں ہوگی، لیکن یہ خوشگوار حد تک حیران کن تھا۔ گاڑی 80 کلومیٹر سے 150 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار تک بغیر کسی مسئلے کے گئی۔

ہونڈا کی پیریلل ہائبرڈ گاڑی ہے جیسا کہ ویزل کے مقابلے میں ٹویوٹا ہائبرڈ گاڑیاں مثلاً پرائیس اور ایکوا سیریز ہائبرڈ ڈرائیو ٹرین رکھتی ہیں۔ سیریز ہائبرڈ میں آپ کا انجن گیئربکس سے ملا ہوتا ہے اور گیئربکس پر ایک الیکٹرک موٹر نصب ہوتی ہے۔ یعنی ٹویوٹا ایکوا میں یہ بھی ہے۔

جتنی بھی میں نے ڈرائیونگ کی، 80 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے 140 کلومیٹر فی گھنٹے سے بھی آگے جاکر، اس نے مجھے ایندھن کا اوسط 15.5 کلومیٹر فی لیٹر دیا وہ بھی پورے وقت ایئر کنڈیشنر کھلا رکھتے ہوئے اور گاڑی میں دو افراد کے موجود ہوتے ہوئے۔ یہ وہ معلومات ہے جو مجھے انفارمیشن ڈسپلے پر نظر آتی رہی۔ میں نے سنا ہے کہ لوگوں نے 20 کلومیٹر فی لیٹر سے بھی زیادہ اوسط حاصل کیا ہے، لیکن میں اس پر تبصرہ نہیں کروں گا کیونکہ میں نے اس کا تجربہ خود نہیں اٹھایا۔ لیکن 17 یا 18 کلومیٹر فی لیٹر بھی میری رائے میں بہت متاثر کن اوسط ہے۔ یعنی 36 لیٹر کا فیول ٹینک کافی عرصے تک چلے گا۔

میرا ایئر کنڈیشنر کا تجربہ بہت زیادہ اچھا تھا۔ اے سی کی اچھی بات یہ تھا کہ میں اسے بیٹری پاور پر چلا سکتا تھا۔ انجن کو چلاتے رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ان نئی گاڑیوں میں بجلی سے چلنے والے کمپریسر موجود ہیں۔ اب آپ کو کمپریسر کو چلانے کے لیے روایتی بیلٹ کی بھی ضرورت نہیں۔ یعنی نہ انجن چلانے کی ضرورت اور نہ ہی pulleys یعنی چرخیوں کی۔

جہاں تک ایکوا کی بریکنگ کی بات ہے تو میں کہوں گا کہ یہ مناسب ہے۔ اس میں ایسی کوئی کمی نہیں لیکن یہ غیر معمولی بھی نہیں۔ آپ کو آگے ventilated discs ملتی ہیں اور پیچھے drums۔ یہ ABS+BA+EBD تمام ایکوا ماڈلز میں مقررہ معیار ہیں۔یہ سمجھتے ہوئے کہ گاڑی ری جنریٹو بریکنگ کے ساتھ آتی ہے کیونکہ یہ ہائبرڈ ہے (ری جنریٹو بریکنگ بیٹریوں کو چارج کرنے کے لیے استعمال ہوتی ہے جب آپ آہستگی سے اپنے ریس پیڈل پر سے پاؤں ہٹاتے ہیں)، اس لیے آپ کو ہمیشہ ہلکا سے کھینچنے کا اثر محسوس ہوگا۔ اس کا عادی ہونے پڑے گا۔ جب میں نے ویزل کی ٹیسٹ ڈرائیو کی تھی تو بھی یہ محسوس ہوا تھا۔ ری جنریٹو بریکنگ کی حامل تمام گاڑیوں میں پیچھے سے کھینچے جانے کا یہ احساس پایا جاتا ہے۔

آرام اور استعمال(Comfort & Handling)

میں اس گاڑی کے بارے میں اچھا لکھنا چاہتا ہوں لیکن بدقسمتی سے مجھے اس میں مشکل پیش آ رہی ہے۔ اچھی کنڈیشن رکھنے والی ایک مناسب ایکوا 15 لاکھ روپے تک میں آتی ہے (جو میں نے ڈرائیو کی تھی اس کی قیمت 17 لاکھ تھی)۔ سادہ الفاظ میں ایسی گاڑی اور جو ایکوا کی طرح استعمال ہو اور چلے وہ اس قیمت کی مستحق نہیں۔ ان معاملات میں میرے تجربے کو جو ایک لفظ بیان کر سکتا ہے وہ ہوگا ‘اوسط’۔

مجموعی طور پر گاڑی میں گنجائش میرے اندازوں اور خواہش کے مقابلے میں تنگ ہے۔ boot وِٹز سے بڑا ہے لیکن وہ بھی کافی ہے۔ میں نے اپنی ڈرائیونگ پوزیشن اور مزاج کے مطابق اگلی نشستوں کو ٹھیک کیا لیکن اس کے بعد میں پچھلے حصے میں آرام سے نہیں بیٹھ پایا۔ پچھلے حصوں میں نہ ہی اوپر کی طرف اور نہ ہی ٹانگوں کے لیے بیٹھنے کی مناسب جگہ ہے۔طویل سفر پر کوئی بھی پیچھے آرام سے بیٹھ نہیں سکتا الّا یہ کہ وہ ہر آدھے گھنٹے بعد اتر کر اپنی ٹانگوں کو آرام دے۔ میرے پاس اس کے مقابلے میں ایک 2006 ء ٹویوٹا وٹز ہے اور آگے والی نشستیں اپنے مزاج کے مطابق سیٹ کرنے کے بعد بھی اس میں پیچھے بہتر جگہ بچتی ہے اور ایکوا کے مقابلے میں اس کی بلندی بھی زیادہ ہے۔ جوکار مجھے دی گئی اس میں جاپانی زبان کا ڈبل پلیئر نصب تھا جو کچھ بھی نہیں کرتا۔ آپ کو درمیانے درجے کی تمام درآمد شدہ گاڑیوں میں فضول سے ہیڈ یونٹس ملیں گے۔

البتہ مجھے ڈرائیونگ پوزیشن پسند آئی جو بہت اچھی تھی۔ مجھے محسوس ہوا کہ میں ہر چیز کے درمیان میں بیٹھا ہو اور ہر چیز کا رخ میری جانب ہے۔ یہ گاڑی ڈرائیور کو احساس دیتی ہے کہ ہر چیز اس کے گرد گھومتی ہے اور مجھے یہ احساس اچھا لگا۔ اسٹیئرنگ ویل خوبصورت اور اسپورٹی قسم کا ہے۔ یہ نیچے سے کچھ سیدھا ہے (یہ مکمل طور پر گول نہیں جیسا کہ عام طور پر تصور کیا جاتا ہے)۔ یہ آپ کے گھٹنوں کو زیادہ جگہ دیتا ہے اور دیکھنے میں بھی اچھا لگتا ہے۔ کیونکہ گاڑی الیکٹرانک پاور اسٹیئرنگ کے ساتھ آتی ہے، اس لیے اسٹیئرنگ جاندار محسوس نہیں ہوتا۔ اسٹیئرنگ ویل کا اِن پٹ اور آؤٹ پٹ مصنوعی سا محسوس ہوتا ہے۔ ٹویوٹا کو اس پر کچھ کام کرنا چاہیے۔ البتہ شہر کے اندر روزمرہ کی ڈرائیونگ کے لیے یہ اچھا ہے۔

لیکن 80 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار پر گھمانے کی کوشش مت کیجیے گا۔ گاڑی زمین سے اس طرح چپکی ہوئی محسوس نہیں ہوتی جیسا کہ آپ چاہتے ہیں۔ کسی ناہموار سڑک پر، مجھے محسوس ہوا کہ گاڑی سڑک کی سطح پر معلق ہو رہی تھی اور اس میں جمے رہنے کا احساس کم تھا۔ میں نے لگ بھگ 80 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار پر اسٹیئرنگ ویل کو ہلکا سا جھٹکا دیا اور گاڑی کو اپنے راستے پر واپس آنے میں مشکل ہوئی۔ گاڑی کا اگلا حصہ میری خواہش سے زیادہ اٹھا ہوا ہے۔ 100 کلومیٹر فی گھنٹے یا اس سے زیادہ کی رفتار پر مجھے اس کا احساس پسند نہیں آیا۔ یہ آپ کو ٹریفک میں زیادہ رفتار کے ساتھ راستہ بنانے کا اعتماد نہیں دیتی۔

سواری کا معیار بس اوسط سا ہے۔ گاڑی کا سسپینشن معیار سے کم اور گھٹیا محسوس ہوتا ہے۔ مجھے رائیڈ کوالٹی نے بالکل بھی متاثر نہیں کیا۔ یہ سیکنڈ جنریشن ٹویوٹا وِٹز کی جیسی محسوس ہوئی۔ چھوٹے ویل بیس (2550 mm) کا مطلب ہے کہ گاڑی اچھلے کی ضرور۔ سیکنڈ جنریشن وٹز کی ویل بیس2460mm کی ہے۔90 mm لگ بھگ ساڑھے 3 انچز کے برابر ہوتا ہے۔

سسپنشن بھی اوسط ہی ہے۔ یہ سڑک پر موجود ناہمواریوں کو سنبھال نہیں سکتا جیسا کہ میں نے امید باندھی تھی۔ یہ تھوڑی سی بڑی ٹویوٹا وِٹز لگتی ہے۔ جہاں تک سیٹ اپ کا معاملہ ہے آپ کو فرنٹ میں میک فرسن اسٹرٹس اور پیچھے ٹورشن بیم ملتے ہیں – جو ٹویوٹا کی کاروں میں عام ہیں۔ اس طرح کا سسپینشن سخت اور پائیدار تو ہے لیکن بہت نفیس نہیں۔ آپ کو ان گاڑیوں میں بہترین رائیڈ کنٹرول نہیں ملتا۔ اور یہی کچھ ایکوا کے ساتھ بھی ہے۔

ٹویوٹا ایکوا کی گراؤنڈ کلیئرنس 140 mm یا ساڑھے 5 انچ ہے۔ ٹیسٹنگ کے دوران مجھے کوئی اسپیڈ بریکر تو نہیں ملا جس سے اس کی گراؤنڈ کلیئرنس کا اندازہ ہو سکے لیکن سسپینشن ٹریول اتنا اچھا نہیں ہے۔ اس لیے عام اسپیڈ بریکرز پر آپ محفوظ ہوں گے چاہے گاڑی میں پانچ افراد ہی کیوں نہ بیٹھے ہوں۔ مجھے اس کا turning radius یعنی گھومنے کا رداس پسند نہیں آیا۔ ٹویوٹا کہتا ہے کہ ایکوا کا ٹرننگ ریڈیئس 4.8 میٹر ہے۔ اس کے مقابلے میں سیکنڈ جنرشن وِٹز کا گھومنے کا رداس 4.4 میٹر ہے اور ہونڈا فِٹ ہائبرڈ کا 4.9 میٹر (یعنی ایکوا سے بھی بُرا)۔

جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے کہ ایکوا 1695 mm چوڑی ہے اور حیرانگی کی بات نہیں کہ سیکنڈ جنریشن وِٹز کی چوڑائی بھی اتنی ہی ہے۔ یہ بالکل ایک جیسی ہیں۔ یہاں تک کہ ہونڈا فِٹ ہائبرڈ کی چوڑائی بھی 1695 mm ہے۔ ایکوا کی آگے والی سیٹیں (یعنی ڈرائیور اور مسافر کی نشست) اچھی اور آرام دہ ہیں اور خاصے چوڑے شخص کو بھی باآسانی اٹھا سکتی ہیں۔ پیچھے والی مناسب ہیں اور دو افراد کو بٹھا سکتی ہیں البتہ تیسرے کے لیے اتنی اچھی نہیں۔ درمیان میں کسی بچے کے لیے بیٹھنا آسان ہے۔ لیکن ٹانگوں اور سر کے لیے کم جگہ کو مدنظر رکھیں تو دو افراد بھی بہت جلد تھک سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ نشستیں کافی آرام دہ ہیں۔ آپ کو ٹریفک جام وغیرہ میں بھی بیٹھے رہنے میں پریشانی نہیں ہوگی۔

CVT گیئربکس کے rubber band effect کی وجہ سے اس گاڑی کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ اس میں کوئی دھچکا یا جھٹکا وغیرہ نہیں ہے۔ زور لگانے کے باوجود یہ گاڑی یکدم چھلانگ یا جھٹکا نہیں مارتی۔ پاور ڈلیوری ہمیشہ رواں اور ہموار رہتی ہے۔ اور اس کا مطلب ہے ایک آرام دہ سفر، بغیر کسی غیر ضروری دھچکے، تھرتھراہٹ اور جھٹکے کے۔ کیبن بدستور اچھا اور خاموش رہتا ہے اور آپ کو گاڑی میں بیٹھ کر باہر کی زیادہ پروا نہیں رہتی (انجن بہت خاموش ہے)۔ البتہ کیونکہ گاڑی کا سسپینشن اچھا نہیں، جیسا کہ اوپر بتایا گیا ہے، اس لیے چھوٹے موٹے راستوں یا خراب سڑکوں پر ڈرائیونگ اچھی نہیں۔ یہاں تک کہ عام شہری رفتار پر اچھی سڑکوں پر بھی مجھے سڑک کی آوازیں غیر ضروری طور پر گاڑی کے اندر محسوس ہوتی ہیں۔ ایک دو بار تو ایسا ہوا کہ مجھے گاڑی کے پچھلے حصے سے ایک عجیب سی گونج سنائی دی جو کافی پریشان کن تھی۔

حفاظت (Safety)

جاپان کی گاڑیاں عموما تمام جدید ترین حفاظتی سہولیات سے لیس ہوتی ہے۔ ٹویوٹا ایکوا بھی ایسی ہی ہے۔ اس میں آگے کی جانب دو ایئر بیگس ہیں اور تمام نشستوں پر سیٹ بیلٹس نصب ہیں۔ پرائیس C، ٹویوٹا ایکوا کا امریکی ماڈل ٹویوٹا اسٹار سیفٹی سسٹم کے ساتھ آتا ہے۔ خصوصیات جو اسٹار سیفٹی سسٹم کو بناتی ہیں ٹریکشن کنٹرول (TRAC)، اینٹی-لاک بریک سسٹم (ABS)، بریک اسسٹ (BA)، الیکٹرانک بریک-فورس ڈسٹری بیوشن (EBD)، اسمارٹ اسٹاپ ٹیکنالوجی (SST) اور وہیکل اسٹیبلٹی کنٹرول (VSC) ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ S یا L پیکیج کی ایکوا میں موجود نہیں ہیں۔ البتہ آپ کو بریک اسسٹ اور الیکٹرک بریک-فورس ڈسٹری بیوشن کے ساتھ اینٹی-لاک بریک سسٹم ملتا ہے۔ اس کے علاوہ فرنٹ اور ریئر دونوں پر crumple zone بھی ایکوا میں ہے۔

حتمی رائے (Verdict)

اگر آپ اکیلے ہے، کارپوریٹ انداز کی زندگی گزارتے ہیں تو یہ گاڑی آپ کے طرزِ زندگی کے مطابق ہے۔ یہ نسبتاً چھوٹی ہے اس لیے اس کی دیکھ بھال کرنا اور شہر میں ڈرائیو کرنا آسان ہے۔ یہ ہائبرڈ ہونے کی وجہ سے چلانے میں سستی پڑتی ہے۔ اور کسی حد تک کہا جا سکتا ہے کہ یہ دیکھنے میں خوبصورت گاڑی بھی ہے۔ اسپورٹی لگتی ہے اور اگر آپ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو ‘اسپورٹی’ کار چلاتے ہوئے دیکھیں جو درحقیقت ہے تو نہیں، تو یہ گاڑی آپ کے لیے ہے۔ لیکن اگر آپ کا خاندان ہے اور اس گاڑی کو اپنی اور گھر کی واحد گاڑی کے طور پر چلانا چاہتے ہیں تو یہ آپ کے لیے اچھا انتخاب نہیں ہے۔ کیونکہ عملی طور پر اس کے اندر آپ کا پورا خاندان نہیں سما سکتا۔ البتہ یہ آپ کے گھر کی دوسری گاڑی بن سکتی ہے اس صورت میں کہ جب گھر میں استعمال کے لیے ایک بنیادی گاڑی موجود ہو۔ یہ آپ اپنی اہلیہ کو بچوں کو اسکول لانے اور لے جانے کے لیے اور سودا سلف کی خریداری کے لیے دے سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مجھے ایسی گاڑی پر 15 لاکھ روپے کی خطیر رقم خرچ کرنے پر اعتراض ہی ہوگا اور میں اسے پیسے کا اچھا استعمال نہیں سمجھتا۔

ٹویوٹا ایکوا کو بنانے کے مجموعی معیار کو بہتر بناسکتا تھا۔ اور اسے بہتر سسپینشن دے کر ڈرائیو کرنے کے تجربے کو بہتر بنا سکتا تھا۔ اس کا فوری مقابلہ ہونڈا فِٹ سے ہوتا ہے۔ دونوں گاڑیاں تقریباً یکساں پیمائش رکھتی ہیں اور ان کا ویل بیس بھی ایک جیسا ہے اور دونوں ہی ہائبرڈ ٹیکنالوجی کی حامل ہیں، گو کہ دونوں مختلف اقسام کی ہائبرڈ ہیں، یہ گاڑیاں ایک دوسرے کی براہ راست مقابل ہیں۔ گو کہ گاڑی کی ظاہری شکل و صورت کی پسندیدگی یا ناپسندیدگی ذاتی فیصلہ ہوتا ہے، اس لیے اس بارے میں بات کرنے کا فائدہ نہیں۔ لیکن ہونڈا فٹ ہائبرڈ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ ایکوا سے زیادہ بہتر معیار رکھتی ہے۔

اگر مجھے ایک سطر میں اس گاڑی کا خلاصہ کرنا ہو تو یہی کہوں گا کہ ٹویوٹا ایکوا ایک مناسب گاڑی ہے مگر اس کی قیمت مناسب ہر گز نہیں ہے۔


Writing about cars and stuff.

Top