اورنج لائن میٹرو ٹرین کا کرایہ 40 سے 50 روپے کے درمیان ہوگا


لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین (OLMT) بالآخر اپنے تجرباتی مراحل میں داخل ہو گئی ہے۔ OLMT کو کئی بار تاخیرکا سامنا کرنا پڑا اور اب جبکہ تجرباتی مرحلہ شروع ہو چکا ہے تو پنجاب کے محکمہ خزانہ نے OLMT کے لیے کرائے طے کرنا شروع کردیے ہیں۔ 

محکمہ خزانہ کی جانب سے ابتدائی طور پر  OLMT کے کرائے 40 سے 50 روپے کے درمیان رکھنے کی تجویز دی ہے۔ OLMT پاکستان میں پہلا اور اپنی نوعیت کا اوّلین جدید ماس ٹرانزٹ سسٹم ہوگا۔ عوام مارچ 2020ء سے اِس سروس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ ٹریک مکمل ہو چکا ہے اور اب تجرباتی مراحل سے گزر رہا ہے۔ 

یہ تجرباتی مرحلہ کم از کم تین مہینے جاری رہے گا جس کے دوران مختلف سسٹمز کی جانچ، ڈرائیوروں کی تربیت اور سیفٹی آڈٹ کیے جائیں گے۔ دو چینی کمپنیوں چائنا ریلوے کنسٹرکشن کارپوریشن لمیٹڈ (CRCCI) اور چائنا نارتھ انڈسٹریز گروپ کوآپریشن لمیٹڈ (NORINCO) کا جوائنٹ وینچر OLMT کی مرمت، دیکھ بھال اور چلانے کا ٹھیکا رکھتا ہے۔ 

البتہ چینی جوائنٹ وینچر OLMT کے آپریشنز نہیں سنبھالے گا۔ اس وقت چینی انجینئرز OLMT کے تکنیکی پہلوؤں کی جانچ کر رہے ہیں۔ 

ٹرینوں کو ڈیزل پر چلانے کا تجربہ بھی کیا جا رہا ہے جو بجلی جانے کی صورت میں یا ہنگامی حالت میں استعمال کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے OLMT کو چلانے کے لیے حکومتِ پنجاب کو جنوری 2020ء کی ڈیڈلائن دی تھی۔ OLMT کا آغاز 2014ء میں ہوا تھا اور اس کا تعمیراتی کام تب سے جاری ہے۔ OLMT اپنا پورا فاصلہ 45 منٹ میں مکمل کرے گی۔ 

لاہور اورنج لائن ٹرین اِن اسٹاپس سے گزرے گی۔ 

علی ٹاؤن

ٹھوکر نیاز بیگ  

کینال ویو 

ہنجروال 

وحدت روڈ

اعوان ٹاؤن

سبزہ زار

شاہ نور

صلاح الدین روڈ

بند روڈ

سمن آباد

گلشنِ راوی

چوبرجی

لیک روڈ

جی پی او

لکشمی 

ریلوے اسٹیشن

سلطان پورہ

یو ای ٹی 

باغبان پورہ

شالامار باغ

پاکستان منٹ

محمود بوٹی

اسلام پارک

سلامت پورہ

ڈیرہ گجراں 

OLMT کے پورے فاصلے پر کل 27 ٹرینیں ہیں۔ ہر ٹرین کے ساتھ پانچ بوگیاں لگیں گی اور ہر کسی میں 60 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ عورتوں، بزرگوں اور معذور افراد کے لیے خصوصی نشستیں ہیں۔ اندازوں کے مطابق OLMT روزانہ 5,00,000 مسافروں کو سہولت دے گی۔ 

OLMT شہر لاہور کے گنجان آباد ترین علاقوں سے گزرے گی کہ جہاں عوام ایک مناسب ٹرانسپورٹ سسٹم کے ذریعے کام کی جگہ اور تعلیمی اداروں کو جانا چاہتے ہیں۔ اس میں ایک پبلک ایڈریس سسٹم بھی ہوگا تاکہ مسافروں کو اگلی ٹرین کی آمد وغیرہ کے بارے میں بتایا جا سکے۔ 

کام شروع کرنے کے بعد OLMT لاہور جنکشن ریلوے اسٹیشن، رائے وِنڈ، ملتان روڈ، میکلوڈ روڈ اور جی ٹی روڈ کو جوڑے گی۔ تحریک انصاف کی حکومت نے پچھلی حکومت کی دی گئی سبسڈی ختم کر دی ہے لیکن امید ہے کہ OLMT کے کرائے اتنے کم ہوں گے کہ ایک عام شخص اس میں باآسانی سفر کرے گا۔ 

مزید معلوماتی اور خبری مواد کے لیے پاک وِیلز پر آتے رہیے۔ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔


Google App Store App Store

Top