اسلام آباد ایئرپورٹ میٹرو بس توسیعی منصوبہ مارچ 2020ء تک مکمل ہو جائے گا


وفاقی حکومت نے پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ تک میٹرو بس توسیعی منصوبے کی تکمیل کے لیے اب مارچ 2020ء کی تاریخ دے دی ہے۔ 

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقی و اصلاحات کا ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکریٹری پلاننگ نے بتایا کہ میٹرو بس کے توسیعی منصوبے کے صرف دو حصوں پر کام باقی ہے، جو مارچ 2020ء تک مکمل ہو جائے گا۔ پشاور موڑ سے نیو اسلام آباد ایئرپورٹ تک کا توسیعی منصوبہ چار حصوں پر مشتمل ہے، جس میں سے دو پر کام پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کی میٹنگ کی سربراہی سینیٹر آغاز شاہزیب دُرّانی نے کی تھی۔ اس میں سینیٹر رخسانہ زبیری، سینیٹر سسی پلیجو، سینیٹر میر کبیر شاہی، چیئرمین PEC، چیئرمین NHA، سیکریٹری پلاننگ اور دیگر اعلیٰ سرکاری عہدیداروں نے شرکت کی۔ کمیٹی کی جانب سے دی گئی پچھلی ہدایات پر گفتگو کی گئی کہ منصوبے کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ مزید برآں، یہ بھی کہا گیا تھا کہ منصوبے کی تکمیل پر آنے والے اضافی اخراجات سست روی سے چلنے والے دیگر منصوبوں سے لیے جائیں۔

26 کلومیٹرز طویل توسیعی منصوبے کی اندازاً لاگت 18 ارب روپے تھی، لیکن منصوبہ ممکنہ طور پر 14 ارب روپے میں مکمل ہوگا۔ اس راستے پر کُل 8 اسٹیشنز ہیں جن میں 7 مرکزی راستے پر جبکہ آخری نیو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہے۔ منصوبے کو مزید چار پیکیچز میں تقسیم کیا گیا ہے، کچھ اس طرح: 

پیکیج I (8 کلومیٹرز) 

پیکیج II (3.8 کلومیٹرز) 

پیکیج III (8.3 کلومیٹرز) 

پیکیج IV (5.4 کلومیٹرز) 

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ان میں سے پیکیج I اور پیکیج II بالترتیب 90 اور 85 فیصد تک مکمل ہیں، جبکہ باقی دو تکمیل کے مرحلے تک پہنچنے والے ہیں۔ موٹروے سے ایئرپورٹ تک کوئی اسٹیشن نہیں بنایا گیا ہے، جو پروجیکٹ پلان کے خلاف ہے جس کے تحت 1 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک اسٹیشن ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ پروجیکٹ چند ناگزیر وجوہات کی بناء پر فوراً مکمل ہونا چاہیے جیسا کہ فتح جنگ کے قریب نئے ایئرپورٹ کی تعمیر سے وفاقی دارالحکومت کی اہم سڑک کشمیر ہائی وے پر ٹریفک کا بوجھ بہت بڑھ چکا ہے۔ میٹرو بس توسیعی منصوبے کی تکمیل سے کشمیر ہائی وے پر ٹریفک کا دباؤ کافی کم ہوگا۔ اس لیے کمیٹی نے حکام پر زور دیا کہ وہ میٹرو بس کے توسیعی منصوبے کے باقی کام کو جلد مکمل کریں۔

مزید برآں، کمیٹی نے M-1 اور M-2 موٹرویز پر ٹول ٹیکس میں سالانہ اضافے پر بھی سوال اٹھایا۔ 2005ء سے 2019ء کے دوران M-1 پر مسافر کاروں کے لیے ٹول ٹیکس 80 روپے سے بڑھ کر 240 روپے ہو چکا ہے جبکہ ویگنوں کے لیے 100 روپے سے 400 روپے تک کا اضافہ ہوا ہے۔ اسی طرح منی بس اور بسوں کے لیے ٹول ٹیکس بالترتیب 140 روپے سے 550 اور 210 روپے سے 790 روپے تک جا پہنچا ہے۔ دوسری جانب لاہور-اسلام آباد موٹر وے M-2 پر ٹول ٹیکس شرح میں بھی اس عرصے میں یکدم اضافہ ہوا ہے۔ مسافر کاروں کے لیے ٹیکس کی 250 روپے سے بڑھا کر 750 روپے ہو گیا۔ اسی طرح ویگنوں کے لیے ٹول ٹیکس 300 روپے سے بڑھ کر 1250 روپے تک پہنچتے دیکھا گیا۔ منی بس اور بسوں کے لیے یہ شرح بالترتیب 176 روپے سے 300 روپے اور 450 روپے سے 2510 روپے تک جا پہنچی۔ جیسا کہ اجلاس میں کہا گیا کہ نیشنل ہائی ویز اتھارٹی (NHA) نے ملک بھر میں موٹرویز نیٹ ورک کی تعمیر نو اور دیکھ بھال پر 92 ارب روپے خرچ کیے۔ اس کی وجہ موٹرویز استعمال کرنے والی گاڑیوں کی اوسط تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہے۔ 

کیا حکومت مذکورہ عرصے میں میٹرو بس توسیعی منصوبہ مکمل کر پائے گی؟ اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top