سندھ کے عوام موٹر سائیکلوں میں ٹریکر لگانے کے مخالف


سندھ بھر کی تمام موٹر سائیکلوں میں ٹریکر لگانے کی سمری منظوری کے لیے حکامِ بالا کو  بھیج دی گئی ہے، لیکن عوام اپنی پرائیویسی کے خاتمے اور ٹریکر لگوانے پر آنے والی اضافی لاگت کی وجہ سے اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں۔ 

ذرائع کے مطابق سندھ کے محکمہ ٹرانسپورٹ نے پچھلے مہینے ایک سمری چیف سیکریٹری کو ارسال کی تھی کہ صوبے کی تمام موٹر سائیکلوں میں ٹریکر لگوانا لازمی قرار دیا جائے۔ یہاں سے یہ سمری سیکریٹری داخلہ کو گئی، جنہوں نے اس پر اپنے ریمارکس دیے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریکنگ ڈیوائس کی تنصیب کا نتیجہ شہریوں کی پرائیویسی پر سمجھوتے کی صورت میں نکلے گا، جو پہلے ہی حکومتی فیصلے کو تسلیم نہیں کر رہے۔ ٹریکنگ سروس کی انسٹالیشن شہریوں کو اضافی 4,000 سے 5,000 روپے کی پڑے گی، جس کی وہ مخالفت کر رہے ہیں۔ وزارت ٹرانسپورٹ تب بھی اس فیصلے پر جمی رہی۔  اس کا ہدف ٹریکر سروس کے ذریعے صوبے میں چوریوں کے واقعات کو گھٹانا ہے کیونکہ اس سے مجرموں کو پکڑنے میں متعلقہ حکام کو مدد ملے گی۔ 

ملک میں اس وقت افراطِ زر کی شرح بڑھ رہی ہے اور بالخصوص اس مرحلے پر عوام  کسی بھی قسم کا غیر ضروری مالی بوجھ برداشت نہیں کریں گے۔ پھر موٹر سائیکلیں عموماً لوئر-مڈل کلاس کی آبادی استعمال کرتی ہے کہ جن کے سفر کا یہ واحد ذریعہ ہوتی ہے۔ اور ان پر ایسی کسی سروس کو تھوپنا انہیں اضافی 5,000روپے کا پڑے گا جو اُن کے لیے کسی بھی طرح قابلِ قبول نہ ہوگا۔ پٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے قیمتوں پر 114 روپے فی لیٹر تک پہنچا دیا ہے، جس کی وجہ سے شہری پہلے ہی پریشانی کا شکار ہیں۔ ان حالات میں ٹریکر سروس کو لازمی کرنا ان پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہوگا۔ مزید برآں، اس سے شہریوں کی پرائیویسی پر بھی  سودے بازی ہوگی۔ کوئی بھی پرائیوٹ ٹریکر کمپنی جسے انسٹالیشن کا ٹھیکا ملتا ہے عوام کی تمام نجی معلومات تک رسائی حاصل کرے گی، جس کے استحصال کا خدشہ بھی ہے۔ ٹریکر انسٹالیشن کمپنیوں کی اکثریت کے معاہدے عوام کے لیے مفید بھی نہیں ہیں کیونکہ وہ چوری کی کوئی ذمہ داری نہیں لیتے، جو اُن علاقوں میں ہوتی ہیں جہاں GSM سگنل نہیں ہوتے۔ پھر ایک اور شرط جو عموماً ان کے معاہدوں میں پائی جاتی ہے کہ ٹریکر کمپنی کسی بھی چوری کی ذمہ دار نہیں۔ بلاشبہ یہ گاڑی کی بحالی کے عمل میں مدد دے گی۔ اگر ٹریکر ڈیوائس چلانے کے لیے موٹر سائیکل میں مکمل چارج شدہ اور چلتی ہوئی حالت میں بیٹری موجود نہ ہو تو بھی کمپنی کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ 

صوبائی دارالحکومت کے شہریوں کا ماننا ہے کہ شہر میں ٹریفک کے حالات پہلے ہی بدتر ہیں، اور انہیں ریلیف پہنچانے کے بجائے حکومت پیسہ بنانے کی پالیسیوں کے ساتھ ان پر مزید مالی دباؤ ڈال رہی ہے۔ چند نے اسے غریب کا قتلِ عام بھی قرار دیا۔ دوسروں کا ماننا ہے کہ سوشل میڈیا جیسی جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں حکومت کو کوئی بھی فیصلہ تھونپنے سے پہلے مختلف پلیٹ فارموں سے پہلے عوام کی رائے جاننی چاہیے۔ کیا حکومت کو یہ فیصلہ واپس لینا چاہیے یا منصوبے کے مطابق اس پر آگے بڑھنا چاہیے؟ اپنی رائے نیچے تبصروں میں پیش کیجیے اور مزید خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top