سوزوکی اگنِس: پاکستان کے لیے انتہائی موزوں مختصر گاڑی

Suzuki Ignis Feature

44 واں ٹوکیو موٹر شو زور و شور سے جاری ہے اور اس میں شامل جاپان کے تمام ہی کار ساز ادارے نت نئی گاڑیاں اور تصورات پیش کر رہے ہیں۔ ایک طرف ہونڈا اپنی منفرد تصوراتی موٹر سائیکلز کے ساتھ وہاں موجود ہے تو دوسری طرف یاماہا اپنی پہلے اسپورٹس کار بھی پیش کر رہا ہے اور ٹویوٹا دلچسپ S-FR اور انتہائی عجیب کیکائی تصور والی گاڑیاں بھی دکھا رہا ہے۔ جب تمام ہی جاپانی ادارے اپنے ملک میں ہونے والے سب سے بڑے آٹو شو کا لطف اٹھا رہے ہیں تو بھلا سوزوکی کیسے پیچھے رہ سکتا ہے۔

سوزوکی نے آج ٹوکیو موٹر شو 2015ء میں مختصر گاڑی ‘اگنِس’ کا تصوراتی ماڈل پیش کیا ہے۔ یاد رہے کہ اب سے کچھ ماہ قبل فرینکفرٹ آٹو شو میں سوزوکی نے بلینو کے نام سے بھی ایک گاڑی پیش کی تھی۔ سوزوکی ایگنس کی مجموعی لمبائی 3,679 ملی میٹر، اونچائی 1,579 ملی میٹر اور چوڑائی 1,478 ملی میٹر ہے۔ اس گاڑی کو جنوبی ایشیا بشمول بھارت، برطانیہ اور یورپ کی مارکیٹ میں 2017 سے پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

جاپانی کار ساز ادارے سوزوکی سے متعلق معلومات رکھنے والے حضرات کے لیے اگنِس کا عنوان نیا نہیں ہوگا۔ سال 2000 سے 2008 تک سوزوکی اسی نام سے ایک گاڑی تیار کرتا رہا ہے۔ اس بار سوزوکی نے پرانے نام کو استعمال کر کے شاید ان صارفین کی توجہ دوبارہ حاصل کرنا چاہی ہے جو ماضی میں سوزوکی اگنِس کے مداح رہے ہیں۔ نام کے علاوہ یہ گاڑی ہر طرح سے منفرد ہے البتہ اس کا خیال پہلے بھی جنیوا موٹر شو میں پیش کیا جا چکا ہے۔

سوزوکی نے اس کی خصوصیات پر مختصراً روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ باہر سے جذباتی انداز والی مختصر گاڑی کے اندرونی حصے کو روز مرہ زندگی کے معمولات کے مطابق بنایا گیا ہے جو اگنِس کو دلچسپ مختصر گاڑی کے زمرے میں شامل کرتی ہے۔

Suzuki Ignis Orange (1)

سوزوکی نے اس گاڑی سے متعلق تکنیکی معلومات فراہم نہیں کیں البتہ مختلف ذرائع سے حاصل ہونے والی خبروں کو مطابق اس میں 1200 سی سی ہائبرڈ انجن شامل کیا جائے گا جو سوزوکی ڈیول جیٹ انجن اور سوزوکی اسمارٹ ہائبرڈ وہیکل کی خصوصیات کا حامل ہوگا۔ اسے CVT گیئر باکس کے ساتھ پیش کیا جائے گا جس کے ساتھ اگلے پہیوں پر چلنے یا چاروں پہیے پر دوڑنے کی خاصیت بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔

ہم ماضی میں پاک سوزوکی کو بہت سی تجاویز دے چکے ہیں لیکن ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی اور وہ آج بھی دہائیوں پرانی گاڑی کو نیا کہہ کر بیچ رہے ہیں۔ لیکن ہم بھی حوصلہ ہارنے والے نہیں۔ ایک بار پھر ہم پاک سوزوکی کو مشورہ دیں گے وہ اس گاڑی کو پاکستان میں متعارف کروانے کے لیے سنجیدگی سے غور کرے کیوں کہ اس گاڑی کی بناوٹ، وضع قطع، خصوصیات اور قیمت دیکھ کر کہا جاسکتا ہے کہ یہ پاکستانی مارکیٹ کے لیے بنائی گئی ہے۔ یہ گاڑی ہائبرڈ ہونے کی وجہ سے کافی سستی پڑے گی۔ CVT کی وجہ سے اسے چلانا بھی آسان ہے۔ اور یہ ترقی پذیر ممالک میں سڑکوں کی خراب حالت کے لیے موزوں نظر آتی ہے۔ پاکستان میں شہروں کے مقابلے میں گاؤں میں زیادہ لوگ آباد ہیں اور جو شہروں میں رہتے ہیں ان کی بڑی تعداد گاؤں اور چھوٹے شہروں کا سفر کرتی رہتی ہے۔ لہٰذا سوزوکی ایگنس ایسے لوگوں کے لیے بھی قابل قبول ہوسکتی ہے اور اگریہ براہ راست مقامی ڈیلر فراہم کرے تو لوگ بخوشی خریدیں گے۔ اگر پاک سوزوکی نے ایک بار پھر ہماری تجویز کو نظر انداز کیا تو پھر آپ کو 2017 میں درآمد شدہ سوزوکی اگنِس سڑکوں پر چلتی نظر آنے لگیں گی۔

Top