ٹویوٹا انڈس – 2019ء کا 2018ء کے ساتھ ایک تقابل


پاکستان کی آٹوموبائل انڈسٹری کو 2019ء کے دوران ملک میں جاری اقتصادی سُست روی کی وجہ سے سنجیدہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ گزشتہ ایک سال میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں بڑی کمی دیکھی گئی جس نے گاڑیوں کی قیمت پر بہت بُرا اثر ڈالا۔حکومت کی جانب سے دیگر ایڈیشنل ٹیکس اور ڈیوٹیاں لگاے کی وجہ سے اس عرصے میں گاڑیوں کی قیمتیں حیران کُن حد تک بڑھ گئیں اور یوں آٹو سیکٹر میں گاڑیوں کی فروخت کو زوال آ گیا۔ صارفین کی قوتِ خرید کو سخت نقصان پہنچا کہ جس سے آٹو میکرز اپنی گاڑیاں فروخت کرنے میں مشکلات سے دوچار ہو گئے۔ نتیجتاً فروخت نہ ہونے والے یونٹس کی تعداد ہزاروں تک جا پہنچی اور کمپنیوں کو اپنی پیداوار روکنا پڑی۔ 

2019ء کے ہر مہینے کے تفصیلی اعداد و شمار نے پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں گاڑیوں کی فروخت میں واضح کمی کو ظاہر کیا۔ ٹویوٹا انڈس ملک میں کام کرنے والے بڑے جاپانی اداروں میں سے ایک ہے جو 2019ء کے پہلے 11 مہینوں میں مقامی طور پر تیار ہونے والی گاڑیوں کی فروخت میں پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 25.94 فیصد کی کمی کا شکار رہا۔ ٹویوٹا کرولا کمپنی کی فروخت میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے لیکن اس عرصے میں اس کی فروخت میں بھی واضح زوال آیا ہے۔ آٹومیکر جنوری-نومبر 2019ء کے دوران ٹویوٹا کرولا کے 38,427 یونٹس فروخت کر پایا جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں اس نے 49,858 یونٹس بیچے تھے۔ یہ مقامی مارکیٹ میں ٹویوٹا کرولا کی فروخت میں 22.92 فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ فروخت میں بڑی کمی کا مشاہدہ جولائی میں نئے مالی سال ‏2019-20ء کے آغاز پر دیکھا گیا۔ ٹویوٹا انڈس کے دوسرے ماڈلز بشمول ہائی لکس اور فورچیونر کو بھی 2019ء کے دوران مارکیٹ میں فروخت کرنے میں دشواری کا سامنا رہا۔ کمپنی سال 2019ء کے پہلے 11 مہینوں میں ہائی لکس کے 4,352 اور فورچیونر کے 1,832 یونٹس ہی فروخت کر پائی حالانکہ پچھلے سال کے اسی دورانیہ میں اس نے بالترتیب 6,735 اور 3,648 یونٹس بیچے تھے۔ ہائی لکس کی فروخت میں 35.38 فیصد کی کمی آئی جبکہ فورچیونر اس عرصے میں سب سے زیادہ متاثر رہی کہ جس کی فروخت میں 49.78 فیصد کا زوال آیا۔ واضح رہے کہ اس تحریر میں پیش کیے گئے تمام اعداد و شمار PAMA کی ویب سائٹ سے لیے گئے ہیں۔ 2018ء کے مقابلے میں 2019ء میں ٹویوٹا انڈس کار کی فروخت کی تمام تفصیلات نیچے دی گئی ہیں: 

ٹویوٹا کرولا: 

ٹویوٹا کرولا کے لیے اِس سال کا آغاز پچھلے سال کے مقابلے میں بہتر ہوا کیونکہ کمپنی نے جنوری 2018ءمیں 4,243 یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں جنوری 2019ء میں ٹویوٹا کرولا کے 5,353 یونٹس بیچے۔ البتہ مجموعی صورت حال جولائی میں نئے مالی سال ‏2019-20ء‎ کے آغاز سے بدلنا شروع ہو گئی۔ جولائی 2019ء کے دوران ہی کرولا کی فروخت میں واضح کمی آنا شروع ہو گئی اور تب سے اب تک یہ زوال پذیر ہی ہے۔ جولائی سے فروخت میں آنے والی یہ کمی امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی اور FED کے نفاذ کی وجہ سے کرولا کی قیمتوں میں آنے والے اضافے کی بدولت ہوئی۔ ٹویوٹا انڈس جولائی-2019ء میں کرولا کے صرف 1,981یونٹس ہی فروخت کر پایا حالانکہ پچھلے سال کے اسی مہینے میں اس نے 4,566 یونٹس بیچے تھے۔ جولائی -نومبر 2019ء کے دوران کرولا کی فروخت میں سال بہ سال کی بنیاد پر 55 فیصد سے زیادہ کمی ہے جیسا کہ مندرجہ ذیل ٹیبل میں دیکھا جا سکتا ہے: 

ٹویوٹا ہائی لکس: 

جون 2019ء اور نومبر 2019ء کے سوا باقی مہینوں میں سال بہ سال کی بنیاد پر ٹویوٹا ہائی لکس کی فروخت میں بڑی کمی دیکھنے کو ملی۔ سال 2019ءکی دوسری ششماہی کے مقابلے میں پہلے چھ مہینوں کا اگر 2018ء سے تقابل کریں تو کہیں بدتر تھے۔ فروخت کے حوالے سے بہترین مہینہ بھی جون تھا کہ جس میں ہائی لکس کے 747 یونٹس فروخت ہوئے۔ مجموعی طور پر جنوری-نومبر 2019ء کے عرصے میں ٹویوٹا ہائی لکس کے 4,352 یونٹس فروخت ہوئے، جو 2019ء کے 6,735 یونٹس کے مقابلے میں 35.3 فیصد کی کمی تھی۔ ٹویوٹا ہائی لکس کے مکمل اعداد و شمار پر ایک نظر ڈالیں:

ٹویوٹا فورچیونر: 

ٹویوٹا فورچیونر نے بھی اس سال اچھی کارکردگی نہیں دکھائی خاص طور پر اگر 2019ء کی پہلی ششماہی کا تقابل کیا جائے کہ جس میں دوسری ششماہی کے مقابلے میں کہیں کم یونٹس فروخت ہوئے۔ فروری 2019ء کے دوران آٹومیکر نے فورچیونر کے 332 یونٹس فروخت کیے، جو پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 80.4 فیصد زیادہ تھے۔ البتہ یہ 2019ء کے اب تک کے 11 مہینوں میں فورچیونر کا سب سے بہتر مہینہ بھی تھا۔ تب سے یہ کومپیکٹ SUV فورچیونر مسلسل زوال کا شکار ہے اور سال بہ سال کی بنیاد پر 50 فیصد سے زیادہ کمی کا شکار ہوئی۔ اس گاڑی کے مجموعی اعداد و شمار پچھلے سال کے اسی عرصے میں 3,648 یونٹس کی فروخت کے مقابلے میں 49.7 فیصد کمی کے ساتھ صرف 1,832 یونٹس تک پہنچ گئے ہیں۔

ٹویوٹا انڈس کی مجموعی فروخت میں ہر ماڈل کا حصہ: 

جیسا کہ ہم نے پہلے بتایا کہ کرولا اِس آٹو مینوفیکچرر کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی گاڑی ہے، جس نے 2019ء کے دوران مجموعی فروخت میں 86 فیصد کا حصہ ڈالا، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 3 فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب ہائی لکس اور فورچیونر نے اس سال فروخت میں اپنا حصہ معمولی طور پر کھویا ہے۔ 

2018ء کے مقابلے میں 2019ء کے دوران ٹویوٹا انڈس کاروں کی فروخت کے حوالے سے مکمل تفصیلات ظاہر کرنے والا یہ پائی-گراف دیکھیں: 

اپنی فروخت کو بہتر بنانے کے لیے کمپنی نے متعدد مہمات چلائیں لیکن مجموعی حالات تبدیل ہونا باقی ہیں۔ اس کے علاوہ آٹومیکر اپنی مقبول کرولا کے 1.3L ویرنٹس ختم بھی کرنا چاہتا ہے۔ اس کی جگہ ٹویوٹا یارِس کو دی جائے گی جو پہلے ہی سڑکوں پر بارہا ٹیسٹ مراحل سے گزرتے دیکھی گئی ہے۔ کمپنی 2020ء میں اپنی فروخت کی بحالی کے لیے پرامید ہے اور آٹو سیکٹر نئے مالی سال کے اختتام تک متحرک ہوجائے گا۔ اس وقت ٹویوٹا مارکیٹ میں کم طلب اور تیار گاڑیوں کے ذخائر جمع ہونے کی وجہ سے اپنی 50 فیصد سے بھی کم پیداواری گنجائش پر کام کر رہا ہے۔ پچھلے دو مہینوں میں خریداری کا رحجان بدستور کم رہا ہے کیونکہ صارفین اگلے سال کا انتظار کر رہے ہیں۔ البتہ لگتا ہے کہ 2020ء ایک مرتبہ پھر قیمتوں میں غیر منصفانہ اضافے کے ساتھ صارفین کا خیر مقدم کرے گا جیسا کہ پاک سوزوکی کے معاملے سے ظاہر ہے۔ کیا 2020ء کے آغاز پر آٹو سیکٹر کی کارکردگی کا گراف بڑھے گا؟ مقامی آٹو انڈسٹری کی کامیابی میں حکومت کا کردار اہم ہوگا۔ گاڑیوں کی قیمتوں کو ایک ریگولیٹری باڈی کی جانب سے کنٹرول کرنے کی ضرورت ہے تاکہ 2020ء میں فروخت بہتر ہونے کا کوئی امکان ہو۔ امید کرتے ہیں کہ سال کی تبدیلی پاکستان میں آٹوموبائل انڈسٹری کی قسمت بھی تبدیل ہونے کا سبب بنے گی۔ 

اپنے خیالات نیچے تبصروں میں پیش کیجیے۔ آٹوموبائل انڈسٹری کی کارکردگی کے حوالے سے اعداد و شمار پر مبنی ایسی ہی خبروں کے لیے پاک ویلز پر آتے رہیے۔


Google App Store App Store

Apart from being an Electrical Engineer by profession, he is an automotive content writer at PakWheels, a web designer and a photographer.

Top